Daily Mashriq


قومی اقدار میں نصاب کا کردار

قومی اقدار میں نصاب کا کردار

دنیا کی تاریخ میں استعمار کی تاریخ کا مطالمہ ہر دور میں کم و بیش یکساں طور پر یہی بتاتا ہے کہ استعماری حکمران طبقے کو یہ خدشہ اور دھڑ کا لگا رہتا ہے کہ کہیں یہ محکوم و مغلوب قو م آزادی کے حصول کے لئے اُٹھ نہ کھڑی ہو جائے ۔ اس لئے اُ س کی کوشش ہوتی ہے کہ مغلوب کو سلائے رکھے اور اُس سے اپنے آبا و اجداد کے وہ تاریخی واقعات جو ان کی عظمت رفتہ کی نشانیوں کے حامل ہوتے ہیں یا تو بھلائے رکھنے کے انتظامات کریں یا اُن کو ایسے انداز میں نئی نسلوں کو پڑھا نے اور سکھانے کے انتظامات کئے جائیں جس سے روح نکلی ہوئی ہو ۔بعض اوقات یو ں بھی ہوا ہے کہ استعماری طاقتوں نے کمزور اقوام کو ترقی اور تجدید کے نام پر بھیس اور قالب بدل کراپنے مقاصد کی چیزیں بھی تہذیب و ثقافت کے نام پر رائج کرنے کے اقدامات کئے ہیں ۔لیکن نتیجہ عموماً ان کوششوں کا یہی نکلتا رہا ہے کہ ایک نہ ایک دن محکوم و کمزور اقوام اپنی جڑوں (Roots)کی تلاش میں استعمار کا جو ااتار پھینکنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔ اور یہ اُس وقت ہو تا ہے جب محکوم و غلام قوم میں ایسی شخصیات پیدا ہو جاتی ہیں جو اپنی قوم کو اُن کی تاریخ کے اہم اور ولو لہ انگیز واقعات ، سبق آموز قصے اور انسانیت کے شرف کے اسباق ایک نئے اور خون گرما نے والے انداز میں وقت کے تقاضوں کے مطابق دہرا کر پیش کرلیتے ہیں ۔ اور پھر یہ صداقت اور عدالت و شجاعت کا سبق قوم کے افراد کے درمیان گردش کرنے لگتا ہے اور بقول اقبال 

ہر شخص یہی محسوس کرتا ہے کہ

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

برطانوی راج سے پہلے مسلمانوں کے ہاں تعلیمی اداروں اور تعلیم و تعلم کے حوالے سے یہ تقسیم موجود نہ تھی ۔لیکن انگریز کے ایک فیصلے سے مدارس اور اس کے اساتذہ و طلبہ حکومتی سر پرستی سے محروم ہوگئے ۔ہمارے ہاں 9\11 کے بعد جہاں اور بہت ساری چیزیں تبدیل ہوئیں وہاں پاکستان پر این جی اوز کی یلغار نے بھی بہت ساری بنیادی قومی چیزوں کو ایسے انداز میں چھیڑ نے کی کوشش کی کہ اسلامی تہذیب کے بعض بنیادی عناصر و ارکان مجروح ہوتے نظر آئے ۔ خواتین کے حقوق کے حوالے سے گزشتہ ڈیڑھ عشروں میں جو طوفان بر پا کیا گیا اُس سے ہماری بے چاری خواتین بالخصوص دیہاتوں میں رہنے والی مائوں بہنوں کو تو کچھ نہ ملا البتہ اسلام ، مسلمان اور پاکستان کی بدنامی کا سامان خوب ہوا ۔ دوسر ا اہم شعبہ نصاب ہے جس پر خصوصی توجہ مرکوز رہی ۔ گزشتہ عشروں میں مدارس اور سکولوں کے نصاب کے حوالے سے جو کچھ کیا گیا اور این جی اوز کوہمارے پرائمری اور ہائی سکولوں میں جو مواقع فراہم کئے گئے ۔ترقی و تجد ید اور اساتذہ کی تربیت کے نام پر جو کچھ کیا گیا وہ تو بہت لمبی داستان ہے ، لیکن اب تازہ خبر یہ ہے کہ ایک این جی او نے جو تجاویز پیش کی ہیں اُس میں یہ بات بہت واضح طور پر بتائی گئی ہے کہ پاکستان کو طلبہ کو پڑھاتے وقت اس بات پر ''ذرا کم اصرار کیا جائے '' کہ سچا دین (مذہب ) صرف اسلام ہے '' اس سے پاکستانی بچو ں کے اذہان میں دیگر مذاہب کے بارے میں احترام کا جذبہ کم ہوتا ہے ۔ اسی طرح اسلا می اور پاکستانی شخصیات کو ذرا کم کرتے ہوئے کچھ جگہ اقلیتی شخصیات کو بھی دیا جائے ۔ جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو اس کے پہلے حصے پر تو کبھی بھی کمپر ومائز نہیں ہو سکتا ۔ کیو نکہ اسلام اور اسلام ہی سچا دین تھا ہے اور رہے گا اور یہ دین حضرت آدم سے خاتم النبیینۖ تک ایک ہی تسلسل ہے ۔ البتہ اس کے دوسرے حصے کے متعلق عرض ہے کہ اسلام دنیا کے سارے مذاہب کا احترام سکھاتا ہے ۔ ہمیں حکم ہے کہ کسی کے باطل خدا اور مذہب کو بھی بُرا بھلا نہ کہیں ۔ اور ساتھ ہی ساری انسانیت کو دعوت دیتا ہے کہ ''اُس بات کی طرف آئو جو تمام انسانوں میں مشترکہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ''اسلام مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی تعاون کو فروغ دیتا ہے اسلام انسانیت کی بنیاد پر تمام انسانوں کی مذہبی اقدار وجذبات کا احترام کرتا ہے ۔ لیکن بین المذاہب ہم آہنگی کے عنوان سے اگر کسی کا یہ منصوبہ ہے کہ اسلام کی بنیاد ی تعلیمات پر کمپرومائز کیا جائے تو یہ خیال است ومحال است خواہ مسلمان کتنے ہی کمزور اور بے عمل کیوں نہ ہوں لیکن یہ مطالبات اس لئے کئے جاتے ہیں کہ ہم مسلما ن اپنے دین پر عمل نہیں کر تے جس کے نتیجے میں ہمیں بہت سی خرابیوں نے ہمارا احاطہ کیا ہوا ہے ۔ قیام پاکستان کے بعد نظریہ پاکستان کے حوالے سے مدارس کے طلبہ اور علماء کرام نے ایک طویل جدوجہد کے بعد بائیس نکات اور اس کے نتیجے میں قرار داد مقاصد کی منظوری نے پاکستان کی دستوری ونظریاتی سمت کا تعین کر کے استحکام پاکستان کے لئے بنیادی کام کیا لیکن شومئی قسمت کہ ہمارے ہاں آئین و قانون پر بہت کم عمل کیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا الہ الا اللہ '' کے باوجود بہت اہم شعبہ ہائے زندگی میں اسلامی احکام و تعلیمات کی بنیادی روح کا فقدان رہا ۔ ہماری اس گو مگو پر مبنی قومی پالیسی کے تحت مختلف ادوار میں بیرونی عناصر نے ہمارے اپنے لوگوں کے ذریعے مملکت خداداد کی بنیادی پالیسیو ں کے خلاف کام کیا جس نے استحکام وطن کو بہت نقصان پہنچا یا ۔ نصاب کا قوموں کی ترقی واستحکام میں بنیادی کردار ہوتا ہے ۔ اس لئے ہر خود دار قوم اپنی تعلیمی پالیسی اور نصاب اپنے ملک وقوم کی ضروریات ، حال و مستقبل اور ماضی کے واقعات و معاملات کو مد نظر رکھ کر بناتی ہے ۔

متعلقہ خبریں