مشرقیات

مشرقیات

ایک تحفہ بادشاہ کی خدمت میںپیش کیا گیا ۔ بادشاہ بھرے دربار میں بیٹھا تھا ۔ وزیر امیر پاس تھے جو رنگ ڈھنگ اور درباروں کا ہوتا ہے وہی حال اس دربار کا بھی تھا ۔ ملازم زرق برق جوڑے پہنے اپنے اپنے کاموں پر لگے تھے ۔ بادشاہ جسے تحفہ پیش کیا گیا ، ساسانی خاندان کا بادشاہ اسمٰعیل تھا ۔ تاریخ میں اس کی بڑی خوبیاں بیان کی گئیں ہیں ۔وہ رحمدل تھا ۔ انصاف کرنے والا تھا اپنے آرام اور اپنی راحت سے زیادہ رعایا کا خیال رکھتا تھا ۔ اس کی طرف سے عام اجازت تھی کہ ملک کے رہنے والوں میں سے جسے کوئی کام ہووہ دربار میںآکر مل سکتا ہے ۔ شاہ اسمٰعیل کے دربار میں ایک دن ایک غریب کسان آیا اسے جو کچھ بادشاہ سے کہنا تھا وہ کہہ چکا تو بولا غریب آدمی ہوں لیکن ایک تحفہ آپ کے لئے لایا ہوں ۔ بہت معمولی ۔ آپ کو پیش کرتے ہوئے خود مجھے شرم آتی ہے ۔ بہر حال اگر اجازت ہو تو پیش کروں ! بادشاہ نے کہا ضرور ! ہمیں تمہارا تحفہ قبول کر کے بڑی خوشی ہوگی ۔ تحفہ تو تحفہ ہوتا ہے ۔ چاہے کچھ ہو ۔ حکم ہے اس کی قدر کرو یہ لانے والے کی محبت اور خلوص کی نشانی ہے ۔ تحفہ اگر معمولی ہو تو بھی بڑا قیمتی ہوتا ہے ۔ تحفہ دینے والے کا دل کبھی نہ توڑو۔ حکم نبوی ۖہے کہ تحفے کے جواب میں بھی تحفہ دیا جانا چاہیئے اس سے محبت بڑھتی ہے ۔ تحفے کے لئے ضروری نہیں کہ تکلف کیا جائے کچھ بھی دے سکتے ہیں ۔
بادشاہ نے اجازت دی تو غریب کسان نے اپنے رومال میں سے نکال کر کچھ ککٹریاں بادشاہ کی خدمت میں پیش کیں ۔ سارا دربار دیکھ رہا تھا کہ یہ تحفہ بادشاہ کی شایان شان نہ تھا لیکن شاہ اسمٰعیل نے بڑی محبت سے اس غریب کسان کا تحفہ قبول کیا ۔ نہ صرف یہ کہ اسے قبول کیا بلکہ اپنے خدمتگار کو حکم دیا کہ فوراً کچھ ککڑیوں کی قاشیں تراش کر لے آئو ! ترشی ہوئی قاشیں آئیں تو بادشاہ نے ایک قاش اٹھائی منہ میں رکھی ۔مزے لے لے کر اُسے کھا یا پھر بولا تحفہ کے جواب میں ہم بھی تحفہ پیش کریں گے ۔ بہت ساانعام واکرام لے کر کسان خوشی خوشی اپنے گھر لوٹ گیا ۔ تھوڑی دیر میں دربار ختم ہوگیا صرف چند بڑے بڑے امیر وزیر رہ گئے تو کسی نے ککڑی کی قاشوں کو دیکھ کر بادشاہ سے کہا ایسا کبھی نہیں ہوا کہ سرکار نے کوئی تحفہ قبول کیا ہو۔
اور ہمیں اس میں سے کچھ نہ کچھ تبرکاً نہ دیا ہو ! لیکن اس مرتبہ ہم تبرک سے محروم رہے ۔ بادشاہ نے کہا میرے پاس آئو ایک قاش اٹھائو اور کھائو ! اس امیر نے جس نے تبرک کی خواہش کی تھی قاش منہ میںرکھ کر چبائی تو بڑا سامنہ بنا یا فوراً اُسے الٹ دیا بولاسرکار والا تبا ! یہ تو کڑوی ہے سخت کڑوی ! بادشاہ نے کہا یہی بات میں اس کسان کے سامنے سُننا نہیں چاہتا تھا ۔ میں یہ قاشیں بانٹ دیتا اور تم میں سے ہر ایک اسے چکھ کر تھوک دیتا تو اس غریب کسان کو سخت شرمندگی ہوتی۔ دوسرے کو شرمندگی سے بچانا بڑی شرافت کی بات ہے !۔ (روشنی)

اداریہ