Daily Mashriq

کس شمار میں ہم ہیں‘ کس قطار میں تم ہو

کس شمار میں ہم ہیں‘ کس قطار میں تم ہو

مشہور ہے کہ ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلیوں کو کھا جاتی ہے۔ اس صورتحال کامشاہدہ کرنا ہو تو شہر کے اس میگا پراجیکٹ کو ایک طرف رکھ کر جسے پنجاب میں تو تحریک انصاف کے چھوٹے بڑے جنگلہ بس کہہ کر حکومت پنجاب پر شدید تنقید کرتے رہے لیکن اپنی حکومت کے آخری دنوں میں صوبائی دارالحکومت پشاور میں بھی اسی منصوبے کو لگانے کے لئے ’’مجبور‘‘ ہوگئے اور جس کی وجہ سے آج ہمارا شہر (فی الحال) عذاب سے دوچار ہے تاہم امید کی جانی چاہئے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے بہتری آجائے گی۔ ذرا گل بہار کالونی میں گزشتہ سال رمضان سے بھی دو ماہ پہلے شروع کئے گئے سیوریج نالے کے نسبتاً چھوٹے منصوبے کو دیکھ لیجئے جسے ایک سال تو ہو ہی چکا ہے مگر ابھی اس کی تکمیل کے آثار بھی دکھائی نہیں دیتے اور رمضان کی ایک بار پھر آمد آمد ہے۔ گویا حکومت کی ساری توجہ بی آر ٹی پر ہونے کی وجہ سے بے چارے گل بہار کے چھوٹے سے منصوبے کی کوئی اہمیت ہے نہ ہی یہاں رہنے والے عام شہری کسی قطار میں نظر آتے ہیں‘ یعنی

عشق و حسن سب فانی‘ پھر غرور کیا معنی

کس شمار میں ہم ہیں‘ کس قطار میں تم ہو

مقام شکر ہے کہ کم از کم گھنٹہ گھر اور اس سے آگے تحصیل گور گٹھڑی تک آنے والی سڑک پر ارد گرد رہنے والے ہی اس قدر خوش قسمت ہیں کہ وزیر اعلیٰ کے حکم پر جو دوسرا منصوبہ وہاں شروع کیاگیا ہے اس کو دیکھنے اور وہاں کے رہنے والوں کے ساتھ ساتھ دکانداروں کے مسائل حل کرنے کے لئے خود وزیر اعلیٰ نہ صرف بار بار احکامات جاری کر رہے ہیں بلکہ خود بھی کام کاجائزہ لینے وہاں جا چکے ہیں۔ لیکن یہ بد قسمت گل بہار کالونی ایسی ہے کہ یہاں تو وزیر اعلیٰ کیا اس حلقے سے ووٹ لینے والے ایم پی اے نے بھی اب تو یہ علاقہ ہی چھوڑ دیا ہے۔ کچھ مدت پہلے بعض من چلوں نے ایک بینر لگا کر متعلقہ رکن صوبائی اسمبلی جو کچھ مدت کے لئے صوبائی وزیر بھی رہے کی ’’گمشدگی‘‘ پر طنزیہ انداز میں تبصرہ بھی کیا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی تحریر کیا تھا کہ اگر ایم پی اے صاحب تشریف لے آئیں تو انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ خیر یہ تو سب کچھ تفنن طبع کے لئے تھا اور ہماری سیاست میں ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن اصل مسئلہ تو اس سیوریج نالے کے نسبتاً چھوٹے سے منصوبے کا ہے جسے بی آر ٹی جیسے میگا منصوبے نے گہنا دیا ہے اور متعلقہ حکام اس کی بروقت تکمیل سے گویا ہاتھ کھینچ کر تقریباً لا تعلق سے ہو چکے ہیں۔ اور اب یہ منصوبہ (اگر اسے منصوبہ تسلیم کرلیاجائے تو) چیونٹی کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ اس لئے کب تکمیل تک پہنچے گا‘ اس بات کی ضمانت شاید کوئی بھی نہیں دے سکتا۔ حالانکہ ہمیں یاد ہے چند سال پہلے اسی نالے کی تعمیر و مرمت کا ایک منصوبہ شروع کیاگیا تھا تو گل بہار میں جگہ بہ جگہ بل بورڈ لگا کر ان پر منصوبے کی پوری تفصیل اور تکمیل کی مدت لکھوا کر عوام کو واضح طور پر بتایاگیا تھا جس سے عوام اتنا تو جانتے تھے کہ یہ عذاب کب تک ان پر مسلط رہے گا۔ لیکن جب سے یہ نالہ ایک بار پھر تعمیر کیا جا رہا ہے شنید ہے (خدا کرے جھوٹ ہو) اس کے تین ٹھیکیدار کام چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی یہ بتانے کو تیار نہیں ہے کہ بالآخر یہ نالہ کب تکمیل تک پہنچے گا اور اس کے بعد سڑکیں دوبارہ تعمیر کرکے ٹریفک کو رواں دواں کیاجاسکے گاتاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔ گویا بقول نعیم ضرار

یہ سڑک کب کی جا رہی ہے کہیں

پھر بھی موجود ہے وہیں کی وہیں

بات سڑک کی آگئی تو زرا بی آر ٹی کے حوالے سے تعمیر کی جانے والی سڑک کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کی بھی بات کرلی جائے جو ہشتنگری میں گورنمنٹ ہائی سکول نمبر2 سے زرا پہلے سے لے کر کچہری دروازے والی سڑک کے دہانے تک ڈیڑھ ہفتے قبل تعمیر کی گئی ہے۔ سڑک کے اس ٹکڑے کی حالت زار ابھی سے واضح ہے۔ جگہ بہ جگہ کنکریٹ اکھڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اور غالب گمان ہے کہ ایک دو بارشوں کے بعد اس سڑک کی اصل حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ مقصد کہنے کا یہ ہے کہ اگر بی آر ٹی کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ملحقہ دائیں بائیں سڑکوں کی تعمیر اسی قسم کے ناقص میٹریل سے راتوں رات کرکے اگلی صبح ٹریفک کا اژدھام اس پر رواں دواں کرنے کی اجازت دے دی گئی تو انشاء اللہ اگلے ایک ڈیڑھ ماہ میں یہ سڑکیں دوربین میں بھی نظر نہیں آئیں گی اور عوام کو اخبارات میں ان سڑکوں کو ڈھونڈنے کے لئے اشتہارات دینے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ اگر یہ سڑکیں اتنی ہی مضبوط بنا دی جائیں جتنا ان کا حق بنتا ہے تو پھر ٹھیکیدار اور متعلقہ سرکاری اہلکار آنے والے دنوں میں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائیں گے جو یقیناً ’’غلط بات‘‘ ہے۔ آخر انہیں بھی زندگی کی گاڑی دوڑانے کے لئے کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑتا ہے اور اگر کسی ایک منصوبے میں سب کچھ اچھا اچھا ہی کر دیا جائے تو بے روز گاری کا عفریت ان کو کہیں کا نہیں رکھے گا۔ مزید یہ کہ آنے والے مہینوں اور سالوں کے لئے بنائے جانے والے بجٹ بھی لیپس ہونے کے خطرات سر اٹھا سکتے ہیں۔ اس لئے طریقہ کار تو یہی ہے کہ کسی بھی منصوبے میں کہیں نہ کہیں لوپ ہولز چھوڑ دئیے جائیں تاکہ مزید کارکردگی دکھانے کا موقع نصیب ہوسکے۔

کاغذ کے پھول سر پہ سجاکر چلی حیات

نکلی برون شہر تو بارش نے آلیا

متعلقہ خبریں