شکل قصاب کی دیکھے گا تو مر جائے گا

شکل قصاب کی دیکھے گا تو مر جائے گا

وہ جو اکثر رمضان اور عیدالفطر کے مواقع پر قوم دو بلکہ کبھی کبھی تین حصوںمیں تقسیم ہوجاتی تھی۔ اگرچہ عیدالاضحی کے موقع پر کم کم ہی ہوتا ہے بلکہ دستیاب معلومات کے مطابق شاید دو تین بار ہی ایسا ہوا کہ بڑی عید کا مزہ بھی اس تقسیم کی وجہ سے کرکرا ہو گیا تھا۔ تاہم مقام شکر ہے کہ اب کی بار عید قربان کے موقع پر قوم نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور پورے ملک میں ساری تقاریب ایک ساتھ منائی گئیں اور اب عیدالاضحی بھی ایک ہی دن منائی جا رہی ہے۔ تاہم بڑی عید کا تحفہ ہمیشہ عید کے بعد گوشت کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کی صورت میں عوام کو مل جاتا ہے۔ کیونکہ جب ذبح کرنے کے لئے جانور خریدنے لوگ منڈیوں کا رخ کرتے ہیں تو بیل' گائے' بھینس' دنبے' بکرے اس قدر مہنگے ہوتے ہیں کہ عام دنوں میں مارکیٹ ریٹ کے حوالے سے ان کی قیمت کو پرکھا جائے تو جن قیمتوں پر ان کو فروخت کیا جا رہا ہے ان سے کہیں کم دام ان کے ملنے چاہئیں۔ لیکن مسئلہ یہی ہے کہ جانوروں کے پالنے والوں سے لے کر سودا گروں' منڈیوں کے ٹھیکیداروں یہاں تک کہ قصائیوں کا سونا چاندی اسی موقع سے وابستہ ہوتی ہے اور یہی لمحات ہوتے ہیںجب عوام کی کھال اتارنے کے لئے ہر شخص اپنی اپنی چھریاں تیز کرکے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ حالانکہ چھری بظاہر صرف قصائی کے ہاتھ میں نظر آتی ہے مگر یہ سب لوگ اپنی آستینوں میں تیز ترین چھریاں پوشیدہ رکھے ہوتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں عمومی طور پر سندھ اور پنجاب کے برعکس گائے' بیل' بھینس اور دنبوں کی قربانی کرتے ہیں ' بکرے بھی ذبح کئے جاتے ہیں مگر نسبتاً کم کم' جبکہ پنجاب اور سندھ میں یا تو بڑے بڑے سیٹھ کئی کئی لاکھ کے طویل القامت اور فربہ بیل اور گائے ذبح کرتے ہیں یا پھر عام لوگ بکرے ذبح کرتے ہیں۔ یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ ہم پاکستان میں زندگی گزارتے ہیں اگر کہیں بھارت میں ہوتے تو ان دنوں جو حشر وہاں مسلمانوں کا گائے کو ذبح کرنے کی وجہ سے کیاجا رہا ہے وہ حال ہمارا بھی ہوتا یعنی بقول پروفیسر طہٰ خان

بھارت کی سرزمیں کا عجب انتظام ہے
جو اقتدار میں ہے بہت بے لگام ہے
انسان کو حلال کرو اذن عام ہے
البتہ جانور کا ذبیحہ حرام ہے
قربانی کا ایک پہلو اور بھی ہے اور وہ ہے کھالوں کا جمع کرنا۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ لوگ قصائیوں کے ساتھ جانور ذبح کرنے کا معاوضہ جانور کی کھال کی شکل میں طے کرلیتے ہیں جو اسلامی نکتہ نظر سے درست نہیں ہے' اس سے منع کیاگیاہے۔ اس لئے جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس حرکت سے ہاتھ کھینچ لیں۔ قصائی کو معاوضہ ادا کریں اور کھال ان لوگوں کو دیں جن پر زکواة واجب ہوتی ہے۔ اب تو ایسے خیراتی ادارے بھی کھمبیوں کی طرح اگ آئے ہیں جن میں کچھ تو یقینا جینوین ہوتے ہیں جو حقیقتاً ان کھالوں سے حاصل ہونے والی آمدن کو فلاحی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان رقوم کے حصول سے لے کر اخراجات تک کو دیگر مقاصد کے لئے کام میں لاتے ہیں۔ ان اداروں کو بعض سیاسی جماعتوں کی سرپرستی حاصل رہی ہے جو نہ صرف زور زبردستی' فطرہ' زکواة اور کھالیں وصول کرنے میں ملوث رہے ہیں بلکہ یہ رقوم بیرون ملک بعض افراد کی عیاشیوں کے لئے بھیجی جاتی رہی ہیں۔
اپنی قربانی میں رکھنا دوسروں کابھی خیال
مانگتے ہیں سارے خیراتی ادارے تیری کھال
تیری قربانی میں کچھ حصہ حکومت کا بھی ہے
گوشت اپنے گھر میں رکھ لے اوجھڑی نالی میں ڈال
قربانی کے مراحل طے ہونے کے بعد کھانے کھلانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اس حوالے سے طہٰ خان نے کیا کمال بات کی ہے' فرماتے ہیں۔۔۔
تکے بھی ہیں کباب بھی ہیں اور میںبھی ہوں
چاہو تو میری جان مرے کان کھائو تم
دنیا سے سرد جنگ کا تو خاتمہ ہوا
اب گرم جنگ ہونی ہے باہرنہ جائو تم
آپ نے اکثر ایسے کنجوس بھی دیکھے ہوں گے جن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ قربانی سے جان چھڑا کردوسروں کے گھروںسے آنے والے گوشت پر ہی گزارہ کریں۔ مگر آج کل کے بچے اتنے تیز ہیں کہ وہ رو دھوکر اور ضد کرکے ان کنجوس والدین کو قربانی کا جانور خریدنے پر مجبور کر ہی دیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کوئی لاغر اور کمزور سا جانور خرید کر بچوں کی ضد پوری کردیں۔ ایسے لاغر جانوروں کی صورتحال کے حوالے سے طہٰ خان نے بہت خوبصورت نظم کہی ہے جس کا عنوان ہے ''نا تواں بکرے کے حضور'' ملاحظہ کیجئے۔
اس نے دو لاتوں میں دھرتی پہ گرایا بکرا
ہم نے جب یار کے مرغے سے لڑایا بکرا
ناتواں کہتے ہیں مجنوں کا سگا کہتے ہیں
کوئی بتلائو کہ اس چیز کو کیاکہتے ہیں
ناطقہ ایسا کہ محشر کا گماں گزرے ہے
ہاضمہ ایسا کہ حلوہ بھی گراں گزرے ہے
خشک روٹی پہ بڑے زور سے پھنکارتا ہے
ناپسندیدہ کو یہ ناک سے دھتکارتا ہے
پہلے پھنکار کے بزدل نے اڑایا بھوسا
سبز عینک جو لگائی ہے تو کھایا بھوسا
نالہ نیم شبی اس کا فلک پار کرے
خواب غفلت سے مگر قوم کو بیدار کرے
شکل قصاب کی دیکھے گا تو مر جائے گا
''مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائے گا''

اداریہ