Daily Mashriq

سمجھ داری آگئی

سمجھ داری آگئی

رآبا د میں میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے پی پی کے چیئرمین بلا ل بھٹو زرداری نے کہا کہ ادارے دوسرے ادارو ں میں مداخلت کر یں تو کمزور ہو جا تے ہیں عدلیہ اپنا کا م کرے اور سیا ستد انو ں کو اپنا کا م کرنے دے۔ انہو ں نے کہا کہ جو ڈیشل ایکٹو ازم کم ہو نا چاہیے ، بلا ول زرداری نے مسلم لیگ ن پر الز ام دھرا کہ ہمیشہ اس نے ادارو ں کوکمزور کیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلا ول بھٹو زرداری کے بیان کا جائزہ حال ہی میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملا قات کے پسمنظر میں ہی لیا جا سکتا ہے ، اس وقت پاکستان میں عام انتخابات کے لیے الٹی گنتی شرو ع ہوگئی ہے اور پاکستانی سیا ست کے رواج کے مطابق سیا سی جما عتو ں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات ، بہتا ن تر اشی کے تیر بر سانے کی موسلا دھا ر بارش کا بھی آغا ز ہو گیا ہے ۔ مہذ ب قوموں میں جہاں ایسے حالا ت یعنی انتخابی زما نہ شروع ہو تا ہے تو سیا سی جما عتیں انتخابات کی تیا ریا ں اپنی اپنی پا رٹی کے منشور کو اجا گر کرنے پر بھر پورتگ ودو شروع کر دیتی ہیںتاکہ عوام ان کے پروگرام کو پر کھ کر انہیں ووٹ دیں مگر پاکستان میں سیا سی دشنام طر ازیو ں ، الزام تراشیوں کو فروغ دیا جا تا ہے۔ بلا ول بھٹو کی میڈیا سے بات چیت اس نکتہ نظر سے ہٹ کر تھی ۔اور ایک طر ح سے وفاقی حکومت کی حمایت پر مشتمل تھی ۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی چیف جسٹس ثاقب نثار سے ملا قات کا سبب بھی یہ ہی تھا۔ اگرچہ وفاقی حکومت اور عدلیہ کی جانب سے ملا قات کی وجو ہ ، اور اسباب کے بارے میں کھل کر کچھ نہیں کہا گیا مگر جیسے ہی ملا قات کی خبر کھولی اسی وقت سیا سی مخالفین کی جانب سے اس ملا قات کو بلا سوچے سمجھے متنا زعہ بنا نے کی مساعی کی گئی ، عمران خان نے تو فوری تیر پھینکا کہ کوئی نیا این آر او نہیں ہونے دیا جائے گا حالا نکہ سا دہ سے سادہ دما غ کا حامل شخص بھی اتنی سمجھ بو جھ رکھتا ہے کہ این آراوحکومت اور سیاست دانوں کے مابین ہو ا کرتا ہے یا کسی پو شید ہ قوت کا ہو ا کرتا ہے عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان صر ف رشتہ آئین اور قانو ن اور ادارو ں کا ہو تا ہے اسی بنا پر مولا نا فضل الرّحمان کو کہنا پڑا کہ اس ملا قات کو متنا زعہ نہ بنا یا جا ئے ۔ عمر ان خان کہہ رہے ہیں کہ وہ نئے این آراو کو تسلیم نہیںکر یں گے وہ یہ کیسی بات کررہے ہیں حال میں جو نیا این آر او منظر عام پر عملا ًآیا ہے وہ خو د اس کے حصہ دار بنے انہوں نے بلو چستان میں بننے والی نئی حکومت کی تائید کی اور یہا ں تک کہ اپنے تما م سینیٹروں کی ڈور ان کے ہا تھ میںتھما دی خو دکے ہا تھ کی آیا تو اس بارے میں یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ جس این آر او کے ذریعے انہو ں نے پی پی سے وزیراعلیٰ بلو چستان کے دستانے پہن کر آصف زرداری بقول خان صاحب کے سب سے بڑی بیما ری سے ہا تھ ملایا جب دستانے اتارے گئے تو ہا تھ اسی طر ح خالی نکلے جس طرح سکندر اعظم کے وقت مرگ کفن سے باہر نکلے ہوئے تھے ، عمر ان خان کو گما ن تھا کہ وزیراعلیٰ بلو چستان کے دستانوں کے ذریعے ان کو ڈپٹی چیئر مین کی نشست نہیںنو ازی گئی تو کیا ہوا اپوزیشن کے قائد کی سیٹ پر تحریک کا نمائندہ براجما ن ہوجا ئے مگر وہ بھی ہا تھ نہیں لگی اگر چہ عمر ان خان کے ساتھ یہ بڑی زیا دتی رہی ، ان کے ذریعے سینیٹ کی دونو ں اہم ترین نشستیں حاصل کر نے کے بعد چاہیے تھا کہ اپو زیشن کے قائد کی نشست معاوضہ میں نہ سہی تحفہ میں ہی ادا کر دی جا تی ۔اب نو از شریف سو ات کے جلسے میںپھبتی کس رہے ہیں اور فرما رہے ہیںکہ الزام خان کی چھٹی ہو نے والی ہے پتہ نہیںکس گما ن میںکہہ رہے ہیں شایدسینیٹ کے اہم عہد و ں کے پس منظر میں بات کررہے ہیںسینیٹ کے ارکان کے انتخا با ت سے سینیٹ کے لیڈر آف اپو زیشن کے انتخابا ت تک جو ہو ااس کے بعد بھی یہ سوچنا کہ چھٹی ہونے والی ہے نا سمجھی ہے ، اس کو سیا سی بصارت نہیں کہا جا سکتا ہے ، عمر ان خان جس طر ح نعر ہ لگا تے ہیں کہ تبدیلی نہیں آرہی ہے بلکہ تبدیلی آگئی ہے گویا چھٹی ہو نہیں رہی ہے ہو گئی ہے ۔سینیٹ کے انتخابات نے دیکھا دیا کہ کس کو کس مقام پر کھڑ اکر دیا گیا ہے ، اس کے علا وہ آصف زرداری نے عملا ًثابت کر دیا ہے کہ ہاتھی مر کر بھی لاکھ کا نہیں سوالا کھ کا ہو جا تا ہے ، ہا تھی کی قیمت اس کی جسامت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے قیمتی اعضا ء کی بنا ء پر بڑھتی ہے ۔ جہا ں تک سینیٹ کے انتخا بات میں اصطبل بکنے کا تعلق ہے تو اس میں سب سے بڑا اصطبل پی ٹی آئی کا بکا ہے جو اس وقت عمر ان خان کے گلے پڑا ہو ا ہے عمر ان خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ نوجو انو ںکی اکثریت کو ٹکٹ دیں گے مگر انہوں نے عام طبقہ سے تعلق رکھنے والو ں کو بری طر ح نظر انداز کیا اور ارب پتی لو گو ں کو ٹکٹ دیئے ان کی سیاست اب عوامی بھر وسے کی نہیں رہی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ گھڑ ریس میں ٹکٹ اسی پر لگا یا جا تا ہے کہ جس کی امید ہو تی ہے کہ یہ جیت جائے گا ۔گھڑ ریس میں بھی ہار جیت ملی بھگت سے کی جا تی ہے اس وقت عمر ان خان اپنی پا رٹی کے بکے ہوئے گھوڑوں سے عوام کی نظر بچانے کے لیے دوسری جما عتوں پر ہا ر س ٹریڈنگ کے الزامات لگا رہے ہیں ۔اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کے اقداما ت نہیں کر رہے ہیں کیو ں کہ وہ جانتے ہیں کہ جو بکے ہیں ان کے خلا ف کارروائی کرنے سے عبوری حکومت کا پلان فیل ہو جا ئے گا اور ادھر ان کی پارٹی کے بارہ ارکان نے اعلان بغاوت کر دیا ہے، جو مصیبت کا ایک الگ سا پھند ہ بن گیا ہے ۔ اس سارے کھیل میں ثمر ات پی پی کی جھولی میں گر رہے ہیں۔ گزشتہ پانچ سال سے سیا ست کے با غ میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جو پھل پی پی کی شاخ سے ٹو ٹتا ہے وہ تحریک کی جھولی میںگرتا ہے اور جو پی ٹی آئی کے شجر سے گر تا ہے تو پی پی کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ مسلم لیگ کے درخت پر نہ ہر یا لی ہے نہ سوکھا ہے تاہم بلا ول بھٹو نے جو ڈیشلایکٹو ازم کے بارے میں بیان دیا ہے یہ ان کی عمدہ بلا غت کی دلیل ہے۔ یہ ہی فریا د وزیر اعظم پاکستان لے کر گئے تھے جس کا فریا د ی کہہ کر تمسخر اڑا دیا گیا ۔

متعلقہ خبریں