Daily Mashriq


آدھا پروٹوکول

آدھا پروٹوکول

میں حیران ہوں آدھا پروٹوکول کیا ہوتا ہے؟ جب سے وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ آدھا پروٹوکول لیں گے، میں اسی حوالے سے سوچ رہی ہوں، آخر یہ آدھا پروٹوکول کیا ہوگا۔ اتنا تو سمجھ آگیا کہ اگر پروٹوکول میں 30گاڑیاں تھیں تو اب پندرہ ہونگی۔ سمجھ یہ نہیں آرہا کہ ان پندرہ گاڑیوں کی بھی انہیں کیا ضرورت ہے جبکہ ملک کے وزیراعظم اپنے موجودہ فلیٹ میں سے صرف دو گاڑیاں رکھ رہے ہیں۔ آدھا پروٹوکول کیا ہوگا میں حساب لگانا چاہتی ہوں۔ اگر 15پولیس والے ان کے آس پاس موجود ہوتے تھے تو اب ساڑھے سات ہوا کریں گے یا پھر وزیراعلیٰ پنجاب طے کر لیں گے کہ ایک دن پولیس والوں کی تعداد سات اور ایک دن آٹھ ہوگی۔ اگر وزیراعلیٰ پنجاب کسی علاقے کے دورے پر جائینگے جیسے وہ پاک پتن کے دورے پر تشریف لے گئے تو جو اگلی بار وہ جہاز پر نہ جائینگے بلکہ کسی جھوٹی گاڑی مثلاً سوزوکی مہران وغیرہ کو پنکھے وغیرہ لگوا کر ہوا میں اُڑوا لیں گے۔ اب کی بار تو سڑک کے دونوں جانب کی دوکانیں بند کی گئیں تھیں، اس کے بعد چونکہ پروٹوکول آدھا رکھنا ہے اس لئے سڑک کے ایک جانب کی دوکانیں بند کروائی جائینگی اور دوسری جانب کی کھلی رہنے دی جائینگی جس جانب کی سڑک پر وزیراعلیٰ پنجاب نے سفر کرنا ہوگا اسی جانب کی ٹریفک بند کروائی جائینگی جو پولیس والے ہمراہ ہونگے وہ آدھی وردی پہنیں گے، پنٹوں کی جگہ نیکریں، قمیضوں کی جگہ بنیان اور سر پر ٹوپی۔ آدھے پروٹوکول والے وزیراعلیٰ پنجاب اپنے گھر کے لوگوں کو بھی گاؤں بھجوا چکے ہیں اور خود ایک چھوٹے مکان میں رہ رہے ہیں۔ وہ چاہیں تو اسی گھر کا آدھا حصہ گورنر صاحب کے ساتھ بانٹ لیں۔

میں چند دن پہلے اپنے ایک بیج میٹ ابرار حسین سے اسی حوالے سے فون پر بات کر رہی تھی۔ ابرار حسین آج کل منسٹری آف فارن افیئرز میں پوسٹنگ پر ہیں چونکہ آدھے پروٹوکول کی اس تشریح میں وہ بھی برابر کے حصے دار ہیں، اس لئے ان کا ذکر بھی اس حوالے سے بہت ضروری تھا۔ گزشتہ چند دنوں کی حکومت میں تحریک انصاف کی اس حکومت کو مسلسل کئی باتوں کے حوالے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ابھی عثمان بزدار کے پروٹوکول کی باتیں خاموش نہ ہوئی تھیں کہ سندھ کے گورنر عمران اسماعیل کوئٹہ تشریف لے گئے اور تیس سے بھی زیادہ گاڑیوں کا قافلہ ان کی مصیت میں دکھائی دیا۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لوگ بات بھی کرینگے، مذاق بھی اڑائینگے اور طنز بھی کرینگے۔ تحریک انصااف کی حکومت کی مخالفت میں اور اپوزیشن میں بہت منجھے ہوئے لوگ موجود ہیں اور یہ منجھے ہوئے گھاک سیاستدان زخم خوردہ بھی ہیں۔ یہ نہ صرف سوشل میڈیا کو اس حکومت کی مخالفت کیلئے بہترین استعمال کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں بلکہ اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ بیوروکریسی میں بھی ان کے چاہنے والے موجود ہیں۔ اس حکومت کو نہ صرف چومکھی لڑنی ہے بلکہ سیاسی ذہانت کا بھی ثبوت دینا ہے۔ میں ابھی تک یہ سمجھی نہیں کہ جناب عثمان بزدارکو بے وجہ پاک پتن کا دورہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ درست ہے کہ ہم سب جانتے ہیں خاتون اول کی بے انتہا جذباتی وابستگی پاک پتن سے ہے لیکن سرکاری معاملات میں ان وابستگیوں کا عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔ اس ملک میں لوگوں نے بھاری اکثریت میں پی ٹی آئی کو ووٹ صرف اس تبدیلی کے نعرے کی وجہ سے دیا ہے اور سچ پوچھئے تو لوگوں کی امیدوں کے پیمانے بڑی جلدی چھلکنے لگیں گے اگر تبدیلی واقعی دکھائی نہ دی اور میں دکھائی دینے کی بات کر رہی ہوں۔بہت سی تبدیلی ایسی ہے جس کا دکھائی دیا جانا ہی اس کا اصل افادہ ہے۔ حکمرانوں کا پروٹوکول نہ لینا، روٹ نہ لگوانا، عوام کو اپنی دسترس میں دکھائی دینا، مہذب اور شائستہ نظر آنا، یہ لوگوں کی جذباتی اور نفسیاتی کیفیت کیلئے اچھا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ وزیراعظم کے علاوہ کسی کو سیکورٹی کی بہت زیادہ ضرورت نہیں۔ اگر وزیراعظم عمران خان اپنی حفاظت کے حوالے سے اتنے بے پرواہ نظر آسکتے ہیں تو بقیہ لوگوں کو عام لوگوں سے ملتے جلتے دکھائی دینا چاہئے۔ چرچل کی زندگی کا وہ واقعہ یاد رکھنا چاہئے جب جنگ کرنے کا فیصلہ کرنے کیلئے چرچل لندن کی انڈرگراؤنڈ میں چلے گئے تھے اور عام لوگوں سے مشورہ کیا تھا اب ایسی ہی باتوں کی ضرورت ہے۔ اس سے لوگوں کا اعتماد بڑھے گا۔ حکومت سے محبت میں بھی اضافہ ہوگا اور لوگوں کی نفسیاتی کیفیت بہتر ہوگی۔ بہت ساری باتیں ایسی ہیں جن کی افادیت کچھ عرصے بعد، کسی قوم کی نفسیات سے ظاہر ہونا شروع ہوتی ہے۔ آدھا پروٹوکول نہ عثمان بزدار کیلئے اہم ہے اور نہ ہی اس وقت اس کی ضرورت ہے۔ اس وقت اس قوم کی ذہنی کیفیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ ابھی تک یہ یقین نہیں کر سکتے کہ واقعی تبدیلی آگئی ہے۔ انہیں یقین دلایئے اس سے فائدہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں