Daily Mashriq


گو یم مشکل وگرنہ گویم مشکل

گو یم مشکل وگرنہ گویم مشکل

الزامات اور جوابی الزامات کے سحر سے ہماری سیاست آج تک باہر نہیں آسکی ، جاوید ہاشمی پر جوابی الزام لگاتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بہر طور ایک اہم مسئلے کو اجا گر کرنے کی کوشش ضرور کی ہے ۔ اب اس جوابی الزام میں کس قدر صداقت ہے اس کا پتہ تو اس حوالے سے تحقیق کے بعد ہی چل سکے گا ۔ لیکن اگر اس کوشش کو بے سود قرار دیا جائے تو شاید بے جا نہ ہو ا س لئے کہ جاوید ہاشمی کی سیاسی زندگی تو قربانیوں سے عبارت ہے ، انہوں نے ذاتی جائیدادیں بیچ کر اپنی پارٹی اور سیاست کو زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے ، اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ، اس لئے اگر عمران خان نے ان پر پارٹی ٹکٹ فروخت کرنے کے جو الزامات لگائے ہیں ان پر بمشکل ہی کوئی یقین کرنے کو تیار ہو سکے گا ، اور اس قسم کا الزام عمران خان نے اس لئے لگا یا کہ جاوید ہاشمی کی جانب سے ایک بار پھر گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ عمران نے ان سے (جاوید ہاشمی ) کہاتھا کہ آنے والے جج پارلیمنٹ توڑ دیں گے، وہ پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کیلئے تیار بیٹھے تھے اور جاوید ہاشمی کے کہنے پر باز آئے ۔ بہرحال اس وقت عمران خان اور جاوید ہاشمی کے مابین الزامات ، جوابی الزامات سے کوئی غرض نہ رکھتے ہوئے اس موضوع کو کسی اور مناسب وقت کیلئے اٹھا رکھتے ہیں ، البتہ کالم کے آغاز میں جس اہم مسئلے کو عمران خان کی جانب سے اجاگر کرنے کی جو بات میں نے کی ہے اسی تک اس کالم کو محدود رکھتے ہوئے بات کو آگے بڑھاتے ہیں ، یعنی پارٹی ٹکٹو ں کی فروخت کا مسئلہ ، جو ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس حوالے سے ہمارا جسد سیاست بری طرح غلاظت میں لتھڑا ہوا ہے اور ایک عرصے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹو ں کی فروخت کی باتیں زبان زد عام و خاص ہیں ، یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ''قابل فروخت '' پارٹی ٹکٹ و ہ نہیں جن کے حصول کیلئے عام انتخابات سے قبل خواہشمند امیدواران مقررہ فیس ادا کرکے اپنی درخواستیں پارٹی کے پاس جمع کراتے ہیں ، اور پارٹی کے فنڈز میں یہ رقوم قانونی طور پر جمع ہو جاتی ہیں ، بلکہ ''قابل فروخت '' تو وہ ٹکٹ کہلاتے ہیں جن کیلئے در پر دہ امید وار زیادہ رقم ادا کر کے حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ، اور یہ جو انڈر ہینڈ ڈیلنگ ہوتی ہے وہ رقوم پارٹی کے فنڈز میں کبھی جمع نہیں کی جاتی بلکہ '' کسی اور کی جیب خاص '' میں چلی جاتی ہے اور '' کسی اور '' کی نشاندہی کے حوالے سے کچھ کہنا بقول شاعر 

مشکل اگر نہیں ہے تو آسان بھی نہیں

دراصل جیسا کہ واقفان حال جانتے ہیں کہ کسی بھی قابل ذکر سیاسی جماعت کا ٹکٹ ممکنہ امید وار کی کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے اس لئے ہر خواہشمند زیادہ سے زیادہ ''بولی '' لگا کر پارٹی ٹکٹ کے حصول کی سر توڑ کوشش اس لئے کرتا ہے کہ اگر اسے پارٹی نے ٹکٹ دیدیا تو پارٹی کے ورکر ز انتخابی عمل کے دوران اس کے بے دام غلاموں کی طرح دن رات ایک کر کے اپنی پارٹی کے امید وار کو کامیاب کرانے میں اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے یہ ورکر بے چارے صرف پارٹی سے وابستگی اور پارٹی نظریات پر دل وجان سے فر یفتہ ہونے کی وجہ سے یہ مخالفین سے الجھنے ، عوام تک اپنا پیغام پہنچانے اور اپنے امیدوار کی جانب سے حلقے کے مختلف علاقوں میں قائم کردہ الیکشن دفاتر کی رونق بڑھانے کیلئے سرگرم رہتے ہیں ، جبکہ کامیابی کے بعد تمام تر کامیابیاں صرف اور صرف کامیاب امید وار کی جھولی میں آگرتی ہیں۔بات اس الزام کی ہورہی تھی جو اگر چہ عمران خان نے اس شخص پہ لگا یا ہے جو سیاست کے خارزار میں باغی کہلاتا ہے ، اور جاوید ہاشمی کے خلاف یہ الزام کس حد تک درست قرار دیا جاسکتا ہے ، یہ یقینا غیر جانبدار تحقیقات کا متقاضی ہے لیکن پارٹیوں کے ٹکٹو ں کی فروخت کے الزامات قطعاً غلط نہیں ہیں اور ماسوائے گنتی کے چند سیاسی رہنمائوں کے جو ہر جماعت میں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ، باقی کے ٹکٹوں کی فروخت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، اور اسی فروخت کی وجہ سے مختلف پارٹیوں پر قابض ''اشرافیہ '' کے ذاتی اکائونٹس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ، اگر چہ پانچوں انگلیاں برابر بھی نہیں ہوتیں اور ہر جماعت پر اس قسم کے الزامات عاید بھی نہیں کئے جا سکتے ، مگر سیاسی خاندانوں کے خلاف اگر حقیقی طور پر انکوائری کسی غیر جانبدار ادارے کے تحت کی جائے تو کئی ایک لوگ ایسے بھی نکل آئیں گے جن پر صادق اور امین کے ٹائٹل چسپاں کرنے کی ہر کوشش ناکامی سے دوچار ہو جائے گی ، کیونکہ اگریہ کہا جائے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس پارٹی ٹکٹ قوم کی امانت ہوتے ہیں جن کی تقسیم میں صداقت اور امانت کے اصول کوملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے تو بے جا نہ ہو گا ، مگر ٹکٹوں کی '' بلیک ''میں فروخت کے عمل سے دونوں جانب امانت اور صداقت کے اصولوں کی پامالی بلکہ بے تو قیری عمل میں آنے سے ہی کرپشن کے درکھلتے ہیں کیونکہ خریدنے اور فروخت کرنے والے دونوں صادق و امین کے زمرے میں نہیں آسکتے جبکہ خریدنے والے صرف اس لئے ان ٹکٹو ں پر '' سرمایہ کاری '' کرتے ہیں کہ بعد میں ایک کے کئی سو گنا کئی ہزار کئی لاکھ گنا وصول کرنا ہی ان کا مطمح نظر ہوتا ہے ۔ اس لئے جب تک یہ غلیظ کا روبار جاری رہے گا ۔ پاکستان کے عوام کیسے یقین کریں گے کہ کون کرپشن میں لتھڑا ہوا ہے اور کون بری الذمہ ہے ۔

وہ اپنے سورج تو کیا جلاتے میرے چراغوں کو بیچ ڈالا

فرات اپنے بچا کے رکھے مری سبیلیں فروخت کردیں

متعلقہ خبریں