Daily Mashriq

ہر اندھیرے کو اُجالے میں بلایا جائے

ہر اندھیرے کو اُجالے میں بلایا جائے

ہر طرف سے ترین جہاز بہترین اُڑان کر کے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے آزاد ارکان کی کھیپ اُتار رہا ہے، جہاں عہدنامہ وفاداری پر دستخط ہو رہے ہیں، اس اسناد کی بدولت اہل پاکستان کو پاکستان کی سب سے بڑی عدلیہ سے غیر صادق وامین قرار دیئے جانے والے جہانگیر ترین مستقبل کی ایک مضبوط توانا سیاسی حکومت قائد تحریک انصاف عمران خان کی قیادت میں فراہم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اگر وہ صادق وامین نہ بھی رہے مگر ملک وملت کے کام آسکتے ہیں۔

پاکستان کے 2018ء کے انتخابات کے نتائج بڑی قوس وقزح کے رنگ میں جلوہ گر ہوئے ہیں، کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کو اس امر کی فکر نہیںہے کہ وہ آئندہ کی حکومت کے خدوخال میں کوئی کردار ادا کریں، وہ صرف اس میں مگن ہیں کہ دھاندلی کیخلاف تحریک کو کس انداز میں چلائیں کہ وہ کامیاب ہو جائے۔ بہرحال پاکستان کی تاریخ یہ ہی بتاتی ہے کہ پاکستان میں سیاسی افراتفری مچا کر یا پھیلا کر کوئی سیاسی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا بلکہ فوجی آمر کو گھس بیٹھنے کا انتظام ہو جاتا ہے، چنانچہ دھاندلی کیخلاف ہاہاکار تو مچی ہوئی ہے مگر سیاستدانوں نے اس مرتبہ رویہ بہت مثبت رکھا ہوا ہے کہ وہ احتجاج کو ایسے کسی ڈگر پر لے جانے سے گریزاں ہیں کہ جس سے کسی طالع آزما کو گل کھلانے کا موقع ہاتھ آجائے۔ اس سلسلے میں پی پی کے قائد آصف زرداری نے بہت سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا اور اسمبلیوں کے بائیکاٹ کا فارمولا رد کر دیا اور اس بارے میں مسلم لیگ ن کا مدعا صحیح سمت رہا چنانچہ دھاندلی کے بارے میں جو بھی ردعمل آیا ہے وہ ملک کے مفاد کی ترجیح کی بنیاد پر ہی مبنی نظر آرہا ہے۔

چنانچہ جہاز اُڑ رہا ہے، بنی گالہ میں اُتر رہا ہے۔ اس پر کئی ناقدین طرح طرح سے اُنگلیاں اُٹھا رہے ہیں۔ سادہ سی بات ہے کہ عمران خان کو اپنی حکومت کی خواہش پوری کرنے کیلئے اسمبلیوں میں سادہ اکثریت کی بہرحال ضرورت ہے، اگر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ بنی گالہ نے جمعہ بازار لگا رکھا ہے تو یہ سمجھ سے باہر ہے۔ بات یہ ہے کہ جمعہ بازار یا اتوار بازار تبھی لگتا ہے جب مال فروخت بھی موجود ہو البتہ زبردستی کی کھینچا تائی درست نہیں ہے۔ اگر لوگ خوشی سے آرہے ہیں تو جم جم آئیں، مگر پی پی اور مسلم لیگ کی جانب سے کچھ اور ہی کہا جا رہا ہے مثلاً مسلم لیگ کے رہنماء رانا ثناء اللہ نے گزشتہ شب ایک ٹی وی ٹاک شو میں انکشاف کیا کہ ان کی جماعت کو بھی پنجاب میں آزاد ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے اور وہ اس حیثیت میں آگئے ہیںکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت تشکیل دیدی جائے مگر وہ ان ارکان کے نام نہیں بتائیں گے کیونکہ ان پر دباؤ پڑنے کا امکان ہے، کیسا دباؤ اس بارے میں موصوف نے اظہار نہیں کیا، البتہ اتنا کہا کہ دو ارکان اسمبلی لاہور ملنے آرہے تھے جب وہ لاہور میں داخل ہوئے تو ان کو ٹیلی فون آیا کہ ان کی حرکت نیٹ پر لاہور میں پائی جارہی ہے اس لئے فوراً پلٹ جاؤ، رانا صاحب کے اس بیانیہ کی کیا صداقت ہے اس کا ثبوت وہی دے سکتے ہیں۔

اس بارے میں ان دنوں سوشل میڈیا بہت آگے نکلا ہوا ہے۔ ایسے ایسے تبصرے انتہائی لطیف پیرائے میں آرہے ہیں کہ ان میں گہرائی اور گیرائی کیساتھ ساتھ ایک عمدہ قسم کا تفنن بھی پایا جا رہا ہے مثلاً عمران خان کی تقاریر اور انٹرویوز پر مشتمل ویویڈیو وائرل ہو رہی ہیں۔ ایک ایسی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں وہ انٹرویو دیتے ہوئے دکھائے گئے ہیں اور فرما رہے ہیںکہ پرویز الٰہی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ہے، وہ اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کا ساتھی اس لئے ہے کہ انہوں نے کھربوں کی کرپشن کی ہے اور خود کو پکڑے جانے سے بچانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ نتھی ہوئے ہیں۔ خان صاحب کا یہ فرمان کن معنی میںہے، آیا وہ پرویز الٰہی کے کرتوت بیان کر رہے ہیں یا یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کرپٹ عناصر کی پناہ گاہ ہے، سوشل میڈیا عمران خان کے اس مؤقف پر دلچسپ تبصرے کر رہا ہے کیونکہ اپنے اقتدار کی خاطر پنجاب کے سب سے بڑے بددیانت شخص کی انگلی پکڑی ہے چنانچہ سوشل میڈیا کہہ رہا ہے کہ ’’کل کا ڈاکو آج کا بھائی، پرویز الٰہی پر ویزالٰہی‘‘ اور تو اور اب تو ایم کیو ایم بھی خان کی جھولی میں پناہ گیر ہو گئی ہے۔ یہ وہی ایم کیو ایم ہے جس پر خان صاحب نے کراچی میں اپنی ایک متحرک ترین خاتون رہنما کے قتل کا الزام لگایا تھا۔ اس کے بعد وہ بڑی محنت سے دستاویزات بنا کر برطانیہ لے گئے تھے جس میں انہوں نے ثابت کرنے کی سعی کی تھی کہ ایم کیو ایم ایک دہشتگرد تنظیم ہے، وہ پاکستان میں دہشتگردی، قتل وغارت گری اور لوٹ مار میں ملوث ہے۔ اب وہ جماعت ان کے اقتدار کی بیساکھی بن گئی ہے حالانکہ کراچی میں تحریک انصاف کو جو کامیابی ملی ہے اس کی قیمت ایم کیو ایم کو ادا کرنی پڑی ہے مگر سیاست اسی کا نام ہے۔ ایوب خان کو تو یہ سمجھ نہیںآرہی تھی کہ مذہب سے سیاست کا کیا رشتہ ہے مگر پاکستان کے عوام کو یہ سمجھ نہیں آرہی ہے کہ سیاست کے اصول وقیود کیا ہیں اس بارے میں گوپال داس نیرج کا یہ شعر یاد آرہا ہے کہ

پیار کا خون ہوا کیوں یہ سمجھنے کیلئے

ہر اندھیر ے کو اُجالے میں بلایا جائے

گوپال داس نیرج کا اسی غزل کا ایک اور شعر ہے جو عوام کے دلوں کی آواز ہے کہ

جسکی خوشبو سے مہک جائے پڑوسی کا بھی گھر

پھول اس قسم کا ہر سمت کھلایا جائے

متعلقہ خبریں