Daily Mashriq


نئی حکومت اور سفارت کاری

نئی حکومت اور سفارت کاری

2004ء میں جی8 کے اجلاس میں امریکی صدر جارج ڈبلیوبش نے مشرق وسطیٰ اور اس سے منسلک اسلامی ممالک کیلئے ایک خاص سیاسی اصطلاح ''عظیم مشرق وسطیٰ'' استعمال کی تھی، اپنے مذہب، کلچر اور ثقافت کے اعتبار سے پاکستان مشرق وسطیٰ کا حصہ ہے، یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے حالات پاکستان پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ ہم مشرق وسطیٰ سے کٹ کر نہیں رہ سکتے، اب جبکہ پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہو چکی ہے تو سعودی عرب کی طرف سے پی ٹی آئی کی حکومت کو مکمل سپورٹ کی یقین دہانی کرائی جا رہی ہے۔ سردست اسلامک ڈویلپمنٹ بنک کے ذریعے4بلین ڈالر قرض کی پیشکش کی گئی ہے۔ چین پہلے ہی دو ارب ڈالر کا وعدہ کر چکا ہے جس میں سے ایک ارب تو خزانے میں آبھی چکے ہیں۔ چین سے جو بیل آؤٹ پیکج آرہا ہے اس کی سمجھ آتی ہے کہ دوستی سے ہٹ کر بھی چین کی کاروباری اور اس کے ''روڈ اینڈ بیلٹ'' منصوبے کی ساکھ سی پیک اور پاکستان سے جڑی ہوئی ہے، وہ کسی صورت نہیں چاہے گا کہ وہ ملک دیوالیہ ہو جہاں وہ تیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پہلے ہی کر چکا ہے اور اتنی ہی سرمایہ کاری اگلے دو سے تین برس میں کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔مغربی معاشی ماہرین یہ کہتے آرہے ہیں کہ پاکستان پر یہ معاشی دباؤ سی پیک کی وجہ سے بڑھا ہے اور یہ کہ پاکستان نے اپنی استعداد سے زیادہ قرضے لے لئے ہیں جس کے باعث اسے آئی ایم ایف جیسے اداروں سے قرضے لیکر چین کے قرضے اتارنا پڑ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت میں کئی اہم رہنما اور کابینہ کے وزیر بشمول وزیر خزانہ اسد عمر بھی اسی رائے کے حامی ہیں۔ ان کی اس رائے پر بیجنگ میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں اور خاص طور پر ان کے اس بیان کو ناپسندیدگی سے دیکھا گیا ہے کہ سی پیک کے منصوبوں پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی۔ چین کی رائے ہے کہ اس نے پاکستان کو بیشتر منصوبے کم لاگت میں فراہم کئے ہیں۔ اسی نوعیت کے دنیا میں کئی منصوبوں پر چین نے زیادہ نرخ سے سرمایہ کاری کی ہے اگر یہ تفصیلات سامنے آتی ہیں تو اس سے چین کے بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور دنیا میں ان کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ سابق حکومت کا منصوبہ تھا کہ سی پیک سے معیشت پر جو دباؤ آئے گا، اسے وہ چائنا سے مزید قرضے یا مزید منصوبے حاصل کر کے پورے کرے گی اور درآمدات کو کنٹرول کر کے اور نجکاری کے ذریعے صورتحال پر قابو پا لے گی، معیشت پر یہ دباؤ چار سے پانچ سال کے عرصے کے لئے متوقع تھا اور سی پیک سے معیشت کے پہئے میں جو تیزی آنا تھی، اسے گھمانے میں اتنا وقت بہرصورت درکار تھا۔ سابق حکومت کے دور میں ہی ریاستی مشینری کے ہاتھ پاؤں پھولنا شروع ہو گئے تھے اور نگران دور میں یہ دباؤ مزید بڑھ گیا، نئی حکومت اور چین کے درمیان اعتمادسازی کے عمل کو چند ماہ لگ سکتے ہیں۔ چین مزید سرمایہ کاری خاص طور پر صنعتی زون میں سرمایہ کاری حالات کو دیکھتے ہوئے ہی کرے گا۔پی ٹی آئی حکومت کی معاشی حکمت عملی کیا ہوگی؟ یہ ابھی طے ہونا باقی ہے، فی الوقت اسے سامنے کھڑے چیلنج کو دیکھنا ہے۔نئے وزیراعظم ایران سے گیس پائپ لائن کے منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں۔ پاکستان کے علاقائی معاشی حالات بھی ایران کیساتھ بہتر اور مضبوط تعلقات کا تقاضا کرتے ہیں۔ گوادر کو بجلی کی فراہمی، جہاں آنیوالے سالوں میں بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے اور سی پیک سے حاصل ہونیوالے فوائد اور زائد پیداوار کی وسط ایشیا اور یورپ تک ترسیل کیلئے بھی ایران کیساتھ تعلقات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ سادہ لفظوں میں پاکستان کی معاشی فعالیت میں ایران کا بڑا کردار ہو سکتا ہے جو ابھی تک پاکستان کے امریکہ کیساتھ تعلقات اور سعودی عرب کے دباؤ کی وجہ سے ممکن نہیں ہو سکا ہے۔ ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں نے بھی اس میں کردار ادا کیا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عرصے میں چین اور بھارت نے ایران کیساتھ تجارتی تعلقات ٹھیک رکھے بلکہ بھارت نے تو امریکی دباؤ بھی مسترد کر دیا اور امریکہ کو مجبور کر دیا کہ وہ بھارت اور ایران کے تجارتی اور معاشی تعلقات کو اپنے باہمی عسکری اور اقتصادی تعلقات کی حدود سے باہر ہی رکھے۔ لامحالہ بھارت نے ایران کیساتھ تعلقات کو تزویراتی وسعت دی ہے اور چاہ بہار کی بندرگاہ کو وہ افغانستان اور وسط ایشیا کیساتھ تجارت کیلئے استعمال کرے گا۔ یہ منصوبہ سی پیک کو دباؤ میں لانے کا بھارتی حربہ ہے اور چین اس صورتحال سے خوش نہیں ہے۔ اسی لئے وہ پاکستان پر واضح کرتا آرہا ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک سے اگر مثالی تعلقات نہیں رکھ سکتا تو کم ازکم انہیں اس سطح پر ضرور رکھے کہ ان کیساتھ کاروبار ہو سکے اور پاکستان اور چین کے مشترکہ کاروباری مفاد کو نقصان نہ پہنچے۔

مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت نے عسکری قیادت کیساتھ ملکر سعودی عرب اور ایران میں اعتماد کی بحالی کیلئے کوشش کی تھی لیکن میاں نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کی یہ کوشش بری طرح ناکام ہوئی اور فریقین نے پاکستان کی ثالثی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس ناکام سفارتی کوششوں کے بعد جنرل راحیل شریف سعودی عرب سدھار گئے جسکے باعث پاکستان کے سفارتی امیج کو زک پہنچی۔ ہماری فوری ضرورتیں بیشتر اوقات قومی وقار کو بہت نقصان پہنچاتی ہیں۔ ویسے تو پوری دنیا میں معیشت اس کی سفارتکاری اور خاص طور پر ہمسایہ ممالک کیساتھ تعلقات سے جڑی ہوتی ہے لیکن پاکستان کیلئے اسکی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اسکی ایک وجہ ہمارے معاشی مفاد اور سفارتی ترجیحات میں تال میل نہیں ہے اور حکومتیں یہ توازن قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہیں،دیکھئے نئی حکومت اس میں کس حد تک کامیاب ہو تی ہے۔

متعلقہ خبریں