پختون انتہا پسند نہیں اعتدال پسند قوم

02 ستمبر 2018

آج کل سوشل میڈیا پر شیریں مزاری کے ایک بیان کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ ہمیں نہیں پتہ کہ شیریں مزاری نے پختونوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر کہا ہوگا مگر زیادہ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ محترمہ نے پختونوں کیخلاف باتیں کی ہیں۔ میں اس متنازعہ بیان میں جانا نہیں چاہتا مگر پختون نہ تو شدت پسند ہیں اور نہ انتہا پسند بلکہ ماڈریٹ اور معتدل قوم ہیں۔ اگر ہم غورکریں تو پی ٹی آئی کو 75فیصد ووٹ خیبر پختونخوا سے ملے ہیں اور شیریں مزاری جن کی وجہ سے حکومت میں آئی ہیں وہ بھی پختون ہیں۔ پختون اگر میانہ رو اور اعتدال پسند اور جمہوریت پسند قوم نہ ہوتی تو کیا مجال کہ عمران یا نواز شریف اس صوبے پر حکومت کرتے۔ جب سے تحریک انصاف اور اس کے اتحادی اقتدار میں آئے ہیں تو ان کے وزیر عجیب وغریب بیانات دے رہے ہیں۔ نہ تو ان کے درمیان کوئی ربط ہے اور نہ کسی ایشو کے بارے میں منطق اور استدلال ہے بلکہ بچوں کی طرح مختلف بے بنیاد بیانات دئیے جا رہے ہیں۔ یہ بات قومی اسمبلی کے فلور پر کی گئی ہے کہ75فیصد طالبان پنجاب میں ہیں تو ان کیخلاف کیوں ایکشن نہیں لیا جاتا۔ وہ قوم جس نے برصغیر پاک وہند اور وسطی ایشیاء پر 300سال تک حکومت کی آج کل غیروں کی نظروں میں تو کیا اپنے ملک کے حاکموں کی نظروں میں بھی دہشتگرد اور انتہا پسند ہے۔ پختون قوم کے آباؤ اجداد لودھی خاندان نے بہلول خان کی قیادت میں جنوبی اور وسطی ایشیائی ریاستوں پر 75سال حکومت کی۔ اس کے بعد پختونوں کے سوری خاندان جس کے لیڈر شیر شاہ سوری تھے انہوں نے 17سال حکومت کی۔ اس کے بعد ہا توکے پختون خاندان نے جنوبی اور وسطی ایشیائی ریاستوں پر 29سال حکومت کی اور اس قبیلے کے بڑے میرویس خان تھے۔ اس کے بعد درانی خاندان جس کے بڑے احمد شاہ درانی تھے اس خاندان نے برصغیر پاک وہند اور وسطی ایشیائی ریاستوں پر 115سال حکومت کی یعنی پختونوں نے کل 300سال تک اس خطے پر حکمرانی کی۔ ان تینوں بڑے ادوار سے پہلے بھی اور بعد میں بھی پختون ان علاقوں کے حکمران رہے ہیں اور پختون حکمرانوں نے اس خطے کو جتنی ترقی دی اس کی ماضی اور حال میںکوئی مثال نہیں ملتی مگر بدقسمتی سے اب وہی پختون جو ماضی کی طرح اب بھی دنیا میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہے تھے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور مختلف حیلوں بہانوں سے اس جری اور بہادر قوم کو دیوار کیساتھ لگایا جا رہا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سرحد کے اس پار اور اس پار خیبر پختونخوا اور افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے یہ علاقہ ہر دور میں جارحیت، تسلط اور بڑی طاقتوں کا میدان جنگ رہا ہے اور مختلف شورشوں کی وجہ سے پختونوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان اُٹھانا پڑا۔ پختون ایک جری اور بہادر قوم ہے وہ ہمیشہ اپنے لئے معاش کے راستے تلاش کرتے ہیں حکومت وقت کی طرف سے ان کی کوئی معاونت نہیں ہوتی۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی تعداد 90لاکھ ہے جس میں صرف پختونوں کی تعداد 55 اور 60لاکھ کے درمیان ہے۔ میرے خیال میں 188ممالک میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں پر پختونوں نے اس ملک کی ترقی اور کامرانی میں اپنا کردار ادا نہیں کیا ہو۔ اگر دیکھا جائے تو پوری دنیا کو تعمیر کرنے اور اس کو جدید بنانے میں پختون سخت جان افرادی قوت فراہم کرکے اہم کردار کر رہے ہیں اور بھاری تعداد میں زرمبادلہ بھیج رہے ہیں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ وطن عزیز کے حکمران پختونوں کو وہ وقعت اور عزت نہیں دیتے جو ان کو دینی چاہئے اور وہ پختون جن کے آباؤاجداد نے اس خطے پر 300سال تک حکومت کی اور ایک مارشل قوم ہے آج کل وطن عزیز میں ایک مذاق بنی ہوئی ہے۔ لاہور میں دہشتگردی کے واقعے کے بعد اب تو پختونوں کو پنجاب میں شودر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور ایسا لگ رہا ہے جیسے پختون انڈیا یا کسی اور ملک سے آئے ہوئے لوگ ہیں۔ پختونوں کو ملکی ڈراموں، سٹیج شو میں مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پشتو فلموں میں غیر پشتون اداکاراؤں کے ذریعے ان کے کلچر کو تباہ وبرباد کیا جا رہا ہے۔ پنجاب کے چھوٹے موٹے شہروں کو تو چھوڑیئے، اسلام آباد اور پنڈی کے مہذب ترین اور زیادہ پڑھے لکھے لوگوں کے جڑواں شہروں میں پختونوں کیساتھ یہاں کی پولیس اور انتظامیہ جس طرح پیش آتی ہے وہ انتہائی قابل افسوس ہے۔ اکثر وبیشتر پبلک ٹرانسپورٹ اور پبلک مقامات پر پختونوں کیساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ انتہائی ہتک آمیز ہے۔ پختونوں نے دہشتگردی کی جنگ میں سب سے زیادہ جانی اور مالی قربانیاں دیں مگر اب اسی پختون قوم کو دہشتگرد اور انتہا پسند کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ دہشتگردی کی جنگ کی وجہ سے خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کھنڈر بنے ہوئے ہیں۔ خودکش حملوں کے بارے میں تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ خودکشوں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ سال 1980سے اب تک سب سے زیادہ خودکش حملے سری لنکا کے تامل ٹائیگرز نے کئے ہیں جن کا کوئی مذہب نہیں۔ ڈاکٹر پیپ کہتے ہیں کہ میں نے اب تک دنیا کے مختلف ممالک میں خودکش حملوں کے 462کیسوں کا مطالعہ کیا ہے اور ان میں 95فیصد ایسے ہوتے ہیں جن کا کوئی مذہب نہیں ہوتا یعنی وہ سیکولر ہو تے ہیں۔ الزاما ت کے بجائے حکومت کو اپنے فرائض دیانتداری اور ایمانداری سے ادا کر کے دہشتگردوں کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے۔

مزیدخبریں