افغان جنگ اور پاکستان

افغان جنگ اور پاکستان

ٹرمپ کے امریکی صدر بننے اور امریکی انتخابات کے نتائج کے خلاف احتجاج ہونے کے بعدجب ٹرمپ نے باقاعدہ طور پر صدارت کا عہدہ سنبھالا تو اس وقت سے لے کر نئی افغان پالیسی کے اعلان تک پوری دنیا اسی انتظار میں تھی کہ کب نئے صدر اپنی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہیں ۔ اس انتظار کی ایک اہم وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی انتخابی مہم کے دوران سابق صدر اوبامہ کی افغان پالیسی پر بے تحاشہ تنقید اور اپنے دور ِ صدارت میں افغان جنگ کے اختتام کے دعوے تھے لیکن پچھلے دنوں 'نئی افغان پالیسی ' کے اعلان کے بعد انتخابی مہم کے دوران کئے گئے ٹرمپ کے دعوئوں کی قلعی کھل گئی ہے۔اس پالیسی کے تحت جہاں ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی افواج نکالنے کی بجائے 4000 نئے امریکی فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے وہیں پر پاکستان پر بھی بہت سے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ نئی افغان پالیسی پر پاکستان کے سیاسی ، سماجی اور سفارتی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جارہی ہے جس کی وجہ سے پاک۔امریکہ تعلقات اس وقت کشیدگی کاشکار ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی جانے والی نئی افغان پالیسی کا مرکزی نکتہ یہ کہ امریکہ 16 سال سے جاری افغان جنگ کو عسکری طریقوں سے ختم کرسکتا ہے ۔ اس پالیسی کے حق میں بات کرنے والے ماہرین کے مطابق امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان کے موجودہ حالات اور جنگ کی طوالت طالبان کو تھکا دے گی جس کی وجہ سے طالبان مریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائیں گے یا کم از کم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر بامعنی مذاکرات کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ دوسری جانب اگر طالبان کے نقطہِ نظر سے دیکھا جائے تو طالبان اس وقت پہلے سے زیادہ افغان علاقوں پر قا بض ہیں اور مستقل حالتِ جنگ میں رہنے کی وجہ سے پہلے سے زیادہ سخت جان اور اپنے موقف پر پکے ہوچکے ہیں۔ طالبان امریکی اور افغان سیکورٹی فورسز کی طرح تھکاوٹ کا شکار نہیں ہیں بلکہ امریکی اور افغان فورسز کی ناکامیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مزید فتوحات حاصل کررہے ہیں۔دوسری جانب اگر امریکی اور افغان سیکورٹی فورسز کی سٹریٹجی کو دیکھا جائے تو اس کا حلقہ ان شہروں اور قصبوں پر اپنا قبضہ مضبوط کرنے تک محدود ہے جو ان کے پاس موجود ہیں اور اپنے قبضے کو دیہی علاقوں تک پھیلانے کی کوشش بھی اس سٹریٹجی کا حصہ ہے۔ یہ وہ پالیسی ہے جس پر وہ پچھلے سولہ سال سے عمل کررہے ہیں اور پچھلے سولہ سال سے ہی ان شہروں اور قصبوں کو طالبان کے پے در پے حملوں سے بچا رہے ہیں۔ جب بھی طالبان نے افغان حکومت کے زیرِ نگین کسی بھی ضلعی ہیڈکوآرٹر یا شہر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے تو اس کوشش کو افغان اور امریکی سیکورٹی فورسز کی جانب سے ناکام بنا دیا گیا ہے لیکن اس کوشش میں امریکی اور افغان سیکورٹی فورسز کو بہت سا جانی ومالی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔ افغان طالبان کا نظریہ افغان حکومت اور اس کے غیر ملکی حمایتو ں کے بارے میں ایک ہی ہے جن میں امریکہ سرِ فہرست ہے۔ طالبان افغان اتحادی حکومت کو بھی اپنا اسی طرح دشمن سمجھتے ہیں جس طرح امریکہ کو۔ اسی طرح طالبان بھی یہ سمجھتے ہیںکہ امریکہ افغان جنگ نہ جیتنے کی وجہ سے تھک ہار کر افغانستان سے نکل جائے گا کیونکہ طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں امریکہ کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ اگرامریکہ افغانستان کی تاریخ کو غور سے دیکھے تو اسے معلوم ہوگا کہ افغان وہ قوم ہے جنہوں نے برطانوی راج کو دو دفعہ اپنی سرزمین سے مار بھگایا ہے اور یہ صرف دو دہائی قبل کی بات ہے جب افغانیوں نے ایک سپر پاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا۔امریکہ ان سپرپاورز کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے جو افغان قوم کے ہاتھوں رسوا ہوچکے ہیں ۔ اگر امریکہ نے صورتحال کا ٹھیک اندازہ لگایا ہوتا توصدر ٹرمپ کبھی بھی افغانستان میں مزید امریکی فوجی بھیجنے کا اعلان نہ کرتے۔ دوسری جانب اگرافغان طالبان اس جنگ میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پورے خطے میں طالبان جیسی بہت سی دیگر شدت پسند تنظیموں کی کاروائیوں میں تیزی آ جائے گی جن سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔ امریکہ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ میں بُری طرح پھنس چکا ہے اور ابھی تک اس جنگ کے خاتمے کی دوردور تک کوئی امید نظر نہیںآرہی ۔ امریکہ جب تک صورتحال کا ٹھیک سے ادراک نہیں کرتا اور یہ نہیں سمجھ لیتا کہ افغان جنگ کا عسکری حل ممکن نہیں اس وقت تک وہ اسی طرح افغانستان میں کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے علاوہ جانی نقصان بھی اٹھاتا رہے گا۔ اگرچہ اس وقت افغان اور پاکستانی سیکورٹی فورسز اور عام عوام کے جانی نقصان کے بارے میں کوئی نہیں سوچ رہا لیکن جیسے ہی اس جنگ کے بادل چھٹیں گے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ دونوں ممالک میں ہزاروں معصوم لوگ اس جنگِ لاحاصل کی نذر ہوچکے ہیں ۔ اس لحاظ سے اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ افغان جنگ جیتنے کے لئے فوج پر انحصار میں اضافہ کوئی نئی بات نہیںہے ۔

اداریہ