Daily Mashriq

سرمایہ دارانہ نظام

سرمایہ دارانہ نظام

اور نیٹو کی دہشتگردی اور انتہا پسندی کی جنگ کی وجوہات میں مغربی ممالک کی مسلم دشمنی، غربت، وسطی ایشیائی ریاستوں پر امریکہ کا قبضہ کر کے قدرتی وسائل کو لوٹنے کی کوشش، روس کے زوال کے بعد امریکہ کا پورے علاقے کا دادا گیر بننا، چین کا ا قتصادی راستہ روکنا، دنیا کے مختلف علاقوں میں کشیدگی اور جنگی کیفیت پیدا کر کے اسلحہ بیچنا اور زوال پذیر سرمایہ دارانہ نظام کاخاص طور پر تحفظ کرنا شامل ہے۔ موجودہ دور میں پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام زوال پذیر ہے، امریکہ اور سرمایہ دار اتحادیوں، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی پوری کوشش ہے کہ اس ظالمانہ اور دولت کے غیر مساویانہ نظام کو ہر حالت میں بچایا جائے۔ اگر امریکہ اور اس کے 28 نیٹو اتحادی ممالک کیمعیشت کا جائزہ لیا جائے تو ان ممالک کی اقتصادیات تقریباً ختم ہیں۔ دنیا کا کل بیرونی قرضہ 546ٹریلین ڈالر ہے جس میں امریکہ 180ٹریلین ڈالر، برطانیہ 130 ٹریلین ڈالر،کینیڈا 120ٹریلین ڈالر کا مقروض ہے۔ اس کے علاوہ نیٹو ممالک کی اوسط اقتصادی شرح نمو 1.6فیصد اور یورپی یونین کی اقتصادی شرح نمو 0.8 فیصد جبکہ چین جو ایک سوشلسٹ اکانومی ہے اس کی شرح نمو 8 فیصد ہے۔ امریکہ2ہزار ارب ڈالر صرف چین کا قرض دار ہے۔ امریکہ کے بینکوں میں ایک ہزار ارب ڈالر چین اور900ارب ڈالر جاپان کے ہیں۔ اگر مندرجہ بالا اقتصادیات کو دیکھا جائے تو اس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام تقریباً تمام دنیا میں ناکام ہو گیا ہے۔ اب امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک کی یہ کوشش ہے کہ اس آمرانہ سرمایہ دارانہ نظام کو بچانے کیلئے لوگوں، ملکوں، ریاستوں کو آپس میں لڑا کر زندہ رکھا جائے۔ مارکس نے کیا خوب کہا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں سول سوسائٹی پر ایک خاص طبقے کا اختیار ہوتا ہے جن کے پاس اقتصادی اور سیاسی دونوں اختیارات ہوتے ہیں۔ اگر ہم مارکس کے بیان کو دیکھیں تو اس سے یہ بات صاف واضح ہو جاتی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ محتاط اعداد وشمار کے مطابق دنیا کے 113 امیر ترین افراد 43 فیصد غریب ممالک کو خرید سکتے ہیں جبکہ دنیا کے 100 بڑے سرمایہ داروں میں 50 کا تعلق امریکہ سے ہے۔ یہ سرمایہ دار امریکہ، برطانیہ اور مغربی ممالک کی حکومتیں اضافی اناج، پھل، چکن اور دوسری اشیاء خورد ونوش کو سمندروں میں پھینکتے ہیں مگر عالمی منڈی میں نہیں بیچتے تاکہ رسد بڑھنے سے ان چیزوں کی قیمتوں میں کمی نہ آئے۔ جو نظام معاشی انصاف اور حقائق پر مبنی نہیں ہوتا وہ دیرپا اور پائیدار ثابت نہیں ہو سکتا۔ مثلاً امریکہ میں ایک چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایک مزدور اور کلرک سے 400گنا زیادہ تنخواہ لیتا ہے۔ صرف امریکہ میں اس وقت 270ارب پتی ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ تعداد ہے مگر بدقسمتی سے اسی نام نہاد مہذب ملک میں ہر چوتھا سیاہ فام اور 22 فیصد ہسپانوی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ اس کے برعکس صرف 4فیصد سفید فام غربت کا شکار ہیں۔ امریکہ میں 6کروڑ لوگ صحت کی انشورنس سے محروم ہیں۔ علاوہ ازیں صرف دو لاکھ لوگ لاس اینجلس میں بے گھر ہیں۔ امریکہ میں ایک فیصد مالداروں کے پاس 45فیصد دولت ہے اور امریکہ کے وسائل کا 50فیصد منافع صرف ایک فیصد لوگ لے رہے ہیں۔ یہی صورتحال برطانیہ میں بھی ہے۔ برطانیہ میں 10فیصد لوگوں کے پاس 50 سے 60فیصد دولت ہے اور ان میں سے اکثر اتنے مالدار ہیں کہ ایک فیصد کے پاس 28 سے 30فیصد تک دولت ہے۔ اگر ہم Have اور have not کا موازنہ کریں تو امریکہ اور یورپ کے 40ملین لوگوں کے پاس جتنی دولت ہے وہ ترقی پذیر ممالک کے 4ارب لوگوں کے پاس نہیں۔ اگر ہم اپنے ملک میں سرمایہ داروں اور کارخانہ داروں کے وسائل کو دیکھیں تو یہ بھی حد سے زیادہ ہے اور غریب ناگفتہ بہ حالات سے گزر رہے ہیں۔ امریکہ اور دیگر یورپی ساہوکار جو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالک ہیں وہ کسی صورت میں سرمایہ دارانہ نظام کیساتھ ایک متوازی نظام کو چلتے دیکھ نہیں سکتے اور اب امریکہ، اتحادی دنیا کے مختلف ممالک میں کشیدگیاں پیدا کر کے ایک طرف تو سرمایہ دارانہ نظام کو تقویت دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف اسلحہ بھی بیچ رہے ہیں۔ اگر ہم اسلحہ کی پوری خرید وفروحت پر نظر ڈالیں تو یہ تقریباً11600ارب ڈالر بنتا ہے جس میں صرف امریکہ کا حصہ 11000ارب ڈالرز ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے برعکس دنیا میں سوشلزم یا دوسرے نظام کامیابی سے چل رہے ہیں۔ انسانی ترقی کی عالمی رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت 177ممالک کی فہرست میں 133ویں نمبر پر ہے، جہاں پر شرح خواندگی48 فیصد ہے۔ 2000 آبادی کیلئے ایک ڈا کٹر، 4000 آبادی کیلئے ایک نرس، 33000 لوگوں کیلئے ایک ڈینٹسٹ اور 1500لوگوں کیلئے ہسپتال میں ایک بیڈ ہے۔ بچوں کی شرح اموات 80فی ہزار، زچگی کے دوران شرح اموات500 فی لاکھ، متوقع زندگی 65سال، کم وزن بچوں کی شرح پیدائش 38فیصد ہے۔ اگر غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والوں کا اندازہ 2 ڈالر یومیہ کے حساب سے لگاتے ہیں تو اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ان لوگوں کی تعداد 77فیصد ہے۔ یہ نظام نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں ناکام ہو چکا ہے کیونکہ اس میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں