Daily Mashriq

الیکشن کمیشن اور نادرا کی چپقلش

الیکشن کمیشن اور نادرا کی چپقلش

انتخابات میں الیکشن کمیشن کا کردار وعمل سیاسی جماعتوں کے تئیں ناقص اور متنازعہ تھا ہی اب دو سرکاری اداروں‘ الیکشن کمیشن اور نادرا کے درمیان بھی آر ٹی ایس کے نظام کی ناکامی پر ٹھن گئی ہے۔ اس معاملے پر دونوں اداروں کے حکام ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کرنے لگے ہیں۔ معروف انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق انتخابات کے دن11 بج کر47 منٹ تک انتخابی مرحلہ ٹھیک چل رہا تھا، الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں ریٹرننگ افسر (آراوز) کی جانب سے اطلاعات وصول ہونے کا عمل نیا تیار کردہ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) پر موصول ہو رہا تھا کہ اچانک آر ٹی ایس نے کام کرنا بند کر دیا۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق ای سی پی کے سیکرٹری بابر یعقوب فتح محمد نے آدھی رات کو قوم کو بتایا کہ آر ٹی ایس نے کام کرنا چھوڑ دیا اسلئے ریٹرننگ افسران روایتی طریقہ اپنائیں۔ دوسری جانب نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے سینئر افسران جنہوں نے آر ٹی ایس موبائل ایپ تیار کی تھی، سراپا احتجاج تھے کہ آر ٹی ایس کے بارے میں غلط اعتراف کیوں کیا گیا کیونکہ ان کی دانست میں آر ٹی ایس مکمل طور پر فعال تھا اور اس میں کسی قسم کی خرابی نہیں آئی تھی جو لمحہ فکریہ ہے اور اس سے سیاسی جماعتوں کے اعتراضات اور شکوک وشبہات کے اظہار کی تائید بھی ہوتی ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ جب نظام میں خرابی نہیں آئی تھی اور یہ مکمل طور پر فعال تھا تو متبادل روایتی اور فرسودہ اور شکوک وشبہات کا باعث بننے والا طریقہ کار کیوں اپنایاگیا۔ اس کی پوری روداد نادرا حکام کے مطابق کمپیوٹر لاگ سیکرٹری کو دکھایا اور بتایا کہ آر ٹی ایس پر معمول کے مطابق نتائج موصول ہو رہے ہیں لیکن ای سی پی کی جانب سے نادرا حکام کو بتایا گیا کہ انہوں نے خود ہی آر ٹی ایس کا استعمال ترک کیا کیونکہ وہ خرابی کے باعث مشکلات پیدا کر رہا تھا۔ نادرا کے ذرائع کے مطابق قومی مفاد کو خاطر میں رکھتے ہوئے نادرا حکام نے ای سی پی سیکرٹری کے متنازعہ اعلان پر چپ سادھ لی۔ ذرائع نے بتایا کہ11 بج کر47 منٹ پر الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام آر اوز کو بذریعہ فون اطلاع دی گئی کہ آر ٹی ایس کا استعمال ترک کر دیا جائے کیونکہ اس کے نظام میں تکنیکی مسائل آگئے ہیں جس کا کوئی جواز نہ تھا۔ اصل مسئلہ ای سی پی کے اپنے تیار کردہ رزلٹ مینجمنٹ سسٹم (آر ایم ایس) میں آیا تھا جس کے باعث کمیشن نے اپنا دامن بچاتے ہوئے تمام تر ذمہ داری نادرا پر ڈال دی۔ ماہرین کے مطابق آر ٹی ایس اور آر ایم ایس دو علیحدہ نظام تھے جنہیں ایک ساتھ نہیں ملایا جا سکتا۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن اور نادرا کو براہ راست 85ہزار پولنگ اسٹیشنوں سے1 لاکھ70 ہزار نتائج (فارمز45) وصول ہوئے تاہم نادرا نے50 فیصد یعنی84 ہزار نتائج آر ٹی ایس پر وصول کئے۔ دوسری جانب ای سی پی کے ترجمان کا مؤقف ہے کہ الیکشن کی رات آر ایم ایس میں کچھ رکاوٹ آگئی ہوگی لیکن دراصل آر ٹی ایس مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نادرا اپنی کمزوریوں کو چھپانے کیلئے جھوٹے دعوے کر رہا ہے۔ ترجمان نے وضاحت پیش کی کہ منصوبے کے تحت آر او کی جانب سے آر ٹی ایس کے ذریعے نتائج ارسال کرنے تھے لیکن آر ٹی ایس غیر فعال ہونے کی وجہ سے پریذائڈنگ افسر آر او آفس میں گئے اور یوں ہر پولنگ اسٹیشن کے نتائج کے حصول میں تاخیر ہوئی۔ ای سی پی کی جانب سے نادرا کے اس دعویٰ کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے کہ نادرا آر ٹی ایس کے ذریعے50 فیصد نتائج وصول کر چکا تھا۔ الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق ایس سی پی چاہتا تھا کہ آر ٹی ایس چند گھنٹوں میں نتائج پیش کر سکے بصورت دیگر آر ٹی ایس کی ضرورت نہیں تھی۔ ای سی پی کے ترجمان نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ ای سی پی اس ضمن میں کسی بھی قسم کی انکوائری یا فیکٹ فائنڈنگ کیلئے تیار ہے تاکہ متنازعہ بحث ختم ہو سکے جبکہ نادرا کے ترجمان معاملہ کو حساس قرار دے کر تردید اور تصدیق سے انکاری ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ یہ ایک حساس نوعیت کا اہم قومی معاملہ ہے ایک ایسا معاملہ جس سے کروڑوں ووٹروں اور ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کے اعتراضات اور شکوک وشبہات وابستہ ہیں اور یہ معاملہ اس حد تک سنگین ہے کہ عوام کے مینڈیٹ سے برسراقتدار آنے والی حکومت کے مینڈیٹ کے حوالے سے شکوک وشبہات جنم لیتے ہیں۔ ہر دو سرکاری اداروں کا اپنا اپنا مؤقف ہے اور وہ اس پر کھلے فورم میں بات کرنے سے بھی انکاری ہیں۔ اس ساری صورتحال کی تحقیقات اور اس کا جائزہ لینے کیلئے عدالتی تحقیقاتی کمیشن کا قیام عمل میں لانا مناسب ہوگا جو اس تمام معاملے کی ماہرین کی معاونت سے تحقیقات کرکے قوم کو حقائق سے آگاہ کرے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ماہرین ہی اس امر کا تعین کر سکیں گے کہ کس ادارے کا مؤقف درست ہے اور یہ نظام واقعی مسائل کا باعث بن رہا تھا یا پھر اسے ازخود غیرفعال کیا گیا تھا۔ یہ دو اداروں کے درمیان تنازعہ نہیں اور نہ ہی ایک نظام کی ناکامی کا معاملہ ہے یہ ملک کے کروڑوں عوام کی حق رائے دہی اور ان کے مینڈیٹ کے مطابق حکومت بنانے کا معاملہ ہے جس میں شکوک وشبہات کی گنجائش نہیں۔ اس نظام کو ازخود ناکام بنانے یا پھر واقعی نظام کے ناکام ہونے کی حقیقت سامنے آجائے تو معترضین کے اعتراضات کی صداقت اور لغویت بھی سامنے آئے گی۔ ان تحقیقات سے انتخابات کی وقعت ہی کا معاملہ نہیں بلکہ اس سے الیکشن کمیشن کی کارکردگی‘ مہارت‘ خودمختاری اور دیانتداری کا سوال بھی وابستہ ہے جس کا جواب حاصل کرنے میں کسی تامل کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں