Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

اموی حکومت میں امام شعبیؒ مختلف اوقات میں مختلف خدمات اور عہدوں پر مامور ہوتے رہے۔ حجاج انہیں بہت مانتا تھا‘ اس لئے اپنے دور امارت میں ان کو بہت آگے بڑھایا۔ ان کے وظیفے میں اضافہ کیا‘ انہیں ان کا قبیلہ کا امام اور عریف (چوہدری) بنایا اور سرکاری وفود میں عبدالملک کے پاس بھیجتا تھا۔

(ابن سعد ج 6ص 173)

ان کے فہم و تدبر کی وجہ سے خود خلیفہ عبدالملک بعض اہم خدمات اور ان کے متعلق کرتا تھا اور بڑی سفارتوں میں ان کو بھیجتا تھا‘ خود شعبیؒ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ عبدالملک نے مجھ کو ایک سفارت میں قیصر روم کے پاس بھیجا‘ قیصر نے مجھ سے جس قدر سوالات کئے میں نے سب کے صحیح جواب دئیے۔ وہاں سفراء کے زیادہ دنوں تک ٹھہرانے کا دستور نہ تھا لیکن اس نے مجھ کو بہت دنوں تک روکے رکھا یہاں تک کہ میں گھبرا کر لوٹنے کے لئے آمادہ ہوگیا۔ اس وقت اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم شاہی گھرانے سے ہو؟

میں نے کہا نہیں بلکہ عام عربوں میں سے ہوں۔

یہ سن کر اس نے زیر لب کچھ کہا اور ایک رقعہ مجھے دیا کہ اپنے بادشاہ کو میرے پیغامات پہنچانے کے بعد یہ رقعہ دے دینا‘ میں نے واپس ہو کر پیغامات تو پہنچا دئیے مگر رقعہ دینا بھول گیا۔ دارالخلافہ سے نکلتے وقت رقعہ یاد آیا‘ میں نے واپس جا کر اس کو عبدالملک کے حوالے کیا‘ اس نے رقعہ پڑھ کر مجھ سے پوچھا:

قیصر نے رقعہ دینے سے پہلے تم سے کچھ کہا بھی تھا؟ میں نے کہا ہاں اس نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا تم شاہی خاندان سے ہو؟

میں نے جواب دیا نہیں‘ میں عام عربوں میں سے ہوں۔ یہ کہہ کر میں واپس ہوگیا۔ دروازہ تک پہنچا تھا کہ عبدالملک نے پھر بلا لیا اور پوچھا تم کو رقعہ کا مضمون معلوم ہے؟

میں نے کہا نہیں۔اس نے پڑھنے کو کہا۔ میں نے اسے پڑھا تو اس میں لکھا تھا کہ ’’مجھے اس قوم پر حیرت ہوتی ہے کہ ایسے شخص کے ہوتے ہوئے اس نے ایک دوسرے شخص کو بادشاہ کیسے بنایا؟‘‘

یہ تحریر پڑھ کر میں نے عبدالملک سے کہا‘ خدا کی قسم! اگر مجھے پہلے سے اس مضمون کا علم ہوتا تو میں کبھی اسے نہ لاتا۔ اس نے ایسا اس لئے لکھا کہ آپ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔‘‘عبدالملک نے مجھ سے پوچھا:تم سمجھے اس لکھنے کا مقصد کیا ہے؟

میں نے کہا: نہیں۔

عبدالملک نے کہا مجھے تمہارے خلاف بھڑکا کر تمہارے قتل پر آمادہ کرنا چاہا ہے‘ قیصر کو عبدالملک کا یہ قیاس معلوم ہوا تو اس نے کہا واقعی میرا یہی مقصد تھا۔

(ابن خلکان ج اول ص34)

لیکن اموی حکومت کے ساتھ ان کے روابط زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکے۔ ابن اشعث کے ہنگامہ کے زمانے میں حجاج اور عبدالملک کی مخالفت کے زمانے میں ابن اشعث کا ساتھ دیا۔

(تذکرۃ الحفاظ ج اول 74)

متعلقہ خبریں