Daily Mashriq

ہے زندگی کا مقصد اور وںکے کام آنا

ہے زندگی کا مقصد اور وںکے کام آنا

جس گھر میں بزرگ ہوں وہاں ان کے دم سے لازماً برکت بھی ہوتی ہے۔ بزرگوں کا سایہ سب کے لئے باعث برکت اور رہنمائی ہوتا ہے۔یہ وہ پیارے لوگ ہیں جو اپنی زندگی کے بیشتر سال اپنوں کی زندگی کو سہل بنانے کی تگ و دو میں صرف کرتے کرتے اس مقام تک آپہنچتے ہیں جہاں اب وہ دوسروں سے نرم رویے کے متقاضی ہوتے ہیں۔۔۔بڑے بوڑھوں کی حیثیت گھر میں اس چھتنار کی مانند ہے جو ہر سرد وگرم سے بچانے کے لیے سایہ فگن ہو۔۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بیشتر افراد بزرگی کی عمر تک پہنچ کر بہت سی ان بنیادی چیزوں کے لیے تکلیف اٹھاتے ہیں جنکی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔۔اپنے اطراف ہی کی مثال لے لیں یقینا بہت سے ایسے افراد نظر آئیں گے جو بزرگی کے باعث تنہائی کا شکار ہونگے،،انکے پاس فرصت کے لمحات نکال کر بیٹھنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ ہسپتالوں میں جائیں تو جھکی کمر اور لاغر وجود لیے یہ بیچارے سن رسیدہ اپنی باری کے انتظار میں کسی کونے میں بیٹھے ہوئے ملیں گے یا پھر اپنی بچی کھچی ہمتیں مجتمع کرکے کام نمٹانے کی کوشش میں لگے ہونگے۔بعض مناظر تو دل کو آزردہ ہی کردیتے ہیں جب کسی عمررسیدہ فرد کو جوانوں سے زیادہ سخت کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔معاشی مسائل سے نبردآزما معاشرے میں بزرگوں کے لیے بھی سہولیات ایک خواب سی ہیں لیکن اب دل کو کچھ امید بندھ گئی ہے کہ یہ قابل قدر بزرگ اب کچھ سہولیات سے مستفید ہو سکیںگے۔۔خیبر پختونخوا میں بزرگ اور معمر افراد کو معاشرے کا ایک اہم ترین حصہ سمجھتے ہوئے انکے لیے قدرے آسانیوں کا راستہ ڈھونڈا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا سینئر سٹیزن ایکٹ محکمہ سماجی بہبود کی ایک ایسی کاوش جس پر مکمل عملدرآمد سے معاشرے کے ان محترم افراد کی ان خدمات کا کچھ حق ادا ہوسکے گا جو وہ اپنی اپنی جگہ ادا کرتے آئے ہیں۔چاہے مزدور ہوں،بازاروں میں ریڑھی یا چھابڑی لگاتا کوئی محنت کش ہو،کوئی سرکاری ملازم ہو یا کوئی کسان۔۔۔یہ سب بزرگ محترم ہیں ان کی قدر ہر ذمہ دار شہری پر لازم ہے۔۔پاکستان میں سال2017کی مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق کل آبادی کا سات فیصد حصہ ساٹھ سال سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل ہے۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے ان پندرہ ممالک میں ہوتا ہے جہاں 10ملین سے زائد افراد بزرگ شہریوں کے زمرے میں آتے ہیں یعنی انکی عمر ساٹھ سال یا اس سے زائد ہے۔یوں یہ کافی تعداد بنتی ہے ۔ اپنے صوبے خیبر پختونخوا کی بات کی جائے تو یہاں بھی مردم شماری نے آبادی میں بڑھوتری ظاہر کی ہے اور اسی طرح اس صوبے میں بھی مجموعی آبادی کا2.7فیصد حصہ بزرگوں کو ظاہر کرتا ہے۔ صوبے میں تقریباً 23لاکھ افراد ساٹھ یا اس سے زائد عمر کے ہیں جن میں بزرگ مرد وخواتین کی تعداد تقریباً یکساں ہے۔خیبر پختونخوا کے سینئر سٹیزن ایکٹ کی رو سے صوبے کے طول و ارض میں ساٹھ سال یا اس سے زائد عمر کے باسی سینئر سٹیزن ہیں اور انکے لیے صوبائی حکومت نے کچھ بنیادی ضروریات و سہولیات کا تعین کردیا ہے جو انہیں باآسانی مل سکیں گی۔سب سے اہم ترین اور بنیادی ضرورت ہے وہ صحت کی سہولیات تک بزرگ شہریوں کی رسائی آسان بنانا ہے۔سینئر سٹیزن ایکٹ کا اہم ترین پہلو ہے کہ معمر افراد کے لیے تمام سرکاری ہسپتالوں میں علیحدہ او پی ڈی کائونٹرز ہوں جس میں کسی دھکم پیل کا شکار ہوئے بغیر باآسانی اپنا علاج معالجہ کرا سکیں۔ ساتھ ہی ساتھ بزرگوں کو بہتر طبی سہولیات کی بروقت فراہمی کے لیے ہسپتالوں میں الگ وارڈز بھی مخصوص ہونگے۔اس ضمن میں محکمہ صحت کی جانب سے اپنے تمام ہسپتالوں کو مراسلہ بھی کیا جاچکا ہے کہ سینئر سٹیزن ایکٹ پر عملدرآمد جلد شروع کیاگیا ہے۔ محکمہ سماجی بہبود صوبے میں بزرگ شہریوں کے مکمل و مفصل اعدادوشمار بھی جمع کررہا ہے تاکہ مستقبل میں اگر اسی پلیٹ فارم سے بزرگ شہریوں کے لیے مزید سہولیات کا جراء کیا جائے تو اس سے سب مستفید ہوسکیں۔جو پڑھے لکھے ہیں ،،عمر رفتہ کے ساتھ تنہائی کا شکار ہیں وہ کتابوں سے دوستی میںوقت بتانا چاہیں تو انکے لیے شہر میں موجود کسی بھی لائبریری میں لمحات صرف کرنا آسان ہوگا انکے لیے کوئی داخلہ یا ممبرشپ فیس نہیں ہوگی۔کسی بھی پارک میں بزرگ دوست اپنے بیتے ماضی کے قصوں میں محفل جمانا چاہیں تو بھی ان سے داخلہ پاس کے پیسے نہیں لیے جائیں گے ،شہر میں ہونے والی تفریحی سرگرمیوں میں بھی بزرگ شہری اپنی جیب پر بوجھ دالے بغیر حصہ دار بن سکیں گے۔اب ضروری امر یہ ہے کہ تمام بزرگ شہریوں کو اس قانون اور اس کے تحت ملنے والی سہولیات کا علم ہونا چاہیئے ۔کیونکہ عمر کے اس حصے میں اکثر وبیشتر ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے چکر لگانے پڑ جاتے ہیں ۔اب چونکہ بہت سے ایسے بزرگ بھی ہیں جو ناخواندہ ہیں یا جن کو اس حد تک معلومات نہیں تو ان شہریوں کو بھی اس بارے میں آگاہ کرنا ضروری ہے۔سہولیات ومراعات کے لیے موجود قوانین سے اگر لاعلمی ہو تو اس کا صحیح مصرف ہو نہیں پاتا ۔اس لیے یہ معاشرے کے تمام باشعور افراد کا فرض ہے کہ وہ ایسے طبقات تک وہ تمام معلومات پہنچائیں جس میں انکی بھلائی مضمر ہو۔ ان تمام سن رسیدہ افراد کو رجسٹریشن کے ان امور سے آگاہ کرانا چاہیئے تاکہ کل کو حکومت کی جانب سے ملنے والی کسی اور سہولت جو کہ سینئر سٹیزن کے تحت ملے تو وہ اس سے مستفید ہوسکیں۔

متعلقہ خبریں