Daily Mashriq


دلا چارو ترجمان یم

دلا چارو ترجمان یم

ہمارے دوست امیر شاد محبوب نے جو اب ہمارے درمیان نہیں ہیں خود کو د لاچارو ترجمان کہا ہے۔ ہمارا شمار بھی چونکہ لاچاروں کے طبقے میں ہوتا ہے اس لئے وہ اور ان کی شاعری ہمیشہ ہمارے دل کے قریب رہی۔ ہمیں خوشی ہوئی کہ کرم ستار یعقوبی نے جنہیں ہم ادبی ایکٹی ویسٹ کہتے ہیں گزشتہ دنوں امیر شاد محبوب کے کلام کا کچھ حصہ'' د محبوب یادونہ'' کے نام سے شائع کیا۔ محبوب کی شاعری کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کتاب میں کم و بیش 50ادیبوں نے ان کی شاعری اور شخصیت پر تاثرات و تبصرے قلمبند کئے ہیں۔ کرم ستار کو ہم نے فعال ادبی کارکن اس لئے کہا کہ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے ایک سماجی اور ادبی تنظیم د یار خان فائونڈیشن کے سربراہ کی حیثیت سے صحت مند ادبی اور سماجی سر گرمیوں میں مصروف ہیں۔ اس تنظیم کی جانب سے ایک کتابی سلسلہ بعنوان حجرہ وقتاً فوقتاً شائع ہوتا رہتا ہے۔ حجرہ ادبی ایوارڈ کا اجراء اس نے کیا ہے اور اب تک د محبوب یادونہ سمیت چھ کتابیں یہ تنظیم شائع کرچکی ہے۔ د محبوب یادونہ کا ذکر ہم خصوصی طور پر اس لئے کرنا چاہتے ہیں کہ ہم امیر شاد محبوب کو ان کی بھرپور مزاحمتی شاعری کی وجہ سے پشتو کے حبیب جالب کا درجہ دیتے ہیں۔ وہ ایک مقبول شاعر ہے جنہوں نے بڑی بے باکی کے ساتھ ہمیشہ مظلوم و مقہور طبقے کے جذبات کی ترجمانی کی اور نہایت ہی تیز و تند لہجے میں درماندہ لوگوں کی نمائندگی کا حق ادا کیا۔ ہمارے ایک دیرینہ رفیق کار پروفیسر حمید اللہ قریشی نے محبوب کو بجا طور پر دریدہ گریباں عوام کا ترجمان کہا ہے۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ محبوب زندگی بھر مالی مسائل کے شکا ررہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بجلی کے محکمے میں ایک معمولی عہدے پر کام کرتے رہے۔ سرکاری ملازم تھے لیکن مسلم لیگ سے اپنی وابستگی کو کبھی نہیں چھپایا بلکہ وہ تو اس جماعت کے سیاسی جلسوں کے سٹیج سے تقریر یں بھی کرتے اور نظمیں بھی سناتے تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں مسلم لیگ کے سیاسی موقف کو پیش کرنے سے زیادہ ایسے لوگوں کے جذبات و احساسات کا برملا اظہار کیا جو کم و بیش ہر سیاسی دور میں اپنے حقوق سے محروم رہے۔ غربت کی چکی میں پستے رہے اور ان کے مسائل کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا بلکہ ہم تو یہاں تک کہیں گے کہ ان کا بری طرح استحصال کیا گیا۔ اس قسم کے اشعار سٹیج پر صرف محبوب کہہ سکتے تھے۔

اوس پہ دولت باندے لیڈر عظیم الشان جوڑیگی

بویہ چی بیا چرتہ جناح اوباچاخان جوڑیگی

اب تو لوگ دولت کے بل بوتے پر لیڈر بنتے ہیں۔ جناح اور باچاخان جیسے سیاسی رہنمائوں کا زمانہ ختم ہوچکا ہے اور یا پھر

چی سومرہ خرچ غریب پہ خیٹہ د بچو لگوی

د صیب بیگم ھغہ پہ شونڈو پہ سرخو لگوی

ایک غریب کے گھر کے خرچ سے تو صاحب کی بیگم کے لپ سٹک کے اخراجات زیادہ ہوتے ہیں۔ امیر شاد محبوب کی عوامی مقبولیت کی وجہ ان کی شاعری کا بے باک لہجہ' بغیر لگی لپٹی درماندہ طبقے کی پر اذیت زندگی کی نقشہ کشی اور بلا خوف و خطر تیز و تند الفاظ میں عوامی مسائل کا براہ راست ذکر اور مصلحت امیزی سے مبرا اسلوب تھا۔ محبوب جیسے سیاسی مجالس کے دوران دبنگ قسم کے سیاسی لیڈروں کے منہ پر سچ بات کرنے سے نہیں کتراتا تھا ۔ اسی طرح وہ اپنی شاعری میں بھی کسی کی منافقت سے کام لینے کا قائل نہ تھا۔ بعض لوگ اس کے سر پر ترقی پسندی کا سہرا باندھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس کی ترقی پسندی پشتون روایات کے دائرے کے اندر سرکش اور خود سر خیالات کا ایسا اظہار ہے جس کی مثالیں پشتو کی جدید مزاحمتی شاعری میں بالکل ناپید ہیں۔ ان کے شاعرانہ اسلوب میں نعرہ بازی سے الگ شاعرانہ لطافتیں بھی موجود تھیں۔ نورالامین یوسف نے بجا طور پر کہا ہے کہ محبوب اگرچہ معروف معنوں میں اولسی شاعر نہ تھے البتہ اولسی یعنی عوام کے شاعر ضرور تھے۔ ہمارے دوست ماسٹر شیر افضل نے اپنی سادہ بادہ شاعری میں طنز و مزاح کی گاڑھی چاشنی کے ساتھ مظلوم طبقے کی بھرپور ترجمانی کی ہے۔ تو امیر شاد محبوب نے بھی معاشرے کے مراعات یافتہ طبقے پرطنز و تشنیع کے تیر برسانے میں کسی مصلحت سے کام نہیں لیا۔ حیرت کی بات ہے کہ محبوب اور ماسٹر صاحب کا تعلق ایک ہی گائوں سے ہے۔ زندگی کے تلخ حقائق کا اظہار اس سے زیادہ تیز وتند لہجے میں کون کرسکتا ہے۔

دسربوسربو غٹانو پہ وطن کے

زمونگ تش ہڈونہ پاتے شو پہ تن کے

دکپڑو پہ دے بے شمیرہ کارخانو کے

خدائے لہ زی غریبانان پردی کفن کے

بھاری بھر کم تن و توش لوگوں کے اس وطن میں ہماری ہڈیوں پر گوشت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ کپڑوں کے لا تعداد کارخانے موجود ہیں لیکن ہم غریبوں کو ان سے کفن تک بھی میسر نہیں ہوتا۔ حق مغفرت کرے محبوب آزاد مرد تھا اور اس نے صحیح معنوں میں لاچاروں کی ترجمانی کا حق اداکیاہے۔

متعلقہ خبریں