Daily Mashriq

جناب سپیکر کا اظہار تاسف

جناب سپیکر کا اظہار تاسف

جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء سے جس کنٹرولڈ جمہوریت نے جنم لیا تھا اس میں بڑے پیمانے پر سرمایہ دار کلاس آگے آئی تھی۔ اس سرمایہ دار کلاس کو ملکی سیاست میں متعارف کرانے کی وجہ ملکی جاگیرداروں کا کنٹرول کم کرنا تھا۔ جاگیردار طبقہ انگریز کیساتھ ملی بھگت کرکے ہی معاشرے میں معزز ومکرم بنا تھا اور سیاست میں بھی اس طبقے کو بالادستی حاصل تھی۔ اس کے برعکس سرمایہ دار خاندان سیاست میں کسی حد تک موجود تھے مگر انہیں قائدانہ کردار حاصل نہیں تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی کنٹرولڈ جمہوریت میں سرمایہ دار کلاس پوری قوت سے سیاست میں آئی مگر اس دنیا میں قدم رکھتے ہی وہ بھی جاگیردار ہی ثابت ہوئے۔ جاگیردار ایک زمینی حقیقت کیساتھ ساتھ ایک مائنڈ سیٹ کا نام بھی ہوتا ہے جس میں خلق خدا کی حیثیت رینگنے والی مخلوق سے زیادہ نہیں ہوتی۔ سرمایہ دار کلاس نے بھی سیاست میں جاگیردارانہ طور طریقے آگے بڑھائے۔ اس نئی تبدیلی سے پنجاب اور کراچی زیادہ متاثر ہوئے۔ پنجاب پہلے ہی جاگیرداری نظام کا مرکز تھا البتہ کراچی ایک شہری علاقہ تھا جہاں مڈل کلاس قومی جماعتوں کی غیر ضروری قطع وبرید کرکے لسانی مڈل کلاس کو آگے کیا گیا۔ پنجاب کا تاجر طبقہ اور کراچی کی لسانی مڈل کلاس دونوں تھوڑا دور چل کر جاگیردارنہ تمکنت کیساتھ سامنے آتی چلی گئیں۔ یہ ذہنیت اب ہمارے سیاسی اور سماجی نظام میں اندر تک سرائیت کر گئی ہے۔ اس ذہنیت کو آزاد اداروں سے خوف محسوس ہوتا ہے اور اسی خوف نے ملک میں آزاد، باوقار اور خود انحصار اداروں کے قیام میں رکاوٹ کھڑی کئے رکھی۔ اسی ذہنیت کا بہترین عکاس سپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق کا اظہارِتاسف ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کے دفتر کے باہر اخبار نویسو ں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ ہم نے الیکشن کمیشن کو زیادہ بااختیار بنا کر غلطی کی ہے، معلوم نہیں تھا کہ الیکشن کمیشن اس طرح کے انتخابات کرائے گا۔ چیف الیکشن کمشنر نے انہیں ملاقات کیلئے وقت نہیں دیا حالانکہ وہ اس وقت بھی سپیکر ہیں۔ الیکشن کمیشن کی حالیہ انتخابات میں کارکردگی پر کئی سوال اُٹھائے جا رہے ہیں اور مزید کئی سوالات کی گنجائش ابھی اور موجود ہے۔ سیاسی جماعتیں بیانات، اجلاسوں، ٹی وی انٹریوز اور اپنے سوشل میڈیا ونگز کے ذریعے الیکشن کمیشن کیخلاف دل کا غبار پوری قوت سے نکالنے میں مصروف ہیں۔ مسلم لیگ ن کا سوشل میڈیا تو دنیا میں کہیں بھی وردی پوش فوجی کی چلتی پھرتی تصویر کو پاکستان کے الیکشن سے جوڑ کر پیش کر رہا ہے۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ بعض حوالوں سے الیکشن کمیشن تساہل اور غفلت کا مرتکب ہوا ہے بالخصوص آر ٹی ایس سسٹم کا عین کام کے وقت بیٹھ جانا اس ادارے کی اہلیت اور صلاحیت کے آگے سوالیہ نشان چھوڑ گیا۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اداروں کو مضبوط اور بااختیار بنانے کا کام اسلئے ختم کر دیا جانا چاہئے کہ وہ اچھی اور سریع الحرکت کارروائی نہیں کر سکتے۔ الیکشن کمیشن، قومی احتساب بیورو، عدلیہ، فوج اور پارلیمنٹ سب اس ریاست کے ادارے ہیں جو اپنا تفویض کردہ کام کرنے کے پابند ہیں۔ ان اداروں سے ہی حکومت تشکیل پاتی ہے۔ حکومت اگر اُڑنے والا پرندہ ہے تو یہ ادارے اس کے بال وپر میں شمار ہوتے ہیں۔ ایسے میں الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے پر اظہار تاسف قطعی صحت مندانہ رویہ اور رجحان نہیں۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ ہم نے ریاست صرف پارلیمنٹ کا نام رکھ چھوڑا ہے یعنی پارلیمنٹ سے جنم لینے والی مقننہ اور انتظامیہ کا نام ریاست اور حکومت رکھا ہے۔ اسی لئے ہماری قومی نفسیات یہ ہے کہ ہر ادارہ انتظامیہ کے تابع ہے۔ الیکشن کمیشن سے عدلیہ تک تابع مہمل ادارے اور اداروں کے سربراہان ہمارے حکمرانوں کی پسند رہے ہیں۔ ہمیں آزاد عدلیہ، آزاد نیب، آزاد پولیس سے نباہ کرنے کا تجربہ ہی نہیں۔ حقیقی جمہوریت میں اس طرح کے ادارے آزاد ہوتے ہیں۔ آزاد ومختار ادارے جمہوریت کی عمارت کیلئے ستون کا کام دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں آزاد اداروں کا تصور ہی مفقود رہا ہے۔ یہاں اداروں پر منشی بٹھائے جاتے ہیں جو حکمرانوں کے تابع مہمل کا کردار ادا کرکے اداروں کو سیاسی اکھاڑے میں بدل دیتے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے بعد کی جمہوریت میں اداروں کیلئے ہماری پسند کا معیار اور آئیڈیل وفادار، بے ضرر پن اور مٹی کا مادھو رہا ہے۔ اس سے ادارے اپنی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی بنے رہتے ہیں۔ صدر کیلئے رفیق تارڑ، آرمی چیف کیلئے ضیاء الدین بٹ، آئی ایس آئی کیلئے ذوالفقار کلو، عدالت کیلئے جسٹس قیوم، احتساب بیورو کیلئے سیف الرحمان اور قمرالزمان، دوسرے اداروں میں ایسے ہی نام گزشتہ پچیس سالہ جمہوریت میں ہمارے حسن انتخاب کی کہانی سنا رہے ہیں۔ اس بہتی گنگا میں جنرل مشرف بھی پیچھے نہیں سب کچھ اپنے ہاتھ تلے رکھنے کی خواہش میں انہوں نے ملک اپنے کلاس فیلوز اور گلاس فیلوزکے ذریعے چلایا، یوں اس دور میں بھی آزاد اداروں کی بنیادیں نہ ڈالی جا سکیں۔ اب اگر ہم حقیقی جمہوریت اور کرپشن سے آزاد سوسائٹی چاہتے ہیں تو ہمیں سب اداروں کو آزاد اور بااختیار بنانا ہوگا خواہ اس کی زد خود آزادی اور اختیار دینے والے پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ ریاستیں لمحہ موجود کا کھیل نہیں ہوتیں بلکہ آنیوالی نسلوں اور زمانوں سے جڑی اور محیط ہوتی ہیں۔ کسی وقتی واقعے سے اداروں کی آزادی اور اختیار پر تاسف کا اظہا کرنے کی بجائے یہ اصولی موقف اپنانا چاہئے ملک میں جمہوریت کی بقا آزاد اداروں کے قیام میں ہے۔

متعلقہ خبریں