Daily Mashriq

کشمیر میں ظلم کی انتہا

کشمیر میں ظلم کی انتہا

کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہندوستان مخالف مظاہروں کے دوران قابض فوج نے نہتے شہریوں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق اور 100 کے قریب زخمی ہوگئے۔ بھارتی فوج نے ضلع اسلام آباد اور شوپیاں کے مختلف علاقوں میںنہتے کشمیریوں کو بلاجواز مظالم کا نشانہ بنایا۔تازہ ہلاکتوں کے بعد کشمیر میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے اس سال سیاحت کو فروغ دینے کے لیے گزشتہ روز آل انڈیا ٹورازم کانکلیو منعقد کیا تھا جس میں بھارت کی مختلف ریاستوں کے ٹور آپریٹرز نے شرکت کی تھی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے قیام امن کے لیے عام لوگوں سے تعاون کی اپیل کی تھی۔اسی دوران پولیس سربراہ نے علیحدگی پسند رہنماں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک پر برسوں سے عائد پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ لیڈر کہیں بھی جانے کے لیے آزاد ہیں لیکن ان کے عوامی رابطے سے امن و قانون میں خلل نہیں پڑنا چاہیے۔ کئی سال بعد گزشتہ جمعہ کو تینوں رہنماں نے مختلف مقامات پر جمعہ کے اجتماعات سے خطاب کیا۔ حکومت کے اس تازہ رویہ سے کئی حلقوں کو امید تھی کہ تین سال سے شدت پسندوں کے خلاف جاری فوج کا آپریشن آل آئوٹ بھی معطل کیا جائے گا تاکہ اس گرما میں حالات پرسکون رہیں، لیکن تازہ تصادم اور عوامی ردعمل سے ایسا لگتا ہے کہ لگاتار تیسرے سال بھی کشمیر میں حالات کشیدہ رہیں گے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و ستم کی داستان نہ صرف دل دہلا دینے والی ہے بلکہ اقوام عالم کے بنائے گئے انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی ہے۔ بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم برداشت کی حدوں سے تجاوز کر چکے ہیں۔ بچے، بوڑھے، جوان، مرد وخواتین غرض کوئی بھی بھارتی جارحیت سے بچ نہیں سکا۔ بچوں پر ایسا بہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے کہ اسکے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انسانیت شرمانے لگتی ہے۔ جوانوں کو اغوا کر کے لاپتا کر دیا جاتا ہے اور بعد ازاں بے دردی سے مسخ شدہ لاشیں توہین آمیز انداز میں پھینک دی جاتی ہیں جوبھارتی مظالم کا منہ بولتا ثبوت ہوتی ہیں۔ آج دنیا جان چکی ہے کہ کشمیر کی آزادی کے حصول کی جدوجہد کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ کشمیری عوام تو ایک عرصے سے اپنے حقوق کی آزادی کے لئے بھارت کی انتہاپسندی، جارحیت اور استعماریت کے آگے ڈٹے ہوئے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر کئے جانے والے مظالم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی افواج سے انسانیت کی تذلیل کے لئے جیسے کالے قوانین بنا رکھے ہیں۔ بھارتی فوج نے ایک ہونہار کشمیری نوجوان برہان سلیم وانی کو شہید کر دیا جو سوشل میڈیا پر بھارتی جارحیت کے خلاف ایک بھرپور اور موثر مہم چلا رہا تھا جس کے ذریعے بہت سے مقامی جوان تحریک آزادی میں نئے ولولے اور جذبے کے ساتھ شامل ہوئے۔ وانی کی شہادت نے تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی۔بھارت انسانیت سوز جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے کشمیری مسلمانوں پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور ایسے مظالم توڑ رہا ہے کہ جن کے تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔ اس کی ایک مثال پیلٹ گن کا استعمال ہے جس سے 7000 سے زائد کشمیری بری طرح زخمی ہوئے اور بینائی سے محروم ہو گئے ہیں۔کشمیر میں بھارتی جارحیت کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بڑی واضح ہے لیکن اسے مزید مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہماری حکومتوں کو چاہئے کہ وہ اس حوالے سے ہرانٹرنیشنل فورم پر نہایت مضبوطی سے اپنا موقف پیش کریں اور انسانی حقوق کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی اور بھارتی جارحیت کے خلاف ایسا عالمی دبائو تخلیق کریں جس سے بھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے۔ ہمیں چاہئے کہ بہترین اور موثر پالیسی بنانے کے ساتھ ساتھ بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے قیامت خیز تشدد کی طرف عالمی توجہ مبذول کروانے کے لئے بھی مناسب حکمت عملی وضع کریں اور اس کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کو بھی یکجہتی کا ایسا پیغام دیتے رہنا چاہئے جس سے ان کے پائے استقامت کو مزید تقویت ملے اور حوصلہ افزائی کے اس تاثر سے ان کی تحریک آزادی میں جب ضرورت ہو نئی روح پھونکی جا سکے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ تنازعہ کشمیر پر اقوام عالم کی توجہ اس وقت تک مبذول کرواتے رہنا چاہئے جب تک کشمیریوں کو آزادی مل نہیں جاتی جو ان کا بنیادی حق ہے۔ایسی مناسب حکمت عملی مرتب کی جانی چاہئے جس سے کشمیری مسلمانوں کی آزادی کی آواز کو پوری دنیا میں پھیلایا جا سکے اور بھارت کا اصلی مکروہ چہرہ بھی دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔ بھارت کو چاہئے کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی کو ترک کر کے کشمیری عوام کو ان کی مرضی کے مطابق آزادانہ زندگی گزارنے دے جس کی اجازت انہیں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی قراردادیں بھی دیتی ہیں۔

متعلقہ خبریں