Daily Mashriq


شہید جمہوریت بے نظیر بھٹوکے مقدمہ قتل کا فیصلہ

شہید جمہوریت بے نظیر بھٹوکے مقدمہ قتل کا فیصلہ

شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو کے مقدمہ قتل کا فیصلہ تقریباً دس سال بعد جمعرات 31اگست کو سنایا گیا ۔ فقیر راحموں کا نقد تبصرہ یہ ہے ۔ '' شہید رانی 10سال بعد دوبارہ قتل کر دی گئیں ۔ ان سے سیاسی سرگرمیاں محدود کرنے کو کہا گیا تو جواب تھا ''ذوالفقار علی بھٹوکی بیٹی موت سے نہیں ڈرٹی ''۔ کل جب راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ان کے مقدمہ قتل کا فیصلہ سنایا تو سال 2007ء کے تین ماہ اکتوبر ، نومبر اور دسمبر کے واقعات ترتیب وار یاد آئے ۔ اخبار کے لئے لکھے گئے کالم کے دامن میں گنی مشک کم ہوتی ہے سو مختصراً چند باتیں مکر ر عرض کرتا ہوں ۔ اعتزاز شاہ نامی جس ملزم کو چند دیگر ملزموں کے ساتھ کل عدالت نے بری کیا اس بارے اس کی گرفتاری کے وقت انہی کالموں میں عرض کیا تھا کہ اعتزاز شاہ جولائی یا ستمبر میں سوات سے گرفتار ہوا تھا ۔ گرفتاری کے بعد اس نے انکشاف کیا تھا اس کا ہدف وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پائو ہے ۔ اسے کس نے اور کس کے کہنے پر بے نظیر بھٹو کے قتل کے ایک کردار کے طور پر مقدمہ میں شامل کیا اس سوال کا جواب لمبی خامشی ہے ۔ وزرات داخلہ کے اُس وقت کے ترجمان بریگیڈیئر(ر) جاوید اقبال چیمہ نے 27اور 28دسمبر کی درمیان رات ہنگامی پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا '' ہمیں لیاقت باغ کے سٹیج کے قریب سے ایک غیر ملکی کی لاش ملی ہے تحقیقات جاری ہیں '' ۔ رات گئے اُس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے انہیں طلب کیا ۔ اگلے دن دوپہر کو منعقد ہ ایک اور پریس کانفرنس میں وہ پچھلی رات کے بیان سے مکر گئے حالانکہ اس بیان کی آڈیو ویڈیو ز ٹی وی چینلوں والوں کے پاس محفوظ تھیں ۔ 

شہادت والی شام کی صبح بے نظیر بھٹو سے اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی نے لگ بھگ ایک گھنٹہ ملاقات کی انہوں نے محترمہ سے کہا کہ وہ آج شام کے جلسہ عام میں اپنی شرکت کے فیصلے پر نظر ثانی کریں کیونکہ ان کے پاس ٹھوس معلومات ہیں کہ آج ان پر دوبارہ قاتلانہ حملہ ہو سکتا ہے ۔ بی بی نے اطلاع اور شفقت بھرے مشورے کا شکریہ ادا کیا اور اسی شام وہ اپنے لئے سجائے گئے مقتل کی طرف روانہ ہوگئیں ۔ ان کی شہادت کے بعد ان کالموں میں دستیاب معلومات کی بنیاد پر عرض کیا تھا کہ ، لیاقت باغ کے باہر ہوئی دہشت گردی کے واقع میں کرائے کے طالبان محض اس سازش سے توجہ ہٹانے کے لئے استعمال ہوئے ۔ بے نظیر بھٹو کو لیزر بیم سے نشانہ بنایا گیا ۔ لیزر بیم لگنے کے استعمال کی تصدیق روس کی خفیہ ایجنسی کے جی جی نے بھی عالمی پریس میں اس حوالے سے اُن دنوں جو باتیںشائع ہوئیں ان کے حروف جوڑ کر عرض کیا تھا کہ لیزر بیم گن عراق سے پاکستان پہنچائی گئی ممنوعہ ترین راستہ افغانستان تھا شاید اسی لئے جناب کرزئی نے اپنی اطلاعات محترمہ تک پہنچانے کا فرض ادا کیا ۔ دس سال قبل عرض کی گئی بات پر آج بھی قائم ہوں کہ جنرل کیانی کے رابطوں اور پھر امریکن وزیر خارجہ کی کوششوں سے ہونے والے این آر او کا مقصد بے نظیر بھٹو کو گھیر کر مستقل تک پہنچا نا تھا ۔ امریکی جولائی 1977ء کی طرح کا کھیل نئے انداز میں کھیلنے جارہے تھے افغانستان ایک بار پھر میدان جنگ بنا ہوا تھا اس لئے ضروری تھا کہ اگلے مرحلہ کے اقدام سے قبل پاکستان میں مقبول لیڈر شپ کو راستے سے ہٹا یا دیا جائے ۔ پچھلے دس برسوں کے دوران خطے اور بالخصوص پاکستان میں امریکی مداخلت کے اوراق اُلٹتے چلے جائیں ہر سوال کا جواب موجود ہے ۔ مکرر عرض کرتا ہوں ۔ طالبان بطور جماعت اس واردات میں شامل نہیں تھے چند کرائے کے طالبان جنہوں نے استعمال کئے ان منصوبہ سازوں کے مقامی سر پرست اعلیٰ پرویز مشرف تھے مگر جنرل کیانی کا کردار بھی مشکوک ہے ۔ یہاں کس میں جرات ہے کہ تحقیقات کرتا ۔ ایک آئی آر کی بنیاد پر اگر بے نظیر بھٹو کی طرف سے مارک سیگل کو بھیجی گئی ای میل کو قرار دیا جاتا تو اس کے بعد پنڈورا باکس کھلتا ۔ مارک سیگل کو بھیجی گئی ای میل ایف آئی آر کی بنیاد کیوں نہ بنی اس سوال کا جواب فقط تین آدمیوں کے پاس ہے اولاً جنرل پرویز مشرف ، ثا نیاً جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ثالثاً اس وقت کے سیکرٹری داخلہ ۔ مقامی تحقیقات کاروں نے تو مدرسہ حقانیہ تک سے سوالات کرنے کی جرات نہیں کی ۔ ہاں یہ پھلجڑی چھوڑی گئی کہ چونکہ بنفیشری زرداری ہے اس لئے قتل بھی اسی نے کروایا ہے ۔ توکیا اس سوال کی روشنی میں جنرل ضیاء الحق کے قاتل اعجاز الحق اور نواز شریف نہیں بنتے ؟ یہی تو بنفیشری تھے ۔ انسداد دہشت گردی کے فیصلے پرمجھے کم از کم کوئی حیرانی ہر گز نہیں استغاثہ تو چنا چور گرم جیسا بھی نہیں تھا ۔ ٹامک ٹویٹوں پر مشتمل استغاثے کا یہی حشر ہوتا ہے 2007ء سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی پچھلی برسی تک تو اتر کے ساتھ ان کی شہادت اور سازش کی کہانی کے حوالے سے ان کالموں میں مفروضات پیش کرتا آرہا ہوں ۔ امریکی سامراج اپنے مقامی غلاموں کی معاونت سے مقبول ترین لیڈرشپ کو راستے ہٹا کر ہی کٹھ پتلیوی کی دور میں ہوسکتا تھا ۔ سچ یہ ہے کہ امریکی اپنے مقاصد میں کامیاب رہے ۔ ہم اس ماحول میں رہ رہے ہیں کہ سازش کے کردار عیاں ہیں مگر تقدس کے پالے میں محفوظ ۔ ایک سوال ہمیشہ دریافت کیا آج بھی آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو ہنگامی صورتحال میں ریکسکیو کرنے کے لئے جو دوسری گاڑی ان کے قافلے کے ہمراہ ہوتی تھی اسے لے کر رحمن ملک اور بابر اعوان وغیرہ لیاقت باغ سے چلے کیوں گئے ؟ ۔ بے نظیر بھٹو کا خون خاک نشینوں کا خون رزق خاک ہوا پیپلز پارٹی کیا معاملاکرتی ہے یہ اُسے معلوم ہوگا ۔ فی الوقت یہ عرض کر سکتا ہوں کہ کچھ نہیں ہونے والا اس کی وجہ چند افرادکے گرد ''تقدس کا ہالہ '' ہے ۔ ورنہ ایک سادہ ساسوال دس سال سے سامنے رکھا ہے ''جس سازش اور استعمال شدہ وسائل بارے روسی کے جی بی کو علم تھا اس بارے ہمارا نمبر ون ادارہ کیوں کچھ نہ جان سکا ؟ '' ۔ بس دست دعا بلند کیجئے شہید بے نظیر بھٹو کے لئے کہ ہم مر ثیہ خوانی اور فاتحہ کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں