Daily Mashriq

چار جانب گونجتی آواز کے تیور سمجھ

چار جانب گونجتی آواز کے تیور سمجھ

؎خدا جانے یہ ان اعتراضات کا اثر ہے جو مختلف حلقوں کی جانب سے کئے جارہے تھے اور جن میں خصوصی طور پر ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے باخبر صحافی بھی شامل تھے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی کچھ لوگ اس حوالے سے بہت فعال تھے، یا پھر یہ خیال خود جناب چیف جسٹس کے ذہن رسا میں بجلی کی مانند کوندا کہ ڈیم بنانے کی ذمہ داری عدلیہ کی نہیں اور انہوں نے فرما دیا کہ حکومت کو چاہے تو ڈیم بنانے کی ذمہ داری ادا کرے۔ جناب چیف جسٹس کی اس پیشکش کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ ملک میں نئے ڈیمز کی تعمیر کے مسئلے پر مقدمے کے فیصلے کے بعد جس میں سپریم کورٹ نے ایک جانب دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کا حکم دیتے ہوئے اس مقصد کیلئے سپریم کورٹ کی زیر نگرانی فنڈز کے قیام کا اعلان کیا تھا اور جس میں قوم نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عطیات دینا شروع کر دیئے ہیں تو دوسری جانب کالاباغ ڈیم کی تعمیر کو متنازعہ ہونے کی بناء پر رد کر دیا تھا مگر حالیہ انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ایک مخصوص لابی پھر سرگرم ہو چکی ہے اور سوشل میڈیا پر ایک مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ جو سیاسی قیادت کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیخلاف تھی ان کو شکست دی جا چکی ہے اور اب کالاباغ ڈیم کی تعمیر میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی اس لئے کالاباغ ڈیم کیلئے تحریک شروع کر دی جائے۔ اس کا مقصد صاف ظاہر ہے کہ خودغرض، مفاد پرست اور ملکی یکجہتی کا مخالف ٹولہ ایک بار پھر سرگرم ہو چکا ہے۔ درحقیقت عدالت عظمیٰ کا محولہ فیصلہ دل سے قبول نہیں تھا اور وہ ایک ایسے وقت کا انتظار کر رہا تھا جب ایک بار پھر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے سرگرم ہو سکے، اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ یہی مخصوص ٹولہ جو ماضی میں بھی صرف اور صرف کالاباغ ڈیم کی تعمیر کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے کسی بھی متبادل آبی منصوبے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اب بھی وقتی طور پر مصلحتاً خاموش تھا اور خدشہ یہی ہے کہ یہی لابی شاید سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی ایسی پالیسیاں اختیار کرے کہ دونوں ڈیمز یعنی دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی راہ کھوٹی کر کے اس کو ناکامی سے دوچار کر دیا جائے۔

دیکھو یہ میرے خواب تھے، دیکھو یہ میرے زخم ہیں

میں نے تو سب حساب جاں برسر عام رکھ دیا

چیف جسٹس تو ملک کو پانی کے ممکنہ بحران سے بچانے بلکہ نکالنے کیلئے یہی سوچ رکھ سکتے تھے اور انہوں نے تمام حقائق کا جائزہ لیکر، ماہرین کی آراء سے استفادہ کرتے ہوئے ملکی مفاد میں ایک بہترین فیصلہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ سپریم کورٹ ان منصوبوں کی نگرانی کرتے ہوئے ان کی تکمیل کو یقینی بنائے گی لیکن سی جے کے تازہ بیان کے بعد وہ لابی جو پہلے بھی صرف اور صرف کالاباغ کی تعمیر پر مصر رہتے ہوئے ملک وقوم کے مفادات کو مسلسل تباہی سے دوچار کرتے ہوئے متبادل منصوبوں کی راہ کھوٹی کرتی آئی ہے اور جس کے سنگین نتائج آج قوم بھگتنے پر مجبور ہو چکی ہے، شاید اس میں اپنی کامیابی دیکھ رہی ہے اور اگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو ہمارے اس کالم کو سنبھال کر رکھ لیجئے گا کہ آنے والے مہینوں میں سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیمز کا تذکرہ تو کیا جاتا رہے گا لیکن اس کی تعمیر میں مسلسل روڑے اٹکائے جاتے رہیں گے اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے ایک بار پھر خصوصاً پنجاب کے اخبارات اور میڈیا پر گاہے گاہے تبصرے، تذکرے اور مذاکروں کا طوفان اُمڈ آئے گا۔ بقول حسن رضوی مرحوم

چار جانب گونجتی آواز کے تیور سمجھ

دو گھڑی کو سوچ تیرے گھر میں کیا ہونے کو ہے

جن حالات کی پیشگوئی ہم نے اوپر کے سطور میں کی ہے اس کا اندازہ آنے والے ایک دو ماہ میں بہ آسانی ہوجائے گا اور وہ یوں کہ اگرچہ وفاقی سطح پر بجٹ تو سابقہ نون لیگی حکومت نے کسی نہ کسی طور پاس کروا لیا ہے تاہم صوبہ خیبر پختونخوا میں نگران حکومت نے نہ صرف چار ماہ کے بجٹ کی ہی منظوری دے رکھی ہے اور اب جبکہ ایک بار پھر تحریک انصاف کی حکومت ہوگی تو دیکھتے ہیں کہ وہ خیبر پختونخوا میں پانی کے ان قدرتی منابع کو کس طرح بروئے کار لاتی ہے جن کے حوالے سے اگرچہ وہ پہلے بھی یہ دعوے کرتی رہی ہے کہ اس نے صوبے میں تین سو ڈیم بنا لئے ہیں اور تحریک کی حکومت کے اس پروپیگنڈے کو مخالفین نے آڑے ہاتھوں لیکر خوب خوب بھد اُڑائی، دیکھتے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت سال کے بقیہ مدت کیلئے بجٹ بناتے وقت کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔ تحریک انصاف کی نئی صوبائی حکومت کو اب اس بات کی بھی شکایت نہیں رہے گی کہ وفاقی حکومت اس کے منصوبوں کی راہ میں مزاحم ہے کیونکہ مرکز میں بھی اسی کی حکومت ہوگی اور اب اصولی طور پر خیبر پختونخوا کے بجلی منافع کے حصول میں رکاوٹیں بھی دور ہو جائیں گی، تاہم اصل مسئلہ دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر ہے جس کیلئے وفاقی حکومت کیا اقدام کرتی ہے جبکہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر مصر لابی کی سازشیں کیونکر ناکامی سے دوچار کرنے میں کامیابی حاصل کرتی ہے اس کیلئے تھوڑا سا انتظار کرنا پڑے گا۔

ہم صبح پرستوں کی یہ ریت پرانی ہے

ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا

متعلقہ خبریں