Daily Mashriq


پاک بھارت مذاکرات کا صائب مشورہ

پاک بھارت مذاکرات کا صائب مشورہ

بھارت میں پاکستان کے سبکدوش ہونے والے ہائی کمشنر عبدالباسط نے بھارتی میڈیا میں چھپنے والے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو مزید کسی تاخیر اور شرائط کے بغیر مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہئے۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا میں شائع اپنے ایک آرٹیکل میں انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے نریندر مودی کی حلف برداری تقریب میں دیگر سارک رہنمائوں کے ہمراہ شرکت کی تھی جو تعلقات کو نئے ولولوں سے شروع کرنے کی ہماری مخلصانہ خواہش کاعکاس ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دائمی امن کے لئے ایل او سی پر امن و امان کا قیام اور سیاچین اور سر کریک کے تنازعات کا حل انتہائی ضروری ہے۔ بھارت کے اکثریتی عوام کو معلوم ہی نہیں کہ جموں،و کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازع ہے بلکہ وہ دہشت گردی کو بنیادی مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے تنازعہ کو پس پشت نہیں ڈال سکتا۔ جناب عبدالباسط کا پاکستان کی وزارت خارجہ کے نہایت سینئر اور تجربہ کار افسران میں شمار ہوتاہے جنہوں نے وزارت خارجہ میں مختلف حیثیتوں سے کام کرتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ رابطوں میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ان کی کارکردگی نہایت اہمیت کی حامل ہے اور دونوں ملکوں کے مابین کشمیر کے تنازعے کے ضمن میں ان کی سوچ اور تجربہ نہایت ہی اہم ہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک نہ صرف وزارت خارجہ کے پاک بھارت ڈیسک کے ساتھ وابستہ رہے ہیں اور اس حوالے سے تعلقات کے اتار چڑھائو پر گہری نگاہ رکھتے ہیں بلکہ بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر کی حیثیت سے انہوں نے اس معاملے کو مزید قریب سے جا کر دیکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اپنے مضمون میں انہوں نے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں جس کلیدی نکتہ کی جانب اشارہ کیا ہے وہ دونوں ملکوں خصوصاً بھارتی پالیسی سازوں کی توجہ مبذول کرانے کا باعث بننا چاہئے کہ '' بھارت کے عوام کی اکثریت کو معلوم ہی نہیں کہ جموں و کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازع ہے بلکہ وہ دہشت گردی کو بنیادی مسئلہ قرار دے رہے ہیں''۔ اس کا سیدھا سادہ مطلب یہی بنتا ہے کہ بھارتی حکام اپنے عوام کے ذہنوں میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے درست معلومات بٹھانے میں کامیاب ہی نہیں ہوسکے' کیونکہ انہیں علم ہے کہ اگر بھارتی عوام کو اصل حقائق کاعلم ہو جائے تو وہ اپنی حکومت پر اس مسئلے کو انصاف کے تقاضوں اور عالمی اصولوں کے تحت حل کرانے پر زور دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے بلکہ بھارتی حکام نے دہشت گردی کی آڑ لے کر اپنے عوام کو یہ باور کرایا ہواہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جنگ میں مصروف حریت پسند کشمیری خدانخواستہ دہشت گرد ہیں اس لئے اگر بھارتی افواج وہاں پر ظلم و جبر کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں تو یہ دہشتگردی کے خاتمے کی کوششیں ہیں۔ بھارتی افواج کے ہاتھوں کشمیری عوام پر توڑے جانے والے مظالم' انسانی حقوق کی مالی' پیلٹ گنز سے بے گناہ مظاہرین کو بصارت سے محروم کرنے کی مذموم پالیسی اور روزانہ کئی علاقوں میں آزادی کے لئے مظاہرے کرنے والے بے گناہ بوڑھوں' جوانوں' بچوں اور خواتین کو موت کے گھاٹ اتارنے کے عمل کے باوجود اگر آزادی کے متوالے اپنے انسانی حقوق سے دستبردار ہونے پر تیار نہیں ہیں تو اس پر بھارتی پالیسی سازوں کو ہوش کے ناخن لینے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ پاکستان تو خیر کشمیری عوام کے ساتھ اپنے وعدے کے مطابق ان کی سفارتی' اخلاقی اور سیاسی معاونت پر آمادہ ہے ہی اور بھارتی حکام کو ہمیشہ اس مسئلے کو پر امن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا رہتا ہے لیکن خود بھارت کے اندر نہ صرف بھارت کا ساتھ دینے والے کشمیری قیادت جیسے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ بھی اب بھارتی حکمرانوں کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی تلقین کر رہے ہیں اور ان کے علاوہ بھارت کے دوسرے علاقوں سے بھی اب کشمیریوں کے حق میں آوازیں تسلسل کے ساتھ سنائی دے رہی ہیں اور ہندو' عیسائی' سکھ رہنماء اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھی کشمیریوں پر ظلم ڈھائے جانے پر سخت گرفت کرکے بھارتی حکمرانوں کو مشورے دے رہے ہیں کہ وہ تحریک آزادی کشمیر کے لئے دی جانے والی کشمیری نوجوانوں کی قربانیوں سے آنکھیں بند کرکے بھارت کو مصیبت میں مبتلا کر رہے ہیں۔ اس لئے اس مسئلے کا مستقل ' دیر پا اور پرامن حل تلاش کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی سبیل کرے کیونکہ یہ رہنماء اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارتی حکمرانوں کاجنگی جنون خطے میں امن کے قیام کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے اور بھارت میں بڑھتی ہوئی غربت کابھی باعث ہے۔بھارتی حکمران عقل کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتے اور کشمیری عوام پر ظلم و ستم اور پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ اس لئے یقین سے تو نہیں کہا جاسکتا کہ وہ پاکستانی سفارتکار کے مشورے پر عمل کرنے پر تیار ہو جائیں گے۔

متعلقہ خبریں