Daily Mashriq


امریکہ کو دو ٹوک جواب

امریکہ کو دو ٹوک جواب

وزیراعظم عمران خان نے امریکہ کے بارے میں جس لب ولہجے میں بات کی ہے ان کا لب ولہجہ روایتی نہیں بلکہ غیر روایتی اور بڑی حد تک غیر ضروری طور پر سخت ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پاکستان امریکہ سے مناسب لب ولہجے میں اور برابری کی بنیاد پر بات چیت کے خواہاں ہونے کا اظہار کرتا آیا ہے۔ ہم نے اس قسم کی بات پہلے بھی کی ہے اور مختلف ادوار حکومت میں ایسا ہوتا رہا ہے تاہم موجودہ وزیراعظم کا اظہار زیادہ واضح اور براہ راست ہے۔ عمران خان کے لب ولہجے میں تبدیلی کی فوری وجہ امریکی وزیرخارجہ اور عمران خان کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے مندرجات کے حوالے سے اٹھنے والا معاملہ ہے یا پھر جس دو ٹوک لب ولہجے اور بات چیت کا دعویٰ امریکی وزارت خارجہ کر رہی ہے وزیراعظم اس کا جواب دے رہے تھے۔ اس بارے دوسری رائے نہیں کہ من حیث القوم پاکستانی عوام اب امریکہ سے دو ٹوک بات چیت کے خواہاں ہیں۔ عوامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو عمران خان نے پاکستانی قوم کے دلی جذبات کی ترجمانی کی ہے لیکن سفارتی دنیا کی حقیقتیں جذبات کو جتنا سرد اور لب ولہجے کو جتنا لوچ دار رکھا جائے وہ ہی مصلحت کا تقاضا سمجھا جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں وزیراعظم کا امریکہ سے جوہری تنازعے پر ایران کی صریح الفاظ میں حمایت کا اعلان بھی امریکہ کو بڑا واضح پیغام ہے۔ اس پیغام رسانی میں وزیراعظم نے خود پاکستان کے بڑے اہم دوست ملکوں کے جذبات کا بھی خیال نہیں رکھا جن کی رعایت ضروری تھی۔ محولہ دونوں صورتحال کے تناظر سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان اب امریکہ سے تعلقات کے حوالے سے انتہا پر ہے اور اب ایسا لگتا ہے کہ ہماری قیادت سوچ سمجھ کر پالیسی کو ایک واضح رخ دینے کا تہیہ کر چکی ہے۔ اس کے نتائج وعواقب مختلف قسم کے دباؤ سمیت ہر قسم کے حالات کیلئے تیار ہے اور امریکہ کو یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اب پاکستان پرانی شرائط پر امریکہ کیساتھ چلنے کو تیار ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ایک نہ ایک دن ہمیں اسی نتیجے ہی پر پہنچنا تھا بلکہ اس نتیجے پر تو ہم بہت پہلے پہنچ چکے تھے صرف اس کا صریح لفظوں میں اظہار باقی تھا وگرنہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی تبدیل ہوتی صورت اور دونوں ممالک کے مختلف معاملات میں اختلافات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ عمران خان جہاں خارجی طور پر ایک واضح پوزیشن لینے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں وہاں داخلی طور پر بھی وہ ایک عزم صمیم کیساتھ لوٹی ہوئی قومی دولت کی وصولی کیلئے پرعزم ہیں۔ اتفاق سے پوری قوم اس ضمن میں بھی وزیراعظم ہی کی ہم خیال اور اس امر کی متمنی ہے کہ وطن عزیز میں حقیقی معنوں میں اور ایسا بلاامتیاز احتساب ہو جس میں شک وشبہ کی گنجائش نہ ہو۔ وزیراعظم نے اس امر کا بہرحال عندیہ دیا ہے کہ بدعنوان عناصر پر ہاتھ ڈالا جا رہا ہے۔ محولہ دونوں عزائم اور اقدامات کی تکمیل میں عوام کی غالب ترین اکثریت کا حکومت کے اقدامات کی بھرپور تائید وحمایت کا ہونا شک وشبہ سے بالاتر امر ہے۔ احتساب کے عمل کو اگر حکومت بلاامتیاز بنائے اور کسی اور رعایت کے بغیر احتساب ہوتا نظر آئے تو عوام کی اکثریت اس کا دل سے خیر مقدم کرے گی۔ البتہ دوسری جانب اس سے حکومت کو سیاسی دباؤ کا بہرحال سامنا ہوگا۔ یہ ایک مشکل کام ضرور ہے لیکن پورے عزم' خلوص اور دیانتداری شامل حال ہو تو ناممکن نہیں۔ اس ضمن میں مکمل کامیابی کی امید ہی حقیقت پسندانہ نہ ہوگا۔ جزوی کامیابی بھی بڑی کامیابی متصور ہوگی۔ جہاں تک امریکہ سے تعلقات کا سوال ہے یہ وزارت خارجہ کا امتحان ہوگا کہ وہ عوام اور وزیراعظم کی خواہشات کو اپنی مصلحتوں میں کسی حد تک کھپا پائے گی اور سفارتی سطح پر یہ کس حد تک ممکن بنایا جائے گا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں توازن کیساتھ بہتری آئے۔ امریکہ کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ اب اس کو پاکستان کے حوالے سے لب ولہجہ کیساتھ ساتھ عملی طور پر بھی ایک ایسی قیادت کیساتھ معاملات طے کرنا ہے جو مصلحت پسند نہیں بلکہ صاف گو اور براہ راست موقف کا واضح اظہار کرنے کی حامل ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کے بھارت اور پاکستان آمد سے قبل پاکستان نے نہ صرف اس کیساتھ تعلقات کے حوالے سے اپنا مدعا واضح طور پر سامنے رکھا بلکہ خطے میں امریکہ کے دیگر ممالک کیساتھ اس کے تعلقات میں بھی اپنی پالیسی کا واضح اظہار کیا۔ اس تناظر میں اگرچہ سخت حالات بھی غیر متوقع نہیں لیکن جرأتمندی کیساتھ ملکی پالیسی وضع کرنے کا جو موقع اب آیا ہے اس کا قوم کو برسوں سے انتظار بھی تھا اور وہ اس سے پیدا شدہ متوقع حالات کیلئے تیار بھی تھی۔ خطے میں بدلتے حالات کے تناظر میں یہ تبدیلی ناقابل برداشت نہیں بلکہ مشکلات کے باوجود صورتحال کا مقابلہ ممکن ہوگا جس کیلئے حکومت اور عوام دونوں کو تیار رہنا چاہئے۔ ویسے بھی امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں جو اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے اس کا منطقی انجام یہی ہونا تھا۔ بعید نہیں کہ دونوں ممالک اپنے اپنے طرزعمل پر نظرثانی کرتے ہوئے تعلقات بہتر بنائیں جس کی دونوں کو اپنی اپنی جگہ بہرحال ضرورت تو مسلمہ ہے۔ امریکہ کو خطے میں پاکستان سے جو تعاون مطلوب ہے بداعتمادی اور دھونس دھاندلی کے ذریعے اس کا حصول ممکن نہیں۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ پاکستان کیساتھ اعتماد کی فضا میں اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات کرے۔ ڈومور کی گردان کا اعادہ نہ کرے بلکہ مل بیٹھ کر معاملات کا حل تلاش کیا جائے تاکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی ضرورتوں کو سمجھ سکیں اور تعاون کی بہتر راہ نکل آئے۔

متعلقہ خبریں