Daily Mashriq

بے روزگاری کا مسئلہ

بے روزگاری کا مسئلہ

ایوب خان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے پلاسٹگ کی کنگھی تک بھارت سے درآمد کی جاتی تھی۔ایوب خان کے زمانے میں امداد کی صورت میں بہت سرمایہ پاکستان آیا۔ اور صنعتیں لگانے کی طرف توجہ دی گئی لیکن کوئی اس میدان میں آنے کو تیار نہ تھا۔ ایک پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن بنائی گئی جس کا مقصد یہ تھا کہ کارپوریشن کارخانے لگائے گی ‘ اسے کامیابی کے ساتھ چلائے گی اور پھر اسے نجی شعبے کے سرمایہ کاروں کے حوالے کر دے گی ۔ سرمایہ کی بہم رسانی کے لیے پاکستان انڈسٹریل کریڈٹ اینڈ انوسٹمنٹ کارپوریشن بنائی گئی جس کا کام صنعتیں لگانے یا خریدنے کے خواہش مندوں کو قرضہ فراہم کرنا تھا۔ قرضہ فراہم کرنے کے لیے نیشنل بینک آف پاکستان نے بھی دروازے کشادہ کر دیے۔ سینکڑوں کارخانے لگے۔ اس زمانے میں کپاس کے ایک بڑے کاروباری سے ملاقات ہوئی۔ ا ن صاحب نے سوال کیا کہ اصفہانی سہگل اور دادؤ کے سوا کوئی ایک سرمایہ دار بتاؤ جس نے اپنا پیسہ لگا کر کارخانہ لگایا ہو؟ اس سوال کا جواب نہ بن پڑا۔ کارخانے لگے ایک طرف ‘ ان کے حاصل کرنے کے لیے سرکاری اداروں سے قرضے لیے گئے دوسری طرف ان کارخانوں نے سرکاری محاصل بھی برائے نام ہی ادا کیے اور جب قرضے واپس کرنے کا وقت آیا تو ان میں سے کارخانوں کی ایک بڑی تعداد بیمار کارخانے قرار دی گئی۔ بھٹو نے کارخانوں کو سرکاری تحویل میں لے لیا اور بے روزگاری پر قابو پانے کے لیے ان کارخانوں میں بھرتی عام کر دی لہٰذا ایک ایک کام (جاب) کے لیے کئی کئی افراد بھرتی کر دیے گئے وہ بھی میرٹ کے بغیر۔ آج بھی پیپلز پارٹی کے کچھ لیڈر دھڑلے سے کہتے ہیں کہ ہم نے بے روزگاروں کو ملازمتیں دے کر کوئی جرم نہیں کیا۔ کارخانوں کی سرکاری تحویل سے دوبارہ نجی تحویل میں آنے کی ایک الگ کہانی ہے۔ نہ اس مشق سے سرکاری محاصل میں کماحقہ اضافہ ہوا اور نہ ہی ملک میں بے روزگاری کا مسئلہ حل ہوا۔ آج بھی بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ ملک میں ہر سال چالیس لاکھ نوجوانوں کے لیے روزگار کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ان کے لیے روز گار کے مواقع نہیںہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے اس کا ایک حل یہ نکالا کہ سڑکیں بنوائیں۔ سڑکوں کی تعمیر سے مقامی دیہات کے بے روزگار وںکو ملازمت ملتی ہے لیکن سڑک آگے نکل جاتی ہے جہاں دوسرے دیہات کے مزدور آ جاتے ہیں۔ اور پیچھے رہ جانے والے مزدور بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ یہی کام نواز شریف کے دور میں بھی ہوا۔ موٹر ویز بنائی گئیں۔ جنرل مشرف نے تعمیراتی کاموں کی بھی حوصلہ افزائی کی اور ایک بار کہا بھی کہ تعمیراتی کام میں بیس سے زیادہ اقسام کے کارخانوں کی مصنوعات درکار ہوتی ہیں۔ اس سے ملتا جلتا ایک وعدہ چند ماہ پہلے عمران خان نے بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ ملک میں پچاس لاکھ مکانات تعمیر کیے جائیں گے اور ایک کروڑ لوگوں کو روزگار مہیا کیا جائے گا۔ بظاہر یہ بڑا دعویٰ لگتا ہے ۔ تاہم ان کے متوقع وزیر خزانہ اسد عمر نے ایک انٹرویو میں وضاحت کر دی ہے کہ نوکریاں بانٹی نہیں جائیں گی (جس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا) بلکہ تعمیر مکانات کا کام شروع کیا جائے گا اور اس طرح ان بیس سے زیادہ صنعتوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جن کی مصنوعات تعمیر مکانات میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس پروگرام کو پانچ سال پر محیط سمجھا جائے تو سالانہ روزگار کے بیس لاکھ نئے مواقع فراہم کیے جائیں گے، ان میں سے کچھ تو غیر ہنر مند مزدور ہوں گے اور باقی ان کارخانوں کے ملازم ہوں گے جن کی مصنوعات تعمیراتی کاموں میں کام آتی ہیں۔ پی ٹی آئی کی متوقع حکومت اور اس کے متوقع وزیر خزانہ کے بیانات کے حوالے سے لگتا ہے کہ کم از کم شروع کے عرصے میں ہاؤسنگ کو ترقی دی جائے گی۔ ممکن ہے ہاؤسنگ میںکام آنے والی صنعتوں کے اہل کاروں کے لیے کوئی تربیتی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں لیکن بے روزگاری کا مسئلہ فوری طور پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے حل نہیں ہو گا ۔ افرادی قوت کو ایسی مہارتیں حاصل ہونی چاہئیں جو عمر بھر اس کا ساتھ دے سکیں۔ حکومت کی سرپرستی کے باعث ہاؤسنگ کی صنعت فروغ پائے گی تو اس کا ہدف شہروں کے پاس پائی جانے والی زرعی زمینیں ہوں گی۔ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی وجہ سے ان کی قیمت تو بڑھ گئی ہے لیکن ان کی اصل پیداواری صلاحیت یعنی زراعت متاثر ہوگئی ہے۔ بلاول بھٹو کے اندازے کو اگر صحیح تسلیم کر لیا جائے ( اور اس کے غلط ہونے کے کوئی شواہد بھی نظر نہیں آتے) تو ہر سال ملک میں چالیس لاکھ ملازمتیں یا روزگار کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہو گا۔ اس کے لیے دیہات ہی میں روزگار کے مواقع پیدا کیے جانے ضروری ہوں گے اور وہ بھی زراعت اور ڈیری فارمنگ کے شعبوں سے متعلق روزگار ہوں تو بہتر ہو گا۔ اس کے لیے خود روزگاری کو ترجیح دینی ہو گی۔ ایسے مواقع پیدا کیے جانے چاہئیں جو چھوٹے سرمائے سے شروع کیے جا سکیں ۔ ڈیری فارمنگ ‘ پولٹری‘ ریشم کی پیداوار ‘ سبزیوں کی پیداوار اور انہیں محفوظ کرنے کے کارخانے ، شہد کی پیداوار ‘ پھلوں کی پیداوار اور انہیں محفوظ کرنے کے طریقے‘ پھولوں کی پیداوار ان کی تجارت کو فروغ دینے کا بندوبست‘ دوائیوں میںکام آنے والی جڑی بوٹیوں کی پیداوار اور دیگر ایسے روزگار جو ان سے وابستہ ہوں انہیں فروغ دینے کی طرف توجہ دینی چاہیے اور ان کے لیے مطلوبہ مہارتیں فراہم کرنے کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔ ہمارے ہاںمزدوری دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت سستی ہے ۔ اگر ہماری افرادی قوت مہارتوں سے لیس ہو تو بہت سا بین الاقوامی کاروبار اپنی طرف کھینچ سکتی ہے۔ زراعت اور صنعت دونوں کے لیے inputسستے کرنا ضروری ہے تاکہ ہم بین الاقوامی مارکیٹ میں دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔ اس مد میں اگر سبسڈی بھی دینا پڑے تو اس پر غور کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اہم ترین بات یہ ہے کہ سرکاری محاصل کی وصولی کو یقینی بنایا جائے ۔ حکومتیں محاصل کے بل پر ہی چلتی ہیں۔

متعلقہ خبریں