Daily Mashriq


منکرات اور قبائح کے خلاف مہم کی ضرورت

منکرات اور قبائح کے خلاف مہم کی ضرورت

خیبر پختونخوا کے اسلامی رجحانات رکھنے اور پشتون روایات کے حامل معاشرے میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی ملازمت پیشہ خواتین اور یونیورسٹی طالبات کی بڑی تعداد کے نشے میں مبتلا ہونے کی خبر اگرچہ اعداد وشمار کے ساتھ پوری تحقیق کے ساتھ دی گئی ہے اور معاشرے میں اس طرح کے رجحانات بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں لیکن اس کے باوجود اس خبر پر یقین کرنے کو دل نہیں کرتا بہرحال اس حقیقت سے صرف نظر ممکن ممکن نہیں کہ ہمارے معاشرے میں نہ صرف نشے کی لت ہی کہ شرح میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے صوبے میں ایڈز کے مریضو ں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ جنسی بے راہروی اور غیر فطری حرکات ایڈز کے مرض کے پھیلائو کی بڑی وجوہات ہیں۔ بے راہروی خواہ نشے کی لت کی شکل میں ہو یا اخلاقی ہو تباہی کے ان اسباب سے معاشرے کا متاثرہونا فطری امر ہے ۔صوبے میں اخلاقی بے راہروی میں اضافے کا ایک بڑا کردار خواجہ سرائوں کے مراکز ہیں۔گزشتہ کچھ روز کے اندر ہی ان مراکز میں جانے والوں کو لوٹے جانے کی شکایات پولیس سٹیشنوں میں آچکی ہے علاوہ ازیں بھی ان کے مراکز کسی سے پوشیدہ نہیں صرف انہیں پر کیا موقوف صوبے کے پوش علاقوں میں بعض گیسٹ ہائوسز اور گھروں میں اخلاقی بے راہروی کا دھندہ دھڑلے سے جاری ہے جہاں گاہکوں کو ٹھہرانے کی سہولتوں کے ساتھ ساتھ منشیات کی فراہمی کا بندوبست ہوتا ہے مگر حیرت ہوتی ہے کہ پولیس گھر گھر جا کر این او سی تو چیک کرتی ہے مگر قحبہ خانوں کے مہمانوں سے تعرض کرنے کی زحمت گوار ا نہیں کرتی ۔ جہاں تک تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کا تعلق ہے اس ضمن میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کی بدحالی کے خلاف قومی اسمبلی میں آواز اٹھائی جا چکی ہے لیکن اس آواز کی قسمت بہر حال صدا بصحراثابت ہونا تھا اور اس کا حشر یہی ہوا ۔ خیبر پختونخوا کے معاشرے میں قبائح پوری راز داری کے ساتھ انجام دی جاتی ہیں مگر اس کے باوجود سڑکو ں پر ایسے مناظر کا دکھائی دینا معمول کی بات ہے ۔ جن کو دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔منشیات کے عادی افراد کو ایک کال پر ان کے مطلوبہ مقام پر با آسانی منشیات پہنچ جاتی ہے جس معاشرے میں قبائح کا حصول آسان ہو جائے تو اس طرف رجحان اور ان کے حصول میں اضافہ ہونا فطری امر ہوگا ۔ خیبر پختونخوا میں تیس لاکھ افراد کے منشیات کا عادی ہونا بظاہر حقیقت پسنداعداد وشمار نہیں لگتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تعداد اس سے بھی دوگنا سے بھی زیادہ ہے جس پر حکومت کو فوری طور پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی جانی چاہیے کہ وہ اپنے دائرہ کار میں قبائح اور منکرات کے خلاف مہم شروع کر دیں۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میںخواجہ سرائو ں کے اڈوں سمیت دیگر تمام مشکوک مقامات اور مراکز پر فوری چھاپے مارے جائیں منشیات فروشوں اور سڑکوں پر مشکوک انداز میں گھومنے پھر نے والوں کے خلاف پولیس کارروائی کر کے کالجوں اور یو نیورسٹیوں میں طلباء وطالبات کے خون کے نمونے لیکر ٹیسٹ کئے جائیں ہاسٹلوں میں مقیم افراد پر بھی کڑی نظر رکھی جائے اور ہاسٹلوں کی انتظامیہ کو اس امر کا پابند بنا یا جائے کہ وہ اپنے ہاں مقیم افراد اور ان سے ملنے والوں پر کڑی نظر رکھیں ۔

حیات آباد میں ناقص صفائی پر وزیر اعلیٰ کی برہمی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی جانب سے حیات آباد میں عملہ صفائی کی ناقص کار کردگی پر برہمی کا اظہار کافی نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ایک موقع پر کمپنی کی کارکردگی سے مایوس ہو کر حیات آباد کی صفائی کا انتظام دوبارہ پی ڈی اے کے حوالے کرنے کی ہدایت کی تھی جسے بعد میں واپس لیا گیا لیکن اس کے باوجود صفائی کی صورتحال میں بہتری نہ آنا اس امر پر دال ہے کہ صفائی کے انتظامات کو بہتر اور مربوط بنانے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے ۔ حیات آباد میں کوڑا کرکٹ اٹھانے کا خاص معقول انتظام موجود ہے البتہ سڑکو ں پر شاپنگ بیگز اور خاص طور پر مختلف قسم کے ریپرزکا جمع ہونا بڑا مسئلہ ہے۔ علاوہ ازیں سڑکوں کے کنارے لکیروں کی صورت میں مٹی کاجمع ہونا اور گاڑیوں کے گزرنے پر دھول اڑنا سنگین مسئلہ بن چکا ہے ۔اس کی ایک بڑی وجہ جہاں بارشوں کا نہ ہونا ہے وہاں اس کا ایک اور بڑا سبب بعض گھروں میں اندرونی نکاس کا نظام ناقص ہونے کی بنا پر کپڑے دھونے اور گیراج میں گاڑیوں کی دھلائی یا باہر کا نلکا کھلا رہنے کی بنا پر سڑکو ں پر بننے والے کیچڑ اور اس کا پھیلائو ہے ۔نکاسی آب کا عملہ اگر فالتو پانی سے سڑکوں اور گلیوں پر بہنے اور اس کا جمع ہو کر کیچڑ بننے کا سبب بننے والے گھروں کا چالان کرے تو اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے ۔ صفائی کی ذمہ دار کمپنی کے منتظمین اگر کبھی کبھار دفتروں سے نکل کر حیات آباد کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کی زحمت گوار اکریں ڈی جی پی ڈی اے بھی اگر اس پر توجہ دے تو مسئلہ اتنا گمبھیر نہیں کہ اس پر قابو پایا نہ جا سکے ۔ وزیراعلیٰ کی طرف سے پانی کے بلوں میں اضافہ کی منظوری مکینوں پر بوجھ ہوگا جو مناسب نہیں۔

متعلقہ خبریں