Daily Mashriq


انقلابی لیڈر فیڈل کاسترو

انقلابی لیڈر فیڈل کاسترو

کیو با کے سابق صدر اور عظیم انقلابی رہنما فیڈل کاسترو 90 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ ان کی وفات پر کیوبا میں نو روز تک سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ دنیا بھر میں ان کے انقلابی کردار کے باعث انہیںزبردست خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے 50 سال تک کیوبا پر حکومت کی، شاید ان کا یہ دور حکمرانی ملکہ برطانیہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہو سکتا ہے۔فیڈل کاسترو تین اگست 1926ء کو ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن ہی سے انقلابی سوچ کے حامل تھے ،جس کی وجہ ان کے چاروں طرف پھیلی ہوئی غربت ، بے روزگاری اور کرپشن تھی ،اس نظام میں غریب کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ انہوں نے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز اس وقت کیا جب وہ ہوانا یو نیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ وہ یونیورسٹی میں ایک زبردست حاضر دماغ مقرر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے اس وقت کے کرپٹ حکمران فل گینسکو بتیسا کی پالیسوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جس پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا اور انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے تنگ کیا جانے لگا جس پر انہوں نے 1953ء میں اپنے چھو ٹے بھائی راول کاسترو اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ حکومت کے خلاف گوریلا جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ رہائی کے بعد ان کی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہو گیا، ساتھ ہی ان کی مشہور انقلابی لیڈ ر چی گیورا سے دوستی بھی ہوگئی۔اسی جد وجہد کے نتیجے میں آخر کار 1959 میں انہوں نے صدر فل گینسکو بتیسا کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔اقتدار پر قبضہ کرتے ہی کاسترو نے سوشلسٹ معیشت کو اپنانے کا اعلان کر دیا ۔ اس سلسلہ میں انہیں سابق سوویت یونین کی بھر پور حمایت حاصل تھی۔ اس وقت سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ اپنے عروج پر تھی۔ امریکہ نے متعدد بار کاسترو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششیں کیں ،ان پر60 مرتبہ قاتلانہ حملے کروائے ،لیکن کاسترو ان تمام سازشوں سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ فیڈل کاسترو کی عوامی اصلاحات کے باعث کیوبا بہت سے شعبوں میں امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ گیا۔ کاسترو نے زیادہ زور تعلیم اور صحت کے شعبے کو دیا۔ آج کیوبا کی خواندگی کی شرح 98 فیصد ہے جبکہ امریکہ کی 87 فیصد۔ صحت عامہ کے میدان میں کیوبا کا شمار دنیا کے بہترین اور سستے ممالک میں ہوتا ہے۔ کاسترو نے طبقاتی فرق کو تقریباً ختم کر کے رکھ دیا۔ تمام عوام نہ صرف قانونی بلکہ سماجی سطح پر ایک ہی سطح پر آگئے۔جہاں یہ محسوس کیا گیا کہ بوجوہ کوئی تفا وت نظر آتا ہے تو اسے ایسے اقدامات سے دور کیا کہ جس سے نسبتاً برتر حیثیت کے مالک شخص کو برتری کا احساس نہ ہو۔ مثلاً کیوبا میں و ہ افسران جنہیں سرکاری گاڑی استعمال کرنے کی سہولت حاصل ہے، پر یہ لازم ہے کہ اگر اس کی گاڑی میں جگہ ہے تو وہ کسی بھی لفٹ مانگنے والے کو لازمی اپنی گاڑی میں جگہ دیں گے۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی ہو سکتی ہے ۔نظام تعلیم یکساں اور تعلیمی ادارے بھی یکساں معیار کے ہیں۔ ہسپتالوں میں جو سہولت صدر مملکت کو حاصل ہے وہ ایک عام مزدور یا کسان کو بھی حاصل ہے۔ تمام اعمال حکومت سرکاری ہسپتالوں سے علاج کرانے کے پابند ہیں۔ غرض زندگی کے کسی شعبہ میں وی آئی پی کا تصور موجود نہیں فیڈل کاسترو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے مجوزہ نظام کو سختی سے نافذ کیا۔کاسترو کو اس وقت سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب 1993 ء میں سوویت یونین بکھر گیا اور میدان امریکہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے حامی ممالک کے لئے خالی رہ گیا۔ اس موقع پر سوشلسٹ دنیا کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے عام تاثر یہی تھا کہ کاسترو بھی بدلتے حالات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے لیکن ایسا نہ ہوا۔ کاسترو نئے عزم کے ساتھ میدان میںآ ئے اور اعلان کیا کہ کیوبا میں رائج نظام انسانی بہبود کا واحد حل ہے، اسے کسی طور ختم نہیں کیا جائے گا۔ اقتصادی مجبو ریوں کے تحت اس نے کچھ عرصہ کے لئے ڈویل کرنسی سسٹم کی اجازت بھی دی یعنی کیوبن کرنسی کے ساتھ امریکی ڈالر کو بھی سکہ رائج الوقت تسلیم کیا۔لیکن یہ مدت بہت ہی مختصر رہی ۔تقریباً دو تین سال ہی میں کیوبن کرنسی اپنے پائوں پر کھڑی ہو گئی اور یوں امریکی ڈالر کاا ستعمال بند ہو چونکہ کیوبا کا زیادہ انحصار روس اور دیگر سوشلسٹ ممالک سے تجارت پر تھا۔ ان پر زوال آنے سے کیوبا کی معیشت کو بھی شدید دھچکا لگا ۔لیکن کاسترو ایک بار پھر اپنی بیدار مغزی کو کام میں لائے ۔کینیڈا ، اٹلی اور چند ایک دوسرے مغربی ممالک کو کیوبا کی سیاحت کی صنعت میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی جو بہت کا میاب رہی۔ ان کے پچاس سالہ دور حکومت میں11 امریکی صدور گزرے، لیکن کسی بھی امریکی صدر نے اپنے نزدیک ترین ہمسایے کے ہاں آنے کی زحمت گوارا نہ کی۔ تا آنکہ رواں سال مارچ میں صدر اوباما نے 88 سال کے بعد بطور امریکی صدر کیوبا کا دورہ کیا۔ اس دورے میں وہ کاسترو سے ان کے بستر علالت پر ملاقات کے لئے خصوصی طور پر گئے اور انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔فیڈل کاسترو نے 2008 ء میں صحت کی خرابی کے باعث اقتدار اپنے 85 سالہ بھائی روال کاسترو جو ساری عمر ان کی جد وجہد میں ان کے شانہ بشانہ رہے، کو سونپ دیا۔آج فیڈل کاسترو اس دنیا میں نہیں ہے لیکن انہوں نے اپنی جد وجہد سے یہ ثابت کیا کہ اگر اقتدار کو عوام کی بہتری اور ان کی فلاح وبہبود کے لئے استعمال کیا جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔

متعلقہ خبریں