Daily Mashriq


مردم شماری میں بلاوجہ تاخیر

مردم شماری میں بلاوجہ تاخیر

عدالت عظمیٰ نے ملک میں مردم شماری نہ کرائے جانے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے پندرہ مارچ سے پندرہ مئی کے درمیان مردم شماری کی تاریخ نہ دی تو آئندہ سماعت پر وزیر اعظم محمد نواز شریف کو طلب کیا جائے گا ۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ اگر مرد م شماری نہیں کرانی ہے تو آئین میں ترمیم کرلیں ۔ مردم شماری کے حوالے سے اب تک وفاقی حکومت یہی عذر پیش کرتی رہی ہے کہ افواج پاکستان کی ضرب عضب اور دہشت گردی کے حوالے سے جنگ میں مصروفیت کی وجہ سے حکومت ملک میں مردم شماری نہیں کراسکتی جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومتی عذر کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئین میں کہیں بھی مردم شماری افواج کی نگرانی میں کرانے کی شرط عائد نہیں ہے۔ ہمارے تئیں اصولی طور پر تو مردم شماری میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوناچاہئے لیکن بعض عناصر کی جانب سے تحفظات رکھنے کی بناء پر فوج کے بغیر مردم شماری کا انعقاد تضادات کا باعث بن سکتا ہے۔ فوج کی موجودگی کا جو جواز اور ضرورت پیش کی جاتی ہے اس جواز کے تحت پنجاب اور خیبرپختونخوا میں فوج کی موجودگی کی ضرور ت محسوس نہیں ہوتی البتہ سندھ اور بلوچستان میں تضادات کے باعث فوج کی موجودگی کے بغیر مردم شماری کے نتائج کو اس بناء پر قبول نہ کئے جانے کاخدشہ ہے کہ بعض عناصر کو اس امر کا اعتبار نہیں کہ ان کی آبادی کے درست اورحقیقی اعداد وشمار مرتب کئے جائیںگے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خواہ یہ خدشات درست ہوں یا بے بنیاد ان خدشات کے خاتمے اورازالے کے لئے ان کے اعتماد کی حامل مردم شماری کراناضروری ہے۔ قطع نظر اس کے کہ وہ ہر بار اپنا موقف اور خدشات دہراتے ضرور ہیں ۔مردم شماری کے بغیر 2018ء کے عام انتخابات بھی چیلنج ہوسکتے ہیں جس کے نتیجے میں انتخابات کا قانونی انعقاد سوالیہ نشان ہوگا۔جن جن صوبوں اور علاقوں کے تحفظات نہیں اگر وہاں فوج کے بغیر اور جہاں جہاں تضادات ہیں وہاں پر بطور نگران فوج کی تعیناتی کا بندوبست کر کے بھی مردم شماری میں فوج پر انحصار کر کے بھی مردم شماری میں فوج پر انحصار اور فوج کی دستیابی کو محدود کیاجاسکتا ہے ۔حکومت کی جانب سے فوج کی خدمت کی عدم دستیابی کا حیلہ کر کے مردم شماری کے انعقاد میں جس طرح تاخیر کی جاتی رہی ہے اس کے خلاف کسی جماعت اور گروپ نے عدالت سے رجوع نہیں کیا جو از خود اس امر دال ہے کہ ملک میں مردم شماری کے عدم انعقاد میں صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں بلکہ بات بات پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے والے چپ سادھ کر عملی طور پر اس ضروری عمل کے عدم انعقاد کے گو یا حامی ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پورے ملک میں بیک وقت فوج کی نگرانی میں انعقاد پر زور نہیں دیا جانا چاہیے دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا بلکہ بتدریج مردم شماری ہوتی ہے پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا اور اس کی راہ میں کیا امر مانع ہے ۔ مردم شماری میں فوج کی نگرانی احسن عمل ہوگا مگر حالات کے باعث ایسا کرنے میں مشکلات ہیں۔ پورے ملک میں مردم شماری کے بیک وقت انعقاد کیلئے صرف فوج کی دستیابی نہیں بلکہ صوبوں میں مردم شماری کے عملہ کی دستیابی بھی بیک وقت ممکن نہیں ہوگا۔ مثال کے طور پر مارچ اپریل اور مئی کے مہینوں میں خیبر پختونخوا میں مڈل میڑک انٹر میڈیٹ اور گریجویشن کی سطح کے امتحانات ہوتے ہیں اس دوران مردم شماری کیلئے سکول و کالج اساتذہ کی خد مات کا حصول مشکل ہوگا ۔ اس صورتحال سے بچنے کے لئے حکومت کو چاہئیے کہ وہ صوبائی سطح پر اور ملک بھر میں مرحلہ وار مردم شماری کا پروگرام مرتب کر کے اس پر عملدر آمد کرے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا گزشتہ دس سالوں سے مردم شماری نہ ہونے کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے ۔یہاں افغان مہاجرین کی صورت میں لاکھوں افراد آباد ہیں جبکہ فاٹا سے متاثرین کی آمد کے باعث بھی شہری علاقوں میں آبادی کا تناسب بگڑ چکا ہے ۔علاوہ ازیں شہرائو کے عمل میںبھی تیزی آئی ہے جس سے شہری علاقوں میں مسائل کے مقابلے میں وسائل کا توازن غیر حقیقت پسندانہ ہے ۔ حکومت کو سپریم کورٹ کا 15 مئی تک مردم شماری کے حکم پر عملد ر آمد کو یقینی بنانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر نا چاہیئے ۔ مردم شماری کے انعقاد کے بعد اس کی روشنی میں صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم کاعمل بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہاں کے عوام کے تحفظات دورہوں ۔ ملک کی آبادی کے صحیح اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد اس کے مطابق منصوبہ بندی ہونی چاہیئے ۔علاو ہ ازیں آبادی کی بنیاد پر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹوں میں اضافہ کی بھی ضرورت ہے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ مردم شماری کے انتظامات کو جلد حتمی شکل دے دی جائے گی اور حکومتی ادارے اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرکے مردم شماری کے انعقاد کو ایسے شفاف طریقے سے یقینی بنائیں گے کہ اس پر کسی جانب سے تحفظات کا اظہار نہ ہو ۔

متعلقہ خبریں