Daily Mashriq


افغانستان سے امریکی انخلاء

افغانستان سے امریکی انخلاء

واشنگٹن سے آنے والی بعض اطلاعات کے مطابق امریکہ کے مشیر برائے قومی سلامتی میک ماسٹر کی جانب سے افغانستان میں تعینات امریکی فوج یا نجی کمپنیوں سے حاصل کئے جانے والے اہلکاروں کی تعداد میں اضافے کی سفارش کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسترد کر دیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے '' سب سے پہلے امریکہ '' کا جو نعرہ لگایا تھا وہ اس میں سنجیدہ ہیں اور اس مقصد کیلئے نہ صرف گزشتہ 15برس سے افغانستان میں اپنی فوج اور سویلین اہلکاروں پر صرف ہونے والے اخراجات کم کرنے کی پالیسی پر کاربند ہیں بلکہ ایک غیر مقبول افغان حکومت کے مالی امداد سے بھی ہاتھ کھینچنے والے ہیں۔ افغانستان میں تعینات فوجیوں میں تجویز کر دہ '' مناسب '' اضافے سے یوں بھی بہتری کی کوئی توقع نہیں تھی۔ اگر گزشتہ حکومتی ادوار میں فوج کی تعداد میں بھاری اضافے کے باوجودطالبان مزاحمت پر قابو نہیں پایا جا سکتا تو مزید چند ہزار کے اضافے سے بھی یہ مقصدحاصل ہونے والا نہیں ، ان خیالات کا اظہار پاکستان کے ایک اہم دفاعی تجزیہ نگار نے اپنے تازہ تجزیئے میںکیا ہے ، تجزیئے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبان نے امن کاوشوںمیںشامل ہونے کیلئے افواج کے انخلا ء کی شرط رکھی تھی ۔ جس پر غالباً اب امریکی صدر نے سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا ہے ، یہاں خاص طور پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں امریکی حکومتی واچ ڈاگ کی جانب سے کانگریس میں فائل کی گئی ایک خفیہ رپورٹ میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ افغان سیکورٹی فورسز کم عمر لڑکوں کے ساتھ نازیبا حرکات میں ملوث ہیں ، اور سپیشل انسپکٹر جنرل آف افغانستان ری کنسٹر کشن ( سگار) کا کہنا ہے کہ افغان حکام اس عمل کو روکنے میں ناکام رہے ہیں ، افغان صدر اشرف غنی نے رواں برس پہلی مرتبہ اس قبیح حرکت کے مرتکب افراد پر بھاری جرمانہ عاید کرنے کی سفارشات کی تھیں تاہم حکومت کی جانب سے ان سفارشات کو لاگو کرنے کا حتمی وقت نہیں دیا گیا ، کانگریس کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق سگار نے بتایا کہ افغان حکام کم عمر لڑکوں کو افغان سیکورٹی فورسز میں بھرتی کرتے ہیں جو طالبان کا دبائو برداشت اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس لئے طالبان نصف سے زیادہ افغانستان پر قابض ہونے میں کامیاب ہوچکے ہیں ، کسی صورت میں صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی باشندوں کو بلاوجہ ہلاکت میں ڈالنے سے انکار کی آسانی سے سمجھ آجاتی ہے اور افغانستان میں امن کے قیام کیلئے طالبان کے ساتھ مذاکرات بھی تب کا میابی سے ہمکنارہو سکتے ہیں اگر طالبان کی شرائط پر آمادگی ظاہر کی جائے ۔

صرف پانامہ لیکس کیوں ؟

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کا فیصلہ آنے سے جماعت اسلامی کی کرپشن فری پاکستان تحریک کو تقویت ملی ہے ، جماعت اسلامی سب کا بلا امتیاز احتساب چاہتی ہے پانامہ لیکس میں شامل دیگر 400پاکستانیوں کا بھی محاسبہ چاہتے ہیں ، گزشتہ روز سوات میں ایک تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس نے بھی ملکی دولت لوٹی ہو اس کا کڑا احتساب ہونا چاہیئے ، جہاں تک جناب سراج الحق کے مطالبے کا تعلق ہے اصولی طور پر اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں اور اسلامی عدل وانصاف کے اصولوں کا تقاضا بھی یہی ہے کہ احتساب کا عمل صرف ایک خاندان تک محدود رکھ کر باقی تقریباًچارسو افراد سے تعرض نہ رکھنے کی پالیسی پرکئی سوال اٹھیں گے ، تاہم محسوس ہوتا ہے کہ اس ضمن میں محولہ اداروں کے اندر کوئی ہلچل موجود نہیں ہے جو یقینا بے انصافی ہوگی ۔ جبکہ اس کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہو تا ہے کہ احتساب کا عمل صرف پانامہ تک محدود رکھنا بھی وہ مقاصدر پورے نہیں کر سکے گا جو کرپشن کے خاتمے کا متقاضی ہے کیونکہ بد قسمتی سے ملک میں ایوبی دور سے لے کر آج تک اگر لاکھوں نہیں تو ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے مختلف ادوار میں بنکوں سے اربوں کھربوں کے مجموعی قرضے لے کر سیاسی یا دوسری بنیادوں پر شیر ماد ر سمجھ کر ہڑپ کر لئے اور اسی لوٹی ہوئی دولت کے بل پرا ن کی اولادیں عیش و عشرت کرتی رہی ہیں ، اس سلسلے میں صرف قرضوں کی معافی تک بات محدود نہیں رہی بلکہ پورے پورے بنکوں کو ڈکارنے کی وارداتیں بھی ''دن دیہاڑے '' سامنے آتی ہیں ، اور عوام مہران بنک اور بنک آف پنجاب میں ہونے والی ''ڈاکہ زنی '' اب تک نہیں بھولے ، یہ کام اس قدر سائنسی بنیادوں پر عمل میں لائے گئے کہ حیرت ہوتی ہے اس لئے پانامہ میں جن لوگوں کا تذکرہ ہے ان کے گرد گھیر ا تنگ کرنے کے ساتھ ساتھ گزشتہ ساٹھ پینسٹھ برس کے دوران بنکوں سے بھاری قرضے حاصل کرکے معاف کرانے والوں کے خلاف بھی اقدام اٹھائے جائیں ۔ اور اس تمام کام کی نگرانی سپریم کورٹ آف پاکستان اگر خود کرے تو انصاف کے تقاضے پورے ہونے کے ساتھ ساتھ کسی کو اس عمل پر اثر انداز ہونے کی جرأت بھی نہیں ہو سکے گی ۔

متعلقہ خبریں