Daily Mashriq


تعلیمی اصلاحات اور 100دن پروگرام

تعلیمی اصلاحات اور 100دن پروگرام

مرزا فرحت اللہ بیگ برصغیر پاک وہند کے معروف اور مانے ہوئے ادیب اور مزاح نگار گزرے ہیں۔ آپ نے اپنے عربی کے استاد، برصغیر کی بہت بڑی علمی شخصیت ڈپٹی نذیر احمد کے بارے میں ''ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی، کچھ ان کی کچھ میری زبانی'' نامی چھوٹی سی کتاب لکھ کر امر کر دیا ہے۔ اسی کتاب میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ میں اور میرے دوست وہم جماعت دانی نے بی اے میں عربی بطور اختیاری مضمون چنا کیا لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ عربی پڑھیں کس سے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ دہلی میں دو ہی آدمی عربی زبان پر عبور رکھتے ہیں۔ ایک صدرالدین شیفتہ اور دوسرے مولوی نذیر احمد۔ ''چنانچہ، ہم مولوی صدرالدین شیفتہ کے پاس عشاء کی نماز کے بعد دہلی کی جامع مسجد جہاں وہ امامت کرتے تھے آپہنچے۔ مولوی صاحب کے مسجد سے باہر آنے اور ان سے عربی پڑھانے کی درخواست کی یہ سنتے ہی مولوی صاحب نے جھٹ سے کہا۔۔ میاں! تمہیں معلوم نہیں کہ میں جامعہ پنجاب کا صدر ممتحن ہوں (یعنی پرچہ بنانے اور چیک کرنے والا) ہوں۔ اس واقعے کے ذکر سے وہ ہندوستان میں اساتذہ کی علمی دیانتداری کا معیار بتانا چاہ رہے تھے چونکہ مولوی شیفتہ پنجاب یونیورسٹی کے صدر ممتحن تھے لہٰذا ٹیوشن پڑھانے سے صاف انکار کیا کہ مبادا پڑھائی کے دوران کسی ایسے نکتے کی طرف غیرارادی طور پر اشارہ نہ ہو جائے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں علمی دیانت کا یہ معیار تھا تبھی ٹاٹ کے سکولوں اور ٹوٹے پھوٹے فرنیچر کے کالجوں سے ایسے طلبہ نکلے جنہوں نے پاکستان کو ایک دفاعی ٹیکنالوجی اور اقتصادی شعبے بالخصوص بنکنگ کے شعبے میں اعلیٰ مقام پر پہنچایا جب سے تعلیم میں نجی شعبے کو اہمیت حاصل ہوئی ہے تو تعلیم کا دولت کے حصول کیساتھ براہ راست تعلق بن گیا ہے جبکہ اسلامی تعلیمات اور احکام کی رو سے تعلیم وتعلم کا بنیادی مقصد تربیت وتزکیہ اخلاقیات ہے۔ عوام کو تعلیم کی سہولیات اور مواقع فراہم کرنا کسی بھی فلاحی ریاست وحکومت کا بنیادی فریضہ ہے۔ تعلیم کو حصول زر کا ذریعہ بنا دینے سے بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے کیونکہ پرائیویٹ سیکٹر میں ایک آدھ کو چھوڑ کر ایسے لوگ بھی اس کام میں شامل ہوئے ہیں جو تعلیم کو بھی محض تجارت سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر حال میں ڈاکٹر اور انجینئر بننے کے رجحان نے تعلیمی شعبوں کو ان گنت مسائل سے دوچار کیا ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے کوچنگ اکیڈمیاں مشروم کی طرح اُگی ہیں اور یہ اکیڈمیاں چلانے والے ہمارے سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ مسابقت کیساتھ چلاتے ہیں جس کی وجہ سے اپنی بنیادی ذمہ داریوں پر ان کی توجہ بہت کم ہو جاتی ہے اور تعلیمی اداروں پر اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت سے چند دن پہلے پنجاب کی حکومت کی طرف سے سرکاری تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ پر کوچنگ اکیڈمیاں چلانے پر پابندی لگائی گئی اور پختونخوا میں بھی اس کی اچھی تقلید ہوئی۔ 100دنوں کے پروگرام میں شعبہ تعلیم میں یہ اچھی پیش رفت ہے لیکن ابھی بہت کام کرنا باقی ہے کیونکہ پرائیویٹ میڈیکل کالجوں نے جو غدر مچایا ہے اس پر چیف جسٹس نے فیسوں کے فکس کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں لیکن ان اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے ڈاکٹرز اور انجینئرز حضرات سے ملک کے مستقبل کے حوالے سے کارہائے نمایاں سرانجام دینے کی امید لگانا میرے نزدیک کوئی زیادہ معقول بات نہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کے اکثر تعلیمی اداروں کو اس سے بہت کم غرض ہوتی ہے کہ طلبہ نے کیا سیکھا اور کیا نہیں سیکھا۔ ان کو اپنی بھاری بھر کم فیسوں سے غرض ہوتی ہے۔

میٹرک اور ایف ایس سی کے امتحانات میں طلبہ کی زیادہ تعداد، امتحانی نگران عملہ کی نااہلی اور بددیانتی اور پیسے کے عمل دخل نے ان اہم امتحانات کے معیار اور ساکھ کو داؤ پر لگایا ہے۔ ان وجوہات نے ایٹا (ETA) کو جنم دیا لیکن کیا کسی نے آج تک یہ حساب کتاب لگایا ہے کہ کتنے طلبہ ہیں جن کے میٹرک اور ایف ایس سی میں نمبر زیادہ تھے اور ایٹا میں کم آئے اور کتنے طلبہ کے امتحانوں میں کم تھے اور ایٹا میں زیادہ آئے اور کتنے ایسے تھے جنہوں نے میٹرک اور ایف ایس سی میں حاصل کردہ نمبرات کو ایٹا میں بھی برحق ثابت کیا۔ کتنے ذہین طلبہ ہیں جو اس دن تین گھنٹے کے امتحان میں گھبرا کر یا کنفیوژن کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں اور کتنے عام سے طلبہ کچھ ''تُکہ'' کچھ ادھر ادھر سے وغیرہ وغیرہ کرکے اچھا سکور کر لیتے ہیں۔

100دنوں کے پروگرام میں حکومت خیبر پختونخوا میٹرک' ایف ایس سی اور ایٹا کے امتحانات کے حوالے سے قابل' دیانتدار اور مخلص سکولوں اور کالج کے اساتذہ پر مشتمل ایک کمشن یا تھنک ٹینک ٹائپ بناکر تفصیلی غور وخوض کے بعد ایسا لائحہ عمل پیش کرے جس میں ان سوالات واعتراضات کا تسلی بخش جواب اور مداوا ہو۔ اس کے علاوہ میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں بالخصوص پرائیویٹ سیکٹر میں بے لاگ چیک اپ اور تحلیلی تجزیہ کرکے صوبے کی ضرورت کے مطابق ڈاکٹرز اور انجینئرز تیار کرنے کی منصوبہ بندی کرے۔ بیروزگار ڈاکٹروں اور انجینئروں کی فوج ظفر موج تیار کرنا اس صوبے پر بہت بڑا بوجھ بنے گا۔ یہ ڈاکٹرز سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں کسی طرح نہیں کھپائے جا سکیں گے اور پھر مظاہرے ہوں گے' احتجاج ہوں گے۔

متعلقہ خبریں