Daily Mashriq

پابندی کے باوجود پلاسٹک کے تھیلوں کی تیاری وفروخت

پابندی کے باوجود پلاسٹک کے تھیلوں کی تیاری وفروخت

خیبر پختونخوا میں غیر تحلیل پلاسٹک سے بنے شاپنگ بیگز اور دوسری مصنوعات کی تیاری اور خرید وفروخت پر پابندی ہوا میں اڑادینا کوئی نئی بات نہیں جس پر متعلقہ حکام کی خاموشی سمجھ سے بالا ترامرہے۔ پلاسٹک مصنوعات کی تیاری اور خریدوفروخت سے وابستہ تاجروں اور صنعت کاروں کو قانون پر عملدرآمد کیلئے 90 روز کی دی گئی مہلت سال بعد بھی کم پڑگئی ہے جن کیخلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جارہی ۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس حکومت نے غیر تحلیل شدہ پلاسٹک سے بنے سامان سے جراثیم پھیلنے اور اس سے شہریوں کو کینسر جیسے امراض لاحق ہونے کے خدشات پر پلاسٹک کی غیر تحلیل ا شیاء کے استعمال اور خرید وفروخت پر پابندی کیلئے قانون پاس کرایا جس کی روشنی میں کارخانہ داروں اور دکانداروں کو تین ماہ کے دوران تمام سٹاک ختم کرنے اور متبادل کے طور پر تحلیل ہونے والے پلاسٹک کی پیداواربڑھانے اور اس کی خرید وفروخت کی ہدایت کی گئی تھی اس وقت نہ صرف پلاسٹک کے تھیلوں کی نہ صرف کھلے عام فروخت جاری ہے بلکہ چھوٹے صنعتی یونٹس پر پیداوار کا سلسلہ بھی جاری ہے نتیجتاً سارا شہر غیر تحلیل پلاسٹک سے بھرا پڑا ہے۔خیبر پختونخوا کی حکومت نے جس عزم کے ساتھ پلاسٹک کے شاپنگ بیگز پر پابندی لگائی تھی اسے دیکھ کر اس امر کا یقین ہو چلاتھا کہ حکومت پختہ عزم کے ساتھ اس پابندی پر عملدرآمد کو ہر قیمت پر یقینی بنائے گی لیکن سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی صورتحال میں ذرا بھی فرق نہ آنا قول وفعل میں تضاد کا واضح اظہار ہے۔ سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ یہ مسئلہ اتنا مشکل اور گمبھیر نہیں اور نہ ہی اس سے لاکھوں لوگوں کا روز گار اور کاروبار وابستہ ہے۔ حکومت انہی لوگوں کو پلاسٹک بیگ کے متبادل کی تیاری پر آمادہ کر کے اور ان کو تھوڑی بہت امداد اور تربیت دے کر متبادل کاروبارکرواسکتی تھی لیکن اس کی زحمت نہ کی گئی جبکہ پابندی کے اعلان پر عملدرآمد میں بھی حکومتی اداروں نے بروقت سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا اورنہ ہی سختی سے کام لیا گیا جس کے باعث پلاسٹک کی تھیلیاں تیار کرنے والوں نے بھی متبادل کاروبار کرنا ضروری نہ سمجھا ایک چھوٹے سے معاملے میں حکومتی مشینری کو یوں تہی دست نہیں ہونا چاہیئے تھا مگر عملاً اس طرح کی صورتحال ہے کہ حکومتی اعلانات ہوا میں اڑا دیئے گئے اور انتظامیہ تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ اگر باقی ماندہ دنوں میں اس مسئلے کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے تو نا کامیوں کی فہرست میں اس کا بھی اضافہ ہوگا جبکہ شہری ہاتھ ملتے رہ جائیںگے چونکہ پلاسٹک کی تھیلیوں میں اشیائے خوراک کی بھی فراہمی ہوتی ہے اس لئے اس کا نو تشکیل محکمہ فوڈ اتھارٹی کو بھی نوٹس لینا چاہئے اگر خوراک کی گرما گرم اشیاء کی بھی پلاسٹک تھیلیوں میں فروخت بند ہو تو عوام کی صحت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ آلودگی میں بھی خاص کمی ممکن ہوگی حلال فوڈ اتھارٹی محکمہ اگر خوراک کی اشیاء کی پلاسٹک کے لفافوں میں پیک کرکے فروخت کی بھی روک تھا م کیلئے اس کے تیار کنندگان کو مہلت دے کر مد ت اختتام پر کارروائی کرے تو یہ بھی ایک بہتر امر ہوگا پلاسٹک کے تھیلوں کی تیاری اور روک تھام اس قدر لاینحل اور مشکل مسئلہ نہیں کہ حکومتی ادارے ہاتھ کھڑے کریں ۔

ہوائی فائرنگ پر تاخیر سے کارروائی کیوں؟

کیپٹل سٹی کی خفتہ پولیس کا سوشل میڈیا پر ہوائی فائرنگ کی ویڈیو وائرل ہونے پر حرکت میں آنا اور ملزمان کے خلاف کارروائی تکلف کی حد ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شہریوں کے بار بار کے مطالبے پر فحاشی کے اڈوں کے خلاف کاروائی ممکن بنانے کے لئے بھی سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل کرنے کا طریقہ اختیار کرنے کا مشورہ دینا پڑے گا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کو لاکھ مثالی پولیس قرار دیا جائے پولیس افسروں کے آنکھ کا مرا ہوا پانی دوبارہ زندہ نہیں ہوسکے گا۔ اندرون شہر شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ کسی ایسے مقام پر ہونے والی فائرنگ نہیں جس کا پولیس کو علم نہ ہوسکے ممکن ہے کہ شادی کی اس تقریب میں علاقے کی پولیس موبائل وین کھانا بھی لینے آئی ہو جو معمول بن چکا ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ایک جانب خیبر پختونخوا پولیس جدید طرز رسائی اور تیز تر طرز رسائی کا ایپ متعارف کرا رہی ہے جبکہ دوسری جانب عالم یہ ہے کہ اندر شہر میں شادی کی تقریب فائرنگ سے گونجتی ہے مگر کارروائی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہوتی ہے۔ اس قسم کی لا علم پولیس یا پھر آنکھیں بند کردہ پولیس کے حوالے سے کوئی کیسے دعویٰ کرے کہ خیبر پختونخوا پولیس کی کارکردگی اپنی مثال آپ ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس کے سابق سربراہ کے خلاف معاملات اب نیب میں ہیں جن کی تحقیقات کے بعد ہی اصل صورتحال سامنے آئے گی۔ علاوہ ازیں پولیس افسران کے کھلائے گئے گل بھی اختتام حکومت پر سامنے آنا متوقع ہے۔ جنہوں نے اصلاحات متعارف کروائے ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کی کامیابی اور عوام کی شکایات کا ازالہ بھی ممکن بنائیں۔

متعلقہ خبریں