Daily Mashriq

حزب اختلاف بدلہ لینے کی سیاست سے گریز کرے

حزب اختلاف بدلہ لینے کی سیاست سے گریز کرے

پاکستان مسلم لیگ(ن ) کے رہنماؤں کی جانب سے اپوزیشن میں تحریک انصاف کی بنائی ہوئی روایات کے اعادے کا عندیہ مثبت طرز اختلاف اور مناسب طرز عمل نہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کی جانب سے تند وتیز تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت اب آچکی ہے تو پانی سے گاڑی چلانے کا کہنے والے اب پانی سے گاڑی چلا کر دکھائیں۔ ہم اپوزیشن میں رہ کر تحریک انصاف کی اپوزیشن کی بنائی روایات کو برقرار رکھیں گے۔ نواز شریف بھارت کیساتھ چلنے کی باتیں کرتے تھے تو ان کو مودی کا یار کہا جاتا تھا، اب عمران خان کو کس نے اختیار دیا کہ وہ بھارت کیساتھ دو قدم آگے بڑھنے کی باتیں کریں۔ اب عمران خان کو کشمیریوں کا خیال نہیں آتا جب وہ حلف برداری میں مودی کو حلف برداری میں بلانے کی باتیں کرتے ہیں۔ مودی کے فون کرنے پر عمران خان کو ان کیساتھ کلبھوشن کا معاملہ بھی اٹھانا چاہئے تھا۔ عمران خان کی اصلیت عوام کے سامنے جلد آجائے گی۔ جمہوریت میں اختلاف برائے اختلاف اور بدلہ چکانے کی روایت نہ تو مستحسن ہے اور نہ ہی اس سے ملک وقوم کی کوئی خدمت ہوسکتی ہے۔ تحریک انصاف نے جس قسم کی احتجاجی سیاست کی غلطی کی تھی وہ اب ماضی کا حصہ ہے جو بات ماضی میں درست نہ تھی وہ حال میں کیسے روا ہوسکتی ہے۔ مسلم لیگ(ن)‘ پیپلز پارٹی‘ اے این پی‘ جماعت اسلامی اور جے یو آئی(ف) جیسی جماعتیں سرد وگرم چشیدہ ہیں اگر وہ بھی اس طرح کا طرز عمل اختیار کریں جس سے ملک میں انتشار اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہو تو پھر ان کی قیادت کی بردباری‘ تحمل اور برداشت پر بھی سوال اٹھیں گے۔ عوام احتجاجی طرز سیاست سے تنگ آچکے ہیں۔ ہمارے تئیں حزب اختلاف کی جماعتیں بدلہ چکانے کی سیاست اختیار کرنے کی بجائے اگر سینٹ وقومی وصوبائی اسمبلیوں میں حقیقی اور مضبوط حزب اختلاف کا جمہوری کردار کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر اپنائیں تو یہ مناسب بھی ہوگا اور تحریک انصاف کو اس کے کئے کا جواب بھی دینا ممکن ہوگا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں ایوانوں میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کو کافی متصور کرتے ہوئے دھرنوں اور احتجاج کی نامناسب سیاست کی نوبت نہیں آنے دیں گے اور جمہوری طریقے پر کار بند رہیں گے۔

گزشتہ حکومت کی ناکامی کا اب تدارک کیا جائے

سرکاری دستاویزات کے مطابق2015سے لیکر2018تک ای آر ٹی آئی کے تحت19محکموں کو ملنے والی784 درخواستوں میں سے صرف56درخواستوں پر ہی معلومات فراہم کی گئیں جو اس کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے سب سے زیادہ138درخواستیں محکمہ اعلیٰ تعلیم کو موصول ہوئیں جن میں صرف4کو جواب دیا گیا محکمہ صحت محکمہ تعلیم کو104میں سے صرف3، محکمہ بلدیات ودیہی ترقی نے81میں سے7، محکمہ انتظامیہ نے74میں سے2، ابتدائی وثانوی تعلیم نے62میں سے15، پولیس نے 55میں ایک، برقیات وتوانائی نے36میں ایک، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے35میںسے2، محکمہ سیاحت نے33میں5، مواصلات نے29میںسے6 اور خزانہ نے24میں سے صرف ایک درخواست پر معلومات فراہم کی ہے تین محکموں نے ایک بھی درخواست پر عمل درآمد نہیں کیا ہے جن میں محکمہ مال، زراعت اور آبپاشی شامل ہیں۔ محکمہ ماحولیات نے16میں سے ایک ،اسٹیبلشمنٹ نے 14میں سے 2، سماجی بہبود نے 13میں سے ایک، ترقی ومنصوبہ بندی نے 12میں سے 4 جبکہ محکمہ داخلہ نے 11میں سے صرف ایک درخواست پر معلومات فراہم کیں۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی سابق حکومت نے صوبائی احتساب کا ادارہ اور عوام کو معلومات کی فراہمی کا ادارہ بڑے چائو سے قائم کیا تھا مگر دونوں ہی اداروں کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ اس حوالے سے شکایتیں بھی سامنے آئیں لیکن گزشتہ حکومت نے اس پر چنداں توجہ نہیں دی۔ بہرحال جو ہوا سو ہوا کے مصداق خوش قسمتی سے صوبے میں بننے والی حکومت گزشتہ کا تسلسل ہے جس کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ان تمام وعدوں اور دعوؤں کو عملی شکل دینے میں اپنا کردار ادا کرے جس میں کسی وجہ سے بھی کوتاہی کی گئی تھی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ آنے والی حکومت صوبائی احتساب کمیشن اور معلومات کی فراہمی کے نظام کو مربوط اور فعال بنانے کیساتھ ساتھ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے معاملے میں سنجیدگی اختیار کرے گی اور عوام کو حقیقی معنوں میں تبدیلی کا احساس دلایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں