مسائل کی دلدل

مسائل کی دلدل

وطن عزیز کے حالات دیکھ کر ذہن میں خیال آتا ہے کہ آخر یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا آپ اسے زندگی کی کہانی کا ایک منظر ہی سمجھ لیں قوموں کی زندگی میں ایسے واقعات آتے رہتے ہیں ہمیں امید کی شمع روشن رکھنی چاہیے سفر جاری ہے اور زندگی بڑی روانی اور تسلسل کے ساتھ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے دنیا کے ہنگامے ،حالات کا اتار چڑھائو، خوشی و غم کی آنکھ مچولی ، یہ سب کچھ زندگی کے ساتھ جڑا ہوا ہے دنیا میں عجیب و غریب اور حیران کن کھیل کھیلے جاتے ہیں کچھ لوگ دنیا کے بازار میں بک جاتے ہیں اور کچھ لوگ دنیا کو بڑی حقارت سے ٹھکراتے ہوئے ایک ادائے بے نیازی کے ساتھ آگے بڑھ جاتے ہیں اور اسی سے انسان کی قیمت کا تعین ہوتا ہے گوتم بدھ نے کہا تھا کہ انسان چار طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ لوگ جو زندگی کے دھارے کے ساتھ بہتے رہتے ہیں جن حالات میں پیدا ہوتے ہیں یا اپنے ارد گرد جو کچھ دیکھتے ہیں اسی پر اکتفا کرتے ہوئے زندگی گزاردیتے ہیں۔ایک وہ لوگ ہیں جو زندگی کے دھارے کے خلاف تیرتے ہیں یہ اپنے اردگرد رونما ہونے والے واقعات کو بڑے غور سے دیکھتے ہیں ان پر سوچ بچار کرتے ہیں جو چیزیں ناقابل قبول ہوتی ہیں انھیں مسترد کردیتے ہیں اور اس راہ میں انھیں جن تکالیف جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے انھیں کمال مردانگی سے برداشت کرتے ہوئے ان کا مقابلہ کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے معاشرے کو بدل دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں ۔تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو زندگی کے دھارے میں اپنا مقام بنا کر جم جاتے ہیں یہ اعتماد کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں یہ جانتے ہیں کہ انھوں نے اپنے لیے سیدھے راستے کا تعین کرلیا ہے اس لیے یہ اپنے نصب العین سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹتے ان کے قدم اپنی منزل کی طرف اٹھتے ہوئے کبھی بھی نہیں ڈگمگاتے ،چوتھی قسم کے لوگ وہ ہیں جو اپنی زندگی ہی میں موت اور زندگی کے دونوں دھاروں کو عبور کرکے اتھاہ آسودگی کے خشک کنارے پر پہنچ جاتے ہیں۔گوتم بدھ نے انسانوں کی جو اقسام بتائی ہیں ان میں کہیں پہلی قسم تو ہم پر صادق نہیں آتی؟ کیا ہم زندگی کے دھارے کے ساتھ تو نہیں بہہ رہے؟ہم نے اپنی کمان دوسروں کے ہاتھ میں تو نہیں دے رکھی ؟ اور اگر ایسا ہے تو پھر یہ بھی سن لیجیے کہ زندگی کے دھارے کے ساتھ بہنے والوں کا ایک المیہ ہوا کرتا ہے ان کی اپنی سوچ کے سوتے خشک ہو جاتے ہیں ان سے زندگی کی پر خطر راہوں پر پھر نہیں چلا جاتا وہ دنیا کے بازار میں اپنا آپ نہیں منواسکتے اپنا ہونا ثابت نہیں کرسکتے ان کا اپنا وجود کوئی معنی نہیں رکھتا وہ صرف سائے ہوتے ہیں اس حوالے سے اگر ہم اپنے گریباں میں جھانکیں تو کوئی اچھی تصویر بنتی نظر نہیں آتی ایک آزاد قوم کی حیثیت سے جو ہمارے فرائض تھے وہ ہم نے بھلا دیے جو ہمیں کرنا چاہیے تھا وہ ہم نے نہیں کیا آج آزادی کے اتنے برسوں بعد بھی ہماری کشتی بیچ منجدھار ڈول رہی ہے ہم ابھی تک اپنے لیے کسی منزل کا تعین نہیں کرسکے ایک ایسا نظام تشکیل نہیں دے سکے جس کے مطابق زندگی گزارتے ابھی تک اداروں پر سوال اٹھ رہے ہیں قومی یکجہتی کی منزل سے ہم کوسوں دور ہیں سب کچھ بکھرا ہوا ہے ایک غیور قوم کا طرز زندگی ہم آج تک نہیں اپنا سکے ہم نے چند روزہ اقتدار کے لیے غیرت قومی کو بیچ ڈالا ہم اب تک ایک مثالی معاشرے کی تشکیل نہیں کرسکے جو مسائل ہمیں آزدی سے پہلے ورثے میں ملے وہ اب پہلے سے کئی گنا بڑھ چکے ہیں ہم نے آزادی کی بہت بھاری قیمت ادا کی ہے ہم نے اپنے حق کے لیے آواز بلند کی تھی ہمیں غیروں سے بہت سے گلے شکوے تھے لیکن ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے کہ ہمارے وہی گلے شکوے ہنوز باقی ہیں یہاں انسانی حقوق کی بالادستی کا نام و نشان بھی نہیں سستے انصاف کا حصول ہمارے لیے آزادی کے اتنے بہت سے برسوں کے بعد بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے غربت ہمارے لیے آج بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے امیر امیر تر ہوتے چلے جارہے ہیں اور غریب خودکشیاں کرنے پر مجبور کردیے گئے ہیں اب تک پاکستان میں بننے والی ہر حکومت نے غربت مٹانے کا دل موہ لینے والا نعرہ لگایا کیونکہ یہ نعرہ ہر حکومت کی ضرورت رہا ہے غریب عوام یہ نعرہ سن کر پر امید ہوجاتے ہیں کہ شاید اب ان کا مقدر بدل جائے اب انھیں بھی غربت کے عفریت سے نجات مل جائے گی وہ بھی اپنی چند روزہ زندگی امن و سکون کے ساتھ گزار سکیں گے لیکن غربت مٹائو کا یہ نعرہ ہمیشہ نعرہ ہی رہا عوام بیچارے ہر نام نہاد رہنما کی چکنی چپڑی باتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ چل پڑتے ہیں لیکن آخر میں انھیں منہ کی کھانی پڑتی ہے جب نعمتوں کی تقسیم کا وقت آتا ہے تو عوام کی جھولی خالی ہی رہتی ہے انھیں سبز باغ دکھانے والے سب کچھ سمیٹ کر اپنی راہ چل پڑتے ہیںاور یہ ہمیشہ ان کا منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں ہماری قیادت نے ہمیں ہمیشہ مایوس ہی کیا ہم اس دنیا سر اٹھا کر جینے کے قابل نہیں رہے یہی بے انصافیاں اور ہماری معاشرتی ناہمواریاں ہیں جنہیں ہم نے دور کرنا تھا لیکن ہم یہ سب کچھ نہ کرسکے ہم پلازے بناتے رہے اپنا بینک بیلنس غیروں کے بینکوں میں جمع کرتے رہے اور وہ ہماری دولت کو استعمال کرکے اپنی معیشت مضبوط کرتے رہے ہم نے چند روزہ اقتدار کو ہی سب کچھ سمجھ لیا ہمیں ہم کھلی آنکھوں سے اقتدار کی بے ثباتی کو دیکھتے رہے لیکن ہم نے حکمرانوں کے عبرت ناک انجام سے کوئی عبرت حاصل نہیں کی ہم نے اپنے معاشرے کو امن و سکون کا گہوارہ بنانا تھا اپنے عوام کو خوف و خطرے سے آزاد ماحول دینا تھا انھیں بھوک سے نجات دلانی تھی لیکن ہم انھیں یہ سب کچھ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ اپنے حکمرانوںکی پرتعیش زندگی ان کے محلات دیکھ کر غریب آدمی سوچتا ہے کہ ان کے ساتھ کون سا کھیل کھیلا جارہا ہے ۔

اداریہ