Daily Mashriq

وزیر اعظم خاقان عباسی کا انتخاب

وزیر اعظم خاقان عباسی کا انتخاب

جمہوری عمل آگے بڑھ رہا ہے۔ حکمران مسلم لیگ کے خاقان عباسی وزیر اعظم منتخب ہو گئے ہیں۔ ان کا بطور وزیراعظم انتخاب تو اسی دن ہو گیا تھا جب انہیں حکمران مسلم لیگ کے امیدوار کے طور پر نامزد کیاگیاتھا۔ 342کے ایوان میں مسلم لیگ ن کے 188ارکان ہیں یہی تعداد سادہ اکثریت بنتی ہے اور پھر مسلم لیگ ن کے اتحادی بھی ہیں۔ اس لیے قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کا انتخاب ایک رسمی کارروائی تھی جو مکمل ہو گئی اور خاقان عباسی 221ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے ان 221 ووٹوں میں خود مسلم لیگ اور اتحادی جماعتوں کے بھی چند ووٹ شامل نہیں ہیں۔ دیگر جماعتوں کے بھی سات ارکان اجلاس میں نہ آئے اور مجموعی طور پر 35ارکان اسمبلی ایسے تھے جنہوں نے وزیر اعظم کے انتخاب میں ووٹ نہیں ڈالا۔ اس کی وجہ کوئی سیاسی سمت بندی نہیں قرار دی جا سکتی بلکہ وہ یقین تھاجو نامزد وزیر اعظم کے بطور وزیر اعظم انتخاب کے حوالے بالعموم تھا۔ یہ یقین صرف مسلم لیگ ن کے ارکان کا ہی نہیں تھا بلکہ اپوزیشن پارٹیوں کی توقع بھی یہی تھی۔ اسی لیے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید کو تحریک انصاف کا امیدوار نامزد کیا۔ البتہ اس پر اپوزیشن پارٹیوں خاص طور پر پیپلز پارٹی کا اعتراض محض سیاست گری ہے۔ جن کا کہنا یہ ہے کہ عمران خان نے امیدوار نامزد کرنے سے پہلے اپوزیشن پارٹیوں سے مشورہ نہ کیا جس کے نتیجے میں متفقہ امیدوار لایا جا سکتا تھا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے اپوزیشن پارٹیوں کو منقسم کر دیا ہے حالانکہ اپوزیشن متحد ہی کب تھی جسے عمران خان کے فیصلے نے منقسم کیا۔ تاہم یہ بات ظاہر ہے کہ عمران خان نے وزارت عظمیٰ کے انتخاب کے لیے شیخ رشید کو نامزدکرنے میں پہل کرکے یہ پیغام دیا کہ ملک میں مسلم لیگ ن کے خلاف حقیقی اپوزیشن صرف ان کی پارٹی ہے۔ اپوزیشن کے متفقہ امیدوار نے مسلم لیگ ن کی عددی اکثریت کے سامنے ہار تو جانا ہی تھا۔ تاہم عمران خان اگر متفقہ امیدوار لانے پر رضامند ہو جاتے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ عمران خان کی چار سال کی محنت سے تحریک انصاف کو حقیقی اپوزیشن ثابت کرنے کی کوشش کو پیپلز پارٹی، جو ایوان میںاپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہے، اپنی سرپرستی میں لے لیتی۔ 

یہ باتیں تو پرانی ہو چکی ہیںحاضر خبر یہ ہے کہ وزیر اعظم خاقان عباسی نے اپنی ترجیحات کا اعلان کر دیا ہے جس میں پہلی ترجیح انہوں خود کار اسلحہ کے لائسنس جاری کرنے ، ناجائز اسلحہ پر پابندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 45دن میں 45ماہ کا کام کرکے دکھاؤں گا۔ اس بیان کا کیا مطلب تھا، واضح نہیں ہوا۔ 45دن کی مدت وہ تصور کی جا رہی ہے جس میں بعض مبصروں کے نزدیک میاں شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے لیے منتخب کرایا جائے گا جب کہ 45ماہ کی مدت آئندہ پونے چار سال تک جاتی ہے جب کہ عام انتخابات میں صرف دس ماہ باقی ہیں۔ شاید ان کا اشارہ تیز تر کارکردگی کی طرف ہو۔ تاہم وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد عوام میں ان کے ہر لفظ کے معنی تلاش کیے جائیں گے ، وہ پرانے سیاسی ورکر ہیں انہیں اس بات کااندازہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف ہی وزیراعظم ہیں وہ عوامی وزیر اعظم ہیں اور ان کے خلاف فیصلہ عوام نے قبول نہیں کیا۔ یہ ان کے اپنے لیڈر کے بارے میں جذبات کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پالیسی پر ہی عمل کرتے رہیں گے۔ مسلم لیگ ن کا وزیر اعظم ہونے کے ناطے ان سے پارٹی ہی کی پالیسیوں پر عمل کرنے کی توقع کی جانی چاہیے وزیر اعظم خاقان عباسی نے اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ میاں نواز شریف کے دور وزارت عظمیٰ میں ملک نے معیشت کے میدان ترقی کی۔ شیخ رشید نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ اس دوران ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔ خاقان عباسی نے کہا کہ وہ میاں نواز شریف کی پالیسیوں پر عمل کرتے رہیں گے اس پر شیخ رشید نے غالباً طنز کیا کہ وزیر اعظم خاقان عباسی نے اپنی تقریر میں خارجہ پالیسی کو نظر انداز کیا ہے۔ البتہ شیخ رشید نے انہیں یاد دلایا کہ ناجائز اسلحہ سے ملک کو خالی کرنے کے پہلے بھی بہت سے وعدے ہوتے رہے ہیں۔ یہ کٹھن کام ہے۔وزیر اعظم خاقان عباسی کے اس اعلان سے لگتا ہے کہ ان کی گزشتہ چند دن کے دوران سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو ممکن ہے وہ ملک میں ناجائز اسلحہ کی موجودگی کے گمبھیر مسئلہ سے بہتر آگاہی کے حامل ہوتے۔ ملک میں کتنا ممنوع اور ناجائز اسلحہ ہے اس کا اندازہ کرنا عام آدمی کے لیے مشکل ہے۔ کراچی میں' بلوچستان میں' خیبرپختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ناجائز اسلحہ اور گولہ بارود کے بھاری ذخائر برآمد کیے ہیں۔ ناجائزاسلحہ و گولہ بارود کے ان ذخائر کے برآمد ہونے سے دو سوال ابھرتے ہیں۔ اول یہ کہ یہ اسلحہ آیا کہاں سے اور دوسرا یہ کہ یہ اسلحہ جاتا کہاں ہے۔ افغانستان میںتو اسلحہ تیار نہیںہوتا جہاںسے دہشت گرد پاکستان آتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ اسلحہ سمندر کے راستے پاکستان آتا ہے اور یہاں سے افغانستان تک جاتا ہے اور ملک کے دوسرے حصوں میں پہنچتا ہے۔ اس لیے اس کاروبار میںایک تو دہشت گرد تنظیمیں ملوث ہو سکتی ہیں اور دوسرے اسلحہ کی تجارت کے نہایت طاقتور مافیاز۔ تیسرے وہ علاقائی بااثر لوگ جو اپنی شان و شوکت کے لیے یا اپنی دولت کی حفاظت کے لیے محافظ رکھتے ہیں ، ان کے لیے اور اپنے لیے اسلحہ خریدتے ہیں۔ اور جو لوگ ان کو اسلحہ فروخت کرتے ہیں ۔ یہ اسلحہ جس طرح ساحلی علاقوں سے آ کر سارے ملک سے ہوتا ہوا افغانستان پہنچتا ہے اس میں نہ صرف دہشت گردوں اور اسلحہ مافیاز کے سہولت کاروں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعض اہل کاروں کا ملوث ہونا بھی بعیدازامکان نہیں۔ اگر وزیراعظم خاقان عباسی ناجائز اسلحہ کے خلاف موثر کارروائی کریں گے تو اس کے دور رس نتائج نکلیں گے۔امیدہے وزیر اعظم خاقان عباسی جلد اس کام کا آغازکریں گے۔

اداریہ