Daily Mashriq


ترکی اسرائیل تعلقات کے مشرق وسطیٰ پر اثرات

ترکی اسرائیل تعلقات کے مشرق وسطیٰ پر اثرات

ترکی مشرق وسطیٰ کا اہم ترین ملک ہے،جو ایشیا اور یور پ کے سنگم پر واقع ہے۔ترکی کی سرحدیں آٹھ ممالک سے ملتی ہیں،جن میں بلغاریہ، یونان، جارجیا، آرمینیا، یونان،ایران،عراق اور شام شامل ہیں۔ترکی معاشی، دفاعی اور محل وقوع کے لحاظ سے دنیا میں اہم مقام رکھتاہے۔مشرق وسطیٰ بالخصوص شام ،عراق کی کشیدہ صورتحال ترکی کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔یہی وجہ ہے کہ ترکی نے عراق اور شام سے ملحقہ ترک علاقوں میں شورش سے بچا ؤکے لیے بڑے پیمانے پر فوجیں لگارکھی ہیں۔اسرائیل اور ترکی کے تعلقات کی تاریخ1949ء سے شروع ہوتی ہے۔غاصب اسرائیلی ریاست کے قیام کے وقت ترکی نے اسرائیل کی مخالفت کی تھی،لیکن پھر ایک سال بعد اس وقت کی ترک حکومت نے اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرلیا۔یوں رفتہ رفتہ اسرائیل اور ترکی کے تعلقات دفاعی ،اقتصادی حتیٰ کہ باہمی فوجی مشقوں اور انٹیلی جنس شیئرنگ تک بڑھتے گئے۔1967ء میں عرب اسرائیل جنگ کے وقت ترکی عرب اتحادکے ساتھ تھا۔ 2002 کے الیکشن میں طیب اردگان کی پارٹی کی جیت اور اردگان کے وزیراعظم بننے کے بعدترکی اور اسرائیل کے تعلقات نے نیا رخ لیا۔ طیب اردگان نے باوجود اسرائیل سے نفرت کے 2005ء میں اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیلی حکومت کو برابری کی سطح پر تعلقات رکھنے اور مشرق وسطیٰ کو پرامن بنانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کی دعوت دی،لیکن اسرائیل مظالم سے بازنہ آیا۔چنانچہ 2009/2008 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے خلاف طیب اردگان نے بھرپور احتجاج کیا۔ 31مئی 2010 کو ترکی نے غزہ میں مظلوم فلسطینیوں کے لیے فریڈم فلوٹیلانامی جہاز پرامدادی سامان بھیجا،جس پر اسرائیلی فوجیوں نے حملہ کیا اور جہاز کے عملے میں شامل 10 ترکوں کو قتل کردیا۔اس حملے کی وجہ سے بالآخرطیب اردگان نے پہلی مرتبہ اسرائیل کے ساتھ60 سال سے قائم تعلقات منقطع کردیے۔اس کے بعد اردگان مسلسل اسرائیلی مظالم کے خلاف بین الاقوامی فورمز پر آوا ز اٹھاتے رہے۔چنانچہ 2013میں اسرائیلی حکومت نے باقاعدہ دنیا کے سامنے فریڈم فلوٹیلاحملے پر ترکی سے معافی مانگی اور تعلقات بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ترک حکومت نے معافی قبول کرتے ہوئے نقصان کے ازالے کا مطالبہ کیا۔تین سال بعد اسرائیلی حکومت نے نقصان کے ازالے پر حامی بھری اور فریڈم فلوٹیلا حملے میں مرنے والوں کو 200 ملین ڈالر ہرجانہ اداکرنے کا وعدہ کیا۔یوں جون 2016 میں باقاعدہ طور پر اسرائیل اورترکی دونوں نے دوبارہ سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا۔چند دن پہلے دونوں ملکوں نے اپنے اپنے سفیر بھی منتخب کردیے۔اسرائیل میں لگنے والی آگ بجھانے کے لیے بھی اردگان نے انسانیت کے ناتے اسرائیل کی مدد کی جس پر اسرائیلی صدر نے اردگان کا شکریہ ادا کیا۔اردگان حکومت کے مطابق تین شرائط پر ترکی نے اسرائیل سے تعلقات بحال کیے ہیں۔فریڈم فلوٹیلا حملے پر معافی اور نقصان کا ازالہ کیا جائے گا،غزہ کی ناکہ بندی کا خاتمہ اورفلسطین بالخصوص غزہ میں امدادی اور فلاحی کاموں کی ترکی کو اجازت ہوگی۔اسرائیلی حکومت کے مطابق ان تین مطالبات کے باوجودیہ معاہدہ اسرائیل کے لیے سود مند ہے،کیوں کہ اسرائیل اپنی قدرتی گیس ترکی کے ذریعے یورپ تک پہنچا سکے گا، ترکی اسرائیل کے خلاف بین الاقومی فورمز پر خاموش رہے گااور حماس کے قبضے میں قید اسرائیلی فوجیوں کی رہائی کے لیے ترکی مدد کرے گا۔اسرائیل اور ترکی کے تعلقات بحالی کا یہ نیا دور کیسا رہے گا؟حتمی طور پر اس بارے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔لیکن مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظرترکی کے لیے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔کیوں کہ ایک طرف شام میں ایران، روس ،مصر مل کر بشار الاسد کا ساتھ دے رہے ہیں ،جس کی وجہ سے ترکی کے سرحدی علاقے بدامنی کا شکار ہوتے جارہے ہیں،بلکہ بشار کے اتحادی طیاروں کی بمباری سے ترک فوجی بھی شہید ہورہے ہیں۔دوسری طرف غزہ کے مسلمان کافی عرصے سے مسائل کا سامناکررہے ہیں۔ان حالات میں ترکی کا اسرائیل کو مذاکرت کی میز پر بٹھاکر اپنا ایک دشمن کم کرلینا اور غزہ کے مظلوموں کی حمایت کے لیے راستے کھلوالینا یقینا کامیابی ہے۔ترکی باوجو داسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کے فلسطینیوں کا حامی ہے۔یہی وجہ ہے کہ 22نومبر 2016 کو طیب اردگان نے پہلی مرتبہ اسرائیلی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا،اس میں انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کے باوجودفلسطینیوں کی نمائندہ جماعت حماس کو ایک سیاسی حقیقت تسلیم کیا اور ان کے ساتھ تعلقات رکھنے کی حامی بھری۔اردگان کے اس بیان پر اسرائیل میں مظاہرے بھی ہوئے اور اسرائیلی عوام اور پارلیمنٹ کے بعض اراکین نے ترکی سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ بھی کیا ۔ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی سے فلسطینیوں کو بہت فائدہ ہوگا۔اس کے علاوہ ترکی اسرائیل کو شام کے قضیے پر اپنے ساتھ ملا کر بشارالاسد،روس اور ایران پر د با ڈالنے کی کوشش کرے گا۔دوسری طرف یہ بھی امکان ہے کہ یہ تعلقات زیادہ دیر چل نہ پائیں،کیوں کہ اردگان ذاتی طور پراسرائیل کے ترک کردباغیوں ،بشارالاسد اور مصر کے السیسی کی طرف جھکا ؤسے سخت نالاں ہیں اور اسرائیلی عوام بھی اردگان کے نظریات کے خلاف ہیں۔

متعلقہ خبریں