Daily Mashriq


قربانی یا نمودو نمائش!!

قربانی یا نمودو نمائش!!

ایک ننھا منا سا لفظ 'عید'جب ادا کیا جاتا ہے تولبوں پر مسکا ن کے پھول کھل جاتے ہیں۔عیدالفطر ہو یا عید الاضحی یہ دونوں ہی دن اسلام میں تہوار اور خوشی منانے کے دن ہیں ۔ عیدالاضحی جو ہزاروں سال بعد بھی سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرتی ہے اور بنی نو ع انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اللہ کے اس نبی نے اپنے حلم حقیقت آشکار میں جب مسلسل اپنی سب سے عزیز اور سب سے محبوب چیز کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کی وحی پر تدبر کیا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ اشارہ ان کے بڑھاپے میں تولد ہونے والے حسین و جمیل ننھے بیٹے کی طرف ہے جس نے حال ہی میں توتلی زبان میں بولنا شروع کر کے معمر والد کے دل کے نہاں خانے میں حد سے زیادہ پیار والی جگہ بنائی تھی اور یوں اللہ کے اس نبی کو جنہیںابوالانبیایعنی نبیوں کا والد کہا گیا ہے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کر دینے کا حکم ہوا ۔جب والد نے اس ننھے بچے پر خواب میں ملنے والے حکم ربانی کا احوال بیان کیا تو اس کمسن نبی زادے کا جواب بھی شانِ انبیاء کا آئینہ دار تھا یعنی انہوں نے بھی بخوشی اپنی جان کا نظرانہ راہ حق میں نثار کرنے پر آمادگی کا اظہار کر لیا ۔البتہ ایک احتیاط کی التجا ضرور کی کہ بابا جان مجھے قربان کرتے وقت الٹا لٹا ئے گا، مبادامیرا چہرہ دیکھ کر آپ کا ہاتھ کانپ اٹھے ۔روایت ہے کہ ابوالانبیاء نے اپنی آنکھوں پر بھی سیاہ پٹی باندھ لی اور اپنی سب سے زیادہ عزیز چیز یعنی لخت جگر کے حلقوم پر چھری چلا دی ۔ہاطف غیبی کی آواز آئی تمہاری قربانی قبول ہو گئی ۔آنکھیں کھول کر دیکھا تو مذبحہ کے چبوترے پر ذبح شدہ دنبہ پڑا تھا ۔متبسم نور نظر کچھ فاصلے پر کھڑا تھا ۔

اس سے بڑی عید اور کیاہو سکتی ہے ،نہ صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام 'حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ام انبیاء بی بی ہاجرہ کے لئے بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے بھی۔ عید قرباں پر ہر سال کی طرح اس سال بھی دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان اللہ کے حضور جانوروں کی قربانی کر کے سنت ابراہیمی کو تازہ کریں گے ۔ایک مرتبہ صحابہ کرام نے حضور اکرم ۖ سے پوچھا ''یہ قربانی کیا ہے؟ آپ ۖ نے ارشاد فرمایا کہ ''یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم کی سنت ہے''۔

قربانی کے لئے جانور کے انتخاب کے وقت یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ قربانی کو ایک بوجھ یا دکھاوا نہ بنایا جائے بلکہ اپنی حیثیت کے مطابق اچھے سے اچھے جانور کے انتخاب میں کوئی ہچکچاہٹ محسو س نہ کی جائے ۔عید قرباں کا مطلب صرف جانوروں کا خون بہانا ، گوشت تقسیم کرنا اور کھانا ہی نہیں کہ اللہ کو تو نہ ہی جانوروں کے خون کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی گوشت کی بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی دینے والے کے تقوی اور جانثاری کے وہ کے جذبات پہنچتے ہیںجو ہمارے دل میں پیدا ہوں ۔اگر قربانی کرتے وقت ہمارا مقصد محض اللہ کی خوشنودی اور اجرو ثواب کا حصول ہے تو اس کا صلہ ملے گا ۔لیکن اگر کوئی شخص اپنی دولت کی نمائش اور دوسروں کے مقابلے کی غرض سے قربانی دیتا ہے تو اس کا کچھ صلہ نہ ملے گا ۔

لیکن افسوس ! آج معاشرے کی صورتحال یکسر بدل گئی ہے اور بہت سے لوگ صرف دکھاوے کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ کر مہنگا جانور خریدتے ہیں اور اوپر سے جانوروں کی منڈی میں بھی مہنگے ترین جانوروں کے لئے الگ سے وی آئی پی بلاکس بنا دئیے جاتے ہیںاور خوب سجاوٹ اور تیز روشنیوں کے ساتھ ان مہنگے ترین جانوروں کوان وی آئی پی بلاکس میں کھڑا کر دیا جاتا ہے ان کی قیمتیں لاکھوں میں ہوتی ہیں اور جو کوئی ان کو خرید کر لے جاتا ہے تو وہ پھر اپنے گھر کے سامنے نمائشی ٹینٹ لگا دیتا ہے تاکہ آنے جانے والے لوگ ان جانوروں کا دیدار کریں اور ان کے ذوق کی داد دیں۔ قربانی کی آڑ میں ایسے لوگوں کا مقصد صرف عزیز و اقارب ، دوستوں ،محلے داروں میں صرف اپنی دولت کی نمائش کرنا ہوتا ہے نہ کہ اللہ کی رضا کا حصول ۔اب زیادہ تر لوگوں کے نزدیک قربانی کا مقصد محض 'دکھاوا'رہ گیا ہے اور پھر گوشت کو تقسیم کرتے وقت اور اس کے حصے کرتے وقت بے انصافی سے کام لیا جاتا ہے ۔

ناپ تول کے بغیر ہی حصے کر دئیے جاتے ہیں اور زیادہ والا حصہ گھر کے لئے رکھ دیا جاتا ہے جبکہ ہڈیاں وغیرہ غریبوں میں تقسیم کر کے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔آج اس مہنگائی کے دور میں کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی جیب یہ گنجائش نہیں دیتی کہ جن کی جیب یہ گنجائش نہیں دیتی کہ وہ اپنے بچوں کے لئے گوشت خرید سکیں ۔ہمیں چاہئے کہ ہم ان لوگوں کو اپنی خوشیوںمیں نظر انداز نہ کریں اور قربانی کرتے وقت ہمارا مقصد نمودو نمائش کے بجائے اللہ کی رضااور خوشنودی کا حصول ہو۔گوشت کی تقسیم کے وقت ایسے عزیز و اقارب ، دوستوں ،محلے داروں کو مد نظر رکھنا چاہئے جو اس سال قربانی سے محروم رہے ہوں۔عیدالاضحی مسلمانوں کے لئے خاص تحفہ خداوندی ہے ۔اس کی قدر کیجئے اور دوسروں کا حق مارنے اور نمودو نمائش کی نظر نہ کریں اور اپنے اندر تقویٰ ،وفاداری ، ایمانداری،جانثاری کے جذبات پیدا کرنے کی کوشش کریں۔

متعلقہ خبریں