Daily Mashriq

دیدہ ور

دیدہ ور

وقت کھلی فضا میں رکھی ہوئی برف کی اس سل کی مانند ہے جو لمحہ بہ لمحہ پگھلتی رہتی ہے۔ جب گزرتے لمحوں کی برف پگھل جاتی ہے تو وہ اپنا وجود کھو دیتی ہے۔ برف نہیں رہتی پانی بن جاتی ہے۔ گزرے دنوں کی کہانی بن جاتی ہے اور پھر گزرتے لمحوں کا یہ پانی وقت کے بہتے دھاروں میں تبدیل ہوکر صدیوں کے سمندر میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ پانی میں مل کے پانی انجام یہ کہ فانی۔ ہاتھ میں پکڑی ریت کی طرح پھسلتا رہتا ہے وقت اور ایک دور ایسا آتا ہے جب ہمیں دانشمندوں اور دانشوروں کا یہ قول تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ گیا وقت ہاتھ نہیں آتا۔ البتہ بیتے زمانے کی یاد بن کر ہمارے لاشعور کے کونوں کھدروں یا ماضی کے جھروکوں میں جا چھپتا ہے۔ اگر ہم اسے پکاریں بھی تو یہ اتنا بے وفا اور سنگدل بن جاتا ہے کہ ہماری کسی پکار کا کوئی جواب تک نہیں دیتا۔ خاطر ہی میں نہیں لاتا ہماری آواز کو۔ کاش ہم اسے یاد بھی نہ کر سکتے کیونکہ اس کا یاد کرنا بھی کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ بقول کسے

یاد ماضی عذاب ہے یا رب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

ماضی کی یادداشت میں تلخیاں بھی پائی جاتی ہیں اور شیرینیاں بھی، زندگی کے خوشگوار لمحے آنے والے دنوں کی شیریں یادیں بن جاتی ہیں لیکن اس وقت وہ بھی تلخیاں اوڑھ لیتی ہیں جب ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ گزر گئیں یا کوچ کر گئیں، جاچھپیں ماضی کے جھروکوں میں، نہیں رہیں ہمارے اختیار میں۔ گزرے ہوئے زمانے کو واپس نہیں لایا جاسکتا لیکن اگر آپ کوشش کریں تو اپنے عہد حاضر کو گزرے ہوئے اچھے یا خوشگوار زمانے کی مانند گزارنے کی سعی کر سکتے ہیں اور اگر آپ چاہیں تو اس پر آپ اپنے مستقبل کے تاج محل بھی تعمیر کر سکتے ہیں۔ اپنے خوابوں کو اچھی تعبیر بھی دے سکتے ہیں۔ اپنی سوچوں کو ایسا ناک نقشہ اور تصویر بھی دے سکتے ہیں جس کا تصور آپ کے ذہن وشعور کے نہاں خانوں میں پڑا آپ سے کام کام اور بس کام یعنی جہد مسلسل کا تقاضا کر رہا ہے۔ اگر آپ اپنے وجود کو ڈاکٹر، انجینئر یا ملک و ملت کے کسی مفید اور قابل فخر وجود میں ڈھالنا چاہتے ہیں تو اس سفر کا آغاز آپ نے بروقت کر دینا ہے۔ اگر وقت کی پھسلتی ریت آپ کے ہاتھ سے نکل گئی تو اللہ نہ کرے گاڑی چھوٹ جائے گی اور آپ اس سٹیشن پر نہ پہنچ پائیں گے جہاں پہنچنے کا ارادہ آپ نے اپنے دل میں پال رکھا ہے۔ اگر آپ گھڑی کی سوئیوں کی ٹک ٹک کیساتھ چلنے اور آگے بڑھنے کا گر جانتے ہیں تو منزل پر پہنچنے کی آرزو کا پورا ہونا دور کی بات ہے، کامیابیاں اور کامرانیاں خود آپ کے راستے میں کھڑی قدم قدم پر آپ کا استقبال اور قدم بوسی کرتے ہوئے آپ کا عزم وحوصلہ بڑھانے لگیں گی اور آپ کو یوں لگے گا جیسے آپ کو مخاطب کرکے کہہ رہی ہوں

فضا تری مہ وپرویں سے ہے ذرا آگے

قدم اٹھا یہ مقام آسماں سے دور نہیں

اچھے مستقبل کا خواب دیکھنا ہر فرد دانش کا پیدائشی حق ہے لیکن اپنی پسندکی منزل پر پہنچ جانا ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو اپنے مقدر کو اپنے ہاتھ کی لکیروں میں تلاش کرتے رہ جانے کی بجائے رخش مقدر کے گھوڑے کی باگیں اپنے ہاتھ میں تھام لیتے ہیں۔ نجومی جب ایسے لوگوں کے تیور اور ان کے کام کی رفتار دیکھتے ہیں تو وہ حساب لگا کر ان کے مستقبل کے بارے میں ایسی ایسی پیشن گوئیاں کرنے لگتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ حال ہی میں ایسی ہی پیشن گوئی راولپنڈی سے شائع ہونے والے صف اول کے ایک اخبار کے 2مئی 1996ء کے ایک تراشہ کی تصویر کی صورت ہم تک پہنچی جس میں الیکشن 2018ء میں بے مثال قیادت حاصل کرنے والے تحریک انصاف کے چیئرمین کے بارے میں جو کچھ بتایا گیا اللہ کرے وہ سچ ثابت ہو اور سچ کے سوا کچھ نہ ثابت ہو۔ آج سے بائیس سال پہلے چھپنے والے اس اخبار میں عمران خان کے مستقبل کے بارے میں جو پیشن گوئی کی گئی ہے اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے’’ عمران خان پاکستان کو سپرپاور بنائیں گے، دہلی پر اسلامی پرچم لہرائیں گے، 9 مسلم ممالک کا بلاک بنائیں گے، کشمیر کے مسئلہ کو حل کروائیں گے، وہ پاکستان کے عوام کی تقدیر بدل کر رکھ دیں گے، ان کے دور میں پاکستان ایک مثالی ملک بن جائے گا، ملک کی دولت لوٹنے والے چاروں شانے چت گر جائیں گے، غریب اور محب وطن قبائل عمران خان کی تحریک انصاف میں شامل ہوجائیں گے، عمران خان کی زیر قیادت بننے والے اسلامی بلاک میں چین بھی شامل ہوجائے گا، اسلامی جمہوریہ پاکستان سے وزیراعظم کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا اور ملک میں موجود چوٹی کے سیاستدان عمران خان کی سیاسی پارٹی میں شامل ہوجائیںگے‘‘۔ 1996میں شائع ہونے والے صف اول کے پاکستانی اخبار کے اس تراشہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ پیشن گوئی عالمی پیشن گو اور روحانی پیشوا پیر پنجر نے 1996سے بہت پہلے کی تھی جو سال 1996کو ملک کے اخبارات میں شائع ہوکر عہد حاضر میں حرف بحرف صحیح ثابت ہوتی نظر آرہی ہے، لیکن ہمیں یہ بات ہرگز ہرگز نہیں بھولنی چاہئے کہ اس پیشن گوئی کو سچ ثابت کرنے کیلئے عمران خان کو محنت، کوشش، لگن اور 22سالہ جہد مسلسل کی جن کٹھنائیوں کو طے کرنا پڑا اس کی سچی گوائیاں گزرتے وقت کی برف کی وہ سل دے رہی ہے جو لمحہ بہ لمحہ پگھلتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

متعلقہ خبریں