صوبائی وزیر بلدیات نوٹس لیں

02 ستمبر 2018

صوبائی دارالحکومت پشاور کے مکینوں کو حکومت سے توقعات فطری امر ہیں۔ پینے کا صاف پانی اور صفائی کی ناقص صورتحال شہریوں کے دیرینہ حل طلب مسائل ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کیلئے گزشتہ حکومت نے صفائی کا انتظام باقاعدہ کمپنی بنا کر اس کے حوالے کر دیا مگر اس کے باوجود شہریوں کی شکایات کا ازالہ نہیں ہو سکا۔ شہر کے بعض حصوں کو دوبارہ پی ڈی اے کے حوالے کر دیا گیا لیکن اس کے باوجود بھی ڈبلیو ایس ایس پی کی کارکردگی میں بہتری نہیں آئی جبکہ پی ڈی اے کی کارکردگی تسلی بخش تو نہیں لیکن قدرے بہتر ہے۔ نومنتخب حکومت کی کابینہ کے اراکین کو محکمے تفویض کئے جا چکے ہیں اور عوام کو بجا طور پر توقع ہے کہ وزیر بلدیات اس پر توجہ دیں گے۔ شہریوں کی عمومی رائے یہ ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پی کی شہر میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے اور شہر کی صفائی کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات توقعات کے برعکس ہیں۔ واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی کی کارکردگی اور سابقہ میونسپل کارپوریشن کے شعبہ صفائی سے زیادہ مختلف نہیں۔ ہماری تجویز ہوگی کہ صوبائی وزیر بلدیات شہر کا اچانک دورہ کرکے صحت وصفائی کی صورتحال کا جائزہ لیں۔ اگر وہ اندرون شہر کی گلیوں میں جانے کے متحمل نہیں ہو سکتے تو نسبتاً بہتر علاقوں ہی کا دورہ کرکے دیکھیں تو شنیدہ کہ بود مانند دیدہ کے مصداق ان کو صورتحال کا ازخود علم ہو جائے گا۔ صوبائی وزیر بلدیات کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کیلئے اربوں روپے وصول کرنے والی کمپنی کی انتظامیہ سے باز پرس کرے اور صوبائی خزانے سے خرچ ہونے والی اس خطیر رقم کے استعمال اور عوامی مفاد میں بروئے کار لائے جانے کو یقینی بنانے پر توجہ دے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وزیر بلدیات شہر میں صفائی ونکاسی آب کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا سخت نوٹس لیں گے اور محکمہ بلدیات کے اعلیٰ حکام اور ڈبلیو ایس ایس پی کی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر کے کوتاہی کے مرتکبین کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ وزیر بلدیات اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ متعلقہ عملہ روزانہ کام پر آئے اور اس دوران اوقات کار کی پابندی کرے تاکہ شہر میں صفائی کی بگڑتی ہوئی صورتحال میں بہتری آئے جبکہ صاف پانی کی فراہمی کیلئے گزشتہ دور حکومت میں جو منصوبے ادھورے رہ گئے تھے ان کی تکمیل کو یقینی بنائے تاکہ شہریوں کو درپیش آبنوشی کا مسئلہ حل ہو۔

حقوق طفلان کا تحفظ کون کرے گا

خیبر پختونخوا میں پندرہ سال سے کم عمر لڑکے اور لڑکیوں بلکہ بچے اور بچیوں سے جبراً بھیک منگوانے، ان سے مشقت لینے اور ان کو زیادتی کا شکار بنانے کی شرح میں اضافہ حکومت اور پورے معاشرے کیلئے لمحہ فکریہ اور سرجھکانے کا باعث امر ہے۔ سڑکوں کے کنارے اور فٹ پاتھوں پر کمسن بچوں سے بھیک منگوانا ہی قابل توجہ امر نہیں بلکہ بچوں سے مختلف اشیاء فروخت کرانے کی آڑ میں بھی بھیک مانگنے کا دھندہ کروایا جاتا ہے۔ بچوں سے مشقت لینا بھی کوئی راز کی بات نہیں۔ صوبے کے اگر پوش علاقوں میں سروے کیا جائے تو تقریباً ہر گھر میں نہ ہو تو ہر دوسرے گھر میں کمسن بچے اور بچیاں مشقت پر مجبور دکھائی دیں گی۔ ماؤں کے پلو پکڑے گھر گھر جا کر گھر کے کاموں میں والد ہ کا ہاتھ بٹانے والی بچیوں کو دیکھ کر تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر وہ منظر تو بہت دلدوز ہوتا ہے جب صاحب لوگوں کے بچے اچھے یونیفارم اور خوبصورت سکولز بیگز لئے شاندار گاڑیوں سے اترتے ہیں اور یہ خدمتگار بچے بچیاں ان کا بستہ سنبھالتے ان کے پیچھے پیچھے سر جھکا کر گھر کی ڈیوڑی پار کرتے ہیں۔ حکومت دعویٰ کرتی ہے اور معاشرہ دعویدار ہے مذہبی وسماجی تنظیموں کو اپنی کارکردگی پر ناز ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کے اس طاقتور اور بااثر عناصر کے سامنے سب ھیچ ہیں۔ کمسن بچوں بچیوں سے متعلق مشقت کا قانون مذاق سے کم نہیں۔ کیا حکومت، معاشرہ اور سماجی ومذہبی تنظیمیں مل کر اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکال سکتے؟ اگر انہی ثروت مند عناصر کو پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے گھروں میں کام کرنے والے ان بچوں کو ہنر سکھانے اور تعلیم حاصل کرنے کا پچھلے پہر کوئی بندوبست کریں، ان کو قریبی مسجد اور مدرسہ بھیج کر دینی تعلیم حاصل کرنے کی سہولت دیں تاکہ یہ ہمیشہ کیلئے معاشرے کا نظرانداز اور مظلوم طبقہ بن کر نہ رہ جائیں۔ حکومت جہاں دیگر شعبوں میں بہتری اور تبدیی لانے کیلئے کوشاں ہے وہاں اس نظرانداز شدہ شعبے کی طرف توجہ کی بھی ضرورت ہے۔

مزیدخبریں