سی پیک اور پاکستان کی ترقی

سی پیک اور پاکستان کی ترقی

پاکستان مسلم لیگ ن کی ایک میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ چین کی حکومت نے پاکستان میں چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کا منصوبہ ان کی وجہ سے شروع کیا ہے۔وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے فوراً بعد ایسے بیان کو ایک ایسی خود فریبی کہا جاسکتا ہے جس کا شکار شدید مایوس ہونے کے بعد کوئی بھی ہو سکتا ہے۔اگرچہ میاں نواز شریف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے لیکن اس وقت بھی پارلیمنٹ میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے اور نئے وزیرِ اعظم کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ نواز شریف کی جانب سے دئیے جانے والے اس بیان کی صداقت معلوم کی جائے۔ اگرچہ سی پیک منصوبے پر عمل درآمد نواز شریف کے دورِ حکومت میںشروع ہو ا لیکن اس منصوبے کے بیج بہت پہلے بوئے جاچکے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے پچھلے دورِ حکومت میں بھی اس منصوبے پر خاطر خواہ کام کیا گیا تھالیکن پاکستان کی سیاست میں دوسروں کے کاموں کا کریڈٹ لینا معمول کی بات ہے۔ میاں نواز شریف اپنے پچھلے دورِ حکومت میں بھی ایٹم بم بنانے کا کریڈٹ لیتے رہے ہیں حالانکہ انہوں نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں صرف ایٹمی دھماکے کرنے کا حکم جاری کیا تھا، ایٹم بم کی تیاری کا کام تو کئی سال پہلے ہی شروع کیا جاچکا تھا۔ میاں نواز شریف کے بیان کے بعد چین کی حکومت نے وضاحت کی کہ حکومت کی تبدیلی سے سی پیک منصوبے پر کوئی اثر نہیں پڑے گاکیونکہ سی پیک ایک علاقائی منصوبہ ہے اور کسی ایک ملک میں ایک خاندان کی تبدیلی سے اس پر عمل درآمد متاثر نہیں ہوگا۔ پاکستان کی اندرونی سیاست اور بھارت کی جانب سے دی جانے والی دھمکیاں سی پیک کے بارے میں خدشات کو جنم ضرور دے رہی ہیں لیکن ان خدشات کے باوجود سی پیک پر عمل درآمد پورے زور وشور سے جاری ہے۔ اگر پاکستان کی فلاح کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہماری اندرونی سیاست میں تبدیلی لائی جائے اور بہتر منصوبہ بندی کی جائے تو سی پیک سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستان کو موجودہ حالات میں سی پیک سے فوائد حاصل نہیں ہوں گے لیکن صرف سیکورٹی فراہم کرنے اور تعمیرا تی کاموں میں معاونت کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنی مقامی صنعتوں کو بھی اس منصوبے سے جوڑنا چاہیے۔ ایسا صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب ملک میں سیاسی استحکام ہو۔ دوسری جانب، پاکستان اور بھارت کے تعلقات باہمی دشمنی پر قائم ہیں جس کی وجوہات میں پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں سیاسی کی بجائے عسکری اقدار کی موجودگی اور بھارت کی اپنے ہمسائیوں کے معاملات میں مداخلت جیسی عادت شامل ہے۔ بھارت نے سی پیک کے بارے میں کئی بار اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے کئی مواقعوں پر سی پیک پر اعتراضات بھی اٹھائے ہیں۔ سی پیک گلگت بلتستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور گلگت۔بلتستان وہ علاقہ ہے جس کو بھارت بھی اپنا حصہ کہتا ہے اور کئی دفعہ بھارت کی جانب سے یہ دعویٰ دہرایا جاچکا ہے۔بھارت اس حوالے سے چین کو کئی بار شکایت کرچکا ہے۔ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی کوششیں اور کلبھوشن یادیو کا سی پیک کو نشانہ بنانے کا اعتراف اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ سی پیک منصوبہ بھارت کی آنکھ میں بری طرح کھٹک رہا ہے۔ دوسری جانب بھارت خود 'ون بیلٹ ون روڈ' منصوبے میں شامل ہے جس کا ایک حصہ سی پیک بھی ہے ۔ اگرچہ خطے کے ممالک آپس میں ہر وقت دست و گریباں رہنے کے لئے تیار رہتے ہیں لیکن ون روڈ ، ون بیلٹ منصوبے کی یہ خصوصیت ہے کہ ایک دوسرے کے دشمن بھی علاقائی خوشحالی اور فلاح کے اس میگا پراجیکٹ کا حصہ بن جائیں گے جس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔ اگر عقل مندی کا مظاہر ہ کیا جائے اور اختلافات کو بھلا کر آگے بڑھنے کی سوچ پیدا کی جائے تو سی پیک کے معاشی فوائد کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کا حل بھی نکالا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں سی پیک پر بہت سے اعتراضات بھی اٹھائے گئے ہیں جن میں سے کچھ حقائق پر مبنی ہیں جبکہ باقی صرف سازشی مفروضے ہیں۔ مثبت اعتراضات میں سے سب سے اہم نکتہ پاکستان میں جاری سی پیک کے منصوبوں میں چینی منیجر، عملے اور ٹیکنکل سٹاف کی تعیناتی ہے جس سے نہ صرف منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ پاکستانی ماہرین اور عملے کو بھی روزگار کے مواقع سے محروم کیا جارہا ہے۔ اگر پاکستانی حکومت پہلے سے ہی منصوبہ بندی کر لیتی تو پاکستانی ہنرمندوںکو چینی ماہرین سے تربیت دلا ئی جاسکتی تھی جس سے ملک میںبیروزگاری میں کمی کے ساتھ ساتھ منصوبوں کی لاگت بھی کم کی جاسکتی تھی۔ ایسے کسی بھی بڑے اقدام کے لئے تمام سرکاری اور پرائیویٹ ٹیکنیکل اداروں اور متعلقہ وزارتوں کے درمیان کوآرڈینیشن ضروری ہے جس کا فقدان ہمیں ہر طرف نظر آتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ایسی کسی بھی منصوبہ بندی کے بارے میں سوچا بھی نہیں جارہا۔ اس وقت ملک کی قیادت سیاسی مسائل میں الجھی ہوئی ہے اور سی پیک سے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنا کسی بھی سیاست دان یا حکومتی عہدیدار کی ترجیح نہیں ہے۔ سی پیک یا کسی بھی دوسرے منصوبے سے فائدہ اٹھانے کے لئے پاکستان کی بیرونی سیکورٹی سے زیادہ اندرونی سیاسی حالات میں استحکام ضروری ہے۔ اگر پاکستان نے آگے بڑھنا ہے اور سی پیک کے ذریعے ترقی کی منازل طے کرنی ہیں تو نہ صرف وفاقی اور صوبائی سطح پر بلکہ ملک کے ہر ادارے میں احتساب کا عمل شروع ہونا چاہیے جس کی بنیاد نیک نیتی ہو نہ کہ کسی مخصوص طبقے، سیاسی جماعت یا فرد کو نشانہ بنانا مقصود ہو۔ (بشکریہ: دی نیشن،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ