Daily Mashriq

جمہوریت آبِ رواں ہے

جمہوریت آبِ رواں ہے

آمریت جوہڑ ہے جہاں وقت کا دھارا رک کر تعفن پیدا کرتا ہے اور جمہوریت آب ِرواں ہے جو اپنی متعین سمت اور معین رفتار کے ساتھ بہتا اور بہتا چلا جاتا ہے ۔یہاں افراد آتے اور اپنا کردار ادا کرکے رخصت ہوتے ہیں۔ آمریت میں کسی حکمران کے مسند سے اترنے کے لئے انقلاب یا فرشتۂ اجل کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور لوگ حاکموں کے چہرے دیکھ کر تنگ آجاتے ہیں ۔نسلیں چہرے بدلنے کی امید میں کھپ جاتی ہیں ۔ جمہوریت میں اس کے برعکس ہوتا ہے ۔کل تک جس مسند پر میاں محمد نوازشریف براجمان تھے اب اس کرسی پرشاہد خاقان عباسی براجمان ہوگئے ہیں ۔پنتالیس دن بعد یہی کرسی کسی اور کے حصے میں آئے گی ۔ کیونکہ ملک کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے میاںنوازشریف کی عدالت سے نااہلی کے بعد شاہد خاقان عباسی کو عبوری وزیر اعظم منتخب کر لیا۔شاہد خاقان عباسی کا تعلق مری سے ہے اوروہ سابق وفاقی وزیر خاقان عباسی کے فرزند ہیں ۔جنہوں نے 1985کے غیر جماعتی انتخابات میں جنرل ضیاء الحق کی کابینہ کے طاقتور وزیر اور اوپننگ بیٹسمین کہلانے والے راجہ ظفر الحق کو ایک کانٹے دار اور ملک گیر شہرت کے حامل مقابلے میں شکست دی تھی ۔اوجڑی کیمپ کے حادثے میں خاقان عباسی کی رحلت کے بعد شاہد خاقان عباسی نے سیاست کے میدان میں قدم رکھااوروہ چھ بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس عرصے میں انہیں ایک بار شکست کا سامنا کرنا پڑا اس کی وجہ بھی الیکشن میں ان کی عدم دلچسپی بتائی جاتی ہے ۔شاہد خاقان عباسی کو جنرل مشرف کے طیارہ سازش کیس میں دو سال جیل میں بھی گزارنا پڑے۔شاہد خاقان ڈیڑھ ماہ کے لئے وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہیں گے جس کے بعد انتخابات میں کامیابی کی صورت میں شہباز شریف مستقل وزیر اعظم کے طور پر کام کریں گے ۔شاہد خاقان ایک صلح جو اور معتدل مزاج سیاست دان کی شناخت رکھتے ہیں ۔انہیں مسلم لیگ ن کے عقابوں کی بجائے فاختائوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن اب عدلیہ کے فیصلے کو عملی طور پر قبول کرچکی ہے اور کسی تصادم کے موڈ میں نہیں جس کا تاثر مسلم لیگ ن کے عقابوں کی طرف سے دیا جارہا تھا ۔یہ مثبت رویہ ہے اور جمہوریت قانون اور پارلیمان کے آگے خود سپردگی کا نام ہے ۔شاہد خاقان عباسی جمہوری نظام کے تسلسل کا نام ہیں۔پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد ملکی سیاست میں ایک اُبال سا آرہاہے ۔مسلم لیگ ن کے کارکن اس فیصلے سے دلبرداشتہ ہیںجبکہ اپوزیشن جماعتیں اس فیصلے کو عین انصاف قرار دے کر خوشی کا اظہار کر رہی ہیں ۔ہر فیصلے کے نتائج کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں ۔جن کے مفاد ات کا قتل ہوتا ہے وہ دھاڑیں مار مار کرروتے اور بین کرتے ہیں ۔انہیں دنیا ختم ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ ان کے لئے زندگی بے رنگ اور پھیکی ہو جاتی ہے اور جنہیں اس فیصلے سے اچھے کی امید ہوتی ہے وہ اسے تاریخی قراردیتے ہیں۔کسی بھی اقدام کے اچھے یا برے ہونے کا اصل فیصلہ وقت کرتا ہے اور اس فیصلے کے اثرات کی روشنی میں کرتا ہے ۔اگر کوئی فیصلہ ملک اور قوم کو بہتری اور استحکام اور خوش حالی کی طرف لے جانے کا باعث بنے تو کچھ لوگوں کی ناراضگی کے باوجود وقت اسے اچھا ثابت کرتا ہے اور اگر اس کے برعکس ہو تو قبولیت عامہ کے باوجود وہ فیصلہ مضر قرارپاتا ہے اور مورخ بھی اسے اچھے الفاظ سے یاد نہیں کرتا ۔ میاں نوازشریف نے اس فیصلے کو تاریخ کے حوالے کیا ہے ۔میاں نوازشریف کے حوالے سے فیصلے کے اچھا یا برا ہونے کا تعین بھی وقت اس کے اثرات کو جانچ کر ہی کرے گا ۔سردست مسلم لیگ ن کی قیادت نے اس فیصلے پر تحفظات کے اظہا ر کے باوجود اس پر من وعن عمل کرنا شروع کردیا ہے یہی جمہوریت کا حسن ہے ۔جمہوریت میں افراد ناگزیر نہیں ہوتے سسٹم کا پہیہ رواں رہنا ضروری ہوتا ہے ۔جمہوریت بادشاہت بھی نہیں جہاں ظل ِسبحان کا تختہ اُلٹ جانے سے عوام کی زندگیوں کی شام ہی ہوجائے ۔اب تو بادشاہتوں کے لٹ جانے پر ماتم گساری کرنے والے کم ہی پائے جاتے ہیں ۔منتخب وزرائے اعظم اور صدور کو بھی جواب دہی کے کسی نہ کسی نظام سے گزرنا ہی ہوتا ہے ۔ مونیکا کیس میں بل کلنٹن منتخب صدر کے طور پرشدید جواب دہی کے عمل سے گزرے تھے اور دنیا نے ان کا ٹرائل لائیو دیکھا تھا ۔یہی حال برطانیہ کے منتخب وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا ہوا تھا ۔ڈیوڈ کیمرون بھی برطانیہ کا منتخب وزیر اعظم تھا جسے پارلیمنٹ میں بہت سخت جوابدہی سے گزرنا پڑا تھا ۔ چند دن قبل ایرانی صدر حسن روحانی کے بھائی اور دست راست حسین فریدون کو عدالت نے کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا ہے ۔گوکہ اسے ایران میں جاری طاقت کی کشمکش سے ہی جوڑا گیا ہے مگر اس سے انقلاب اور جمہوریت کو خطرے کی آوازیں کسی جانب سے سنائی نہیں دیں ۔ صدر روحانی کے حامی انقلاب ایران کو خطرہ ہے یا جمہوریت کو خطرہ ہے کہہ کر سینہ کوبی کرتے نظر نہیں آتے ۔سیاست دان خود کو قوم کی قیادت اور سیادت کے بارگراں کے لئے پیش کرتے ہیں توانہیں الزام واتہام اور ٹرائل کے لئے ہر لحظہ تیار رہنا چاہئے۔اس لحاظ سے سیاست دانوں کو معاشرے کا عکس نہیں معاشرے سے نمایاں ممتاز اور برتر ہوناچاہئے کیونکہ عربی کی مشہور کہاوت ہے کہ لوگوں کا دین حکمران کے دین پر ہوتا ہے۔اس لئے حکمرانوں کے لئے بس ووٹ ملنا ہی اہلیت کا واحد معیار اور سند نہیں ۔

اداریہ