Daily Mashriq


(ماضی کی پرچھائی یا عہدِ نوکا آغاز؟)

(ماضی کی پرچھائی یا عہدِ نوکا آغاز؟)

پاکستان پیپلزپارٹی ملک کی پہلی حقیقی اور عوامی سیاسی جماعت تھی اور اس کے بانی ذوالفقار علی بھٹوملک کے پہلے مقبول عوامی لیڈر،جنہوں نے طبقہ اشرافیہ جرنیلوں اور جاگیرداروں کے اکٹھ کے گرد گھومتی سیاست کے تانے بانے کو توڑ کر پہلی بار عام آدمی کو زبان دی تھی۔پیپلزپارٹی سے پہلے پاکستان میں عوام کی اکثریت کو اپنی قدر واہمیت کا اندازہ نہیں تھا وہ جاگیرداروں کی نسل در نسل غلامی کو ہاتھ کی لکیر جان کر صبر کا گھونٹ پی کر رہ گئے تھے ۔ان کا ملکی سیاست اور نظام سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ۔پیپلزپارٹی کے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے فوجی چھتری تلے کچھ وقت گزارنے کے بعد عوام میں جانے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے ایک ماہر نباض کی طرح اپنے نعروں ،اپنے فیصلوں اور اپنے سٹائل سے عوام کی دکھتی رگ پرہاتھ رکھا ۔دیکھتے ہی دیکھتے عوام اس اجنبی لہجے سے مانوس ہوتے چلے گئے اور یوں پیپلزپارٹی ایک لہر بن کر ملک میں چھا گئی ۔یہاں تک کہ ملک کی سیاست پیپلزپارٹی اور اینٹی پیپلزپارٹی میں تقسیم ہو تی چلی گئی ۔گویا کہ ملکی سیاست کا محور اور دھارا پیپلزپارٹی ہی تھی اور باقی جماعتیں مل کر راستہ روکنے پر مجبور ہو تی چلی گئیں۔پیپلزپارٹی کوحکومت ملی تو وہ طاقت کی کشمکش کا شکار ہوتی چلی گئی اس راہ پر چلتے ہوئے پارٹی اور اس کی حکومت وقیادت سے غلطیاں بھی ہونے لگیں یہاں تک ایک مقام ایسا آیا جب پارٹی کی حکومت برطرف ہو گئی اور اس کی جگہ طویل فوجی حکمرانی کا دور شروع ہوا ۔اسی دوران پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو تختہ دار پر چڑھا دئیے گئے۔بھٹو کے سیاسی ورثے کو سنبھالنے کے لئے ان کی اولاد موجو د تھی اور اس کام کے لئے قرعہ فال ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو کے نام نکلا ۔بے نظیر بھٹو نے اپنی عملی سیاست کا آغاز 1986میں شہر لاہور سے کیا ۔ابھی جنرل ضیا ء الحق کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر ہی تھا کہ بے نظیر بھٹو بیرون ملک سے طویل جلاوطنی ختم کرکے لاہور ائیرپورٹ پر اُتریں تو عوام کا جم غفیر ان کے استقبال کے لئے موجود تھا ۔بے نظیر بھٹو کا ٹرک انسانی سمندر کی لہروں کے درمیان کسی کشتی کی مانند گھنٹوں سفر کرتا رہا ۔وہ کوری اکینو کے سٹائل میں پاکستان تو پہنچیں اور ان کا ہاتھ بلند کرنے کا سٹائل بھی وہی رہا مگر وہ جنرل ضیاء الحق کو مارکوس نہ بنا سکیں۔پیپلزپارٹی ملک اقتدار کی راہداریوں تک پہنچ تو پائی مگر یہ جنرل ضیاء الحق کی حادثاتی موت کے بعد ہی ممکن ہوا۔ اس میںکسی انقلاب کا شائبہ تک نہ تھا ۔یہ خالص ایک کمپرومائز کا نتیجہ تھا ۔جنرل ضیاء الحق منظر سے ہٹ تو گئے تھے مگر وہ پارٹی کے پاور بیس پنجاب میں پیپلزپارٹی کی لینڈ سلا ئیڈ وکٹری کی راہوں میں بہت مضبوط رکاوٹیں کھڑی کر چکے تھے۔1988کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو اقتدار تو ملا مگر پنجاب کسی اور کے ہاتھ رہا ۔پنجاب کے بغیر پیپلزپارٹی کی فتح اور حکومت دونوں کا مزہ کر کرہ ہی ہوگیا ۔پنجاب میں میاں نوازشریف اور مسلم لیگ کی صورت میں اینٹی پیپلزپارٹی لگیسی روز بروز طاقت پکڑتی گئی اور پیپلزپارٹی اسی رفتار سے پنجاب میں سکڑتی چلی گئی ۔جنرل پرویزمشرف کے دور میںبے نظیر بھٹو کی جلاوطنی کے کے دوران ہی آصف زرداری پاکستان واپس لوٹے تو انہوں نے خاموشی سے لاہور میں اترنے کو ترجیح دی مگر جلد ہی مشرف حکومت نے انہیں واپسی کی راہ دکھا دی ۔پیپلزپارٹی پنجاب کی اہمیت سے آگاہ تو رہی ہے مگر وہ یہاں مسلم لیگ ن کا پچھاڑکر اپنے قدم دوبارہ جمانے میں کامیاب نہ ہو سکی ۔اس کے باوجود پیپلزپارٹی پنجاب کی دوسری بڑی جماعت کے طور پر موجود رہی۔یہاں تک تحریک انصاف کی صورت میں پنجاب میں ایک نیا کھلاڑی سامنے آیا ۔ تحریک انصاف پیپلزپارٹی کے بتدریج کمزور اور جیالوں کے لاتعلق ہونے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلاء کو پر کر نے میں کامیاب ہو گئی ۔اب پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر پارٹی کی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک جلسہ عام کے لئے لاہور کا انتخاب کیا ۔اس سے پہلے پارٹی نے پنجاب کی سربراہی قمرالزمان کائرہ کی صورت میں ایک نظریاتی جیالے کو سونپی ۔ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو بلاول کی قیادت میں بحال کرنا چاہتی ہے ۔پنجاب کی بدلی ہوئی سیاسی حرکیات میں یہ آسان کام نہیں ۔بلاول بھٹو پارٹی کا نیا چہرہ ہیں ۔ان کا ذاتی دامن الزامات سے پاک ہے مگر پارٹی کااحیاء محض بھٹوز کی بہادری اور مظلومیت کی داستانوں اور نعروں سے ممکن نہیں ۔پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے ۔کئی نسلیں بھٹوز کی مقبولیت دیکھے بغیر جوان ہو چکی ہیں ۔اس نسل کے مسائل نئے ،سوچنے کاانداز نیا ،ابلاغ کے طریقے نئے ہیں اس کے دلوں کے تار چھیڑنے کے لئے نئے چہرے ہی نہیں نئے ساز اور آواز درکار ہیں۔بلاول بھٹو کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنے بزرگوں کی پرچھائی نہیں نئے لہجے اور نئے پیغام کا پیام برہے ۔ان کے پاس خوش گوار اور ناگوار کے دوخانوں میں بٹا ہوا ماضی ہے ۔وہ خوش گوار ماضی کا بوجھ اُٹھائیں یا پٹخ دیں مگر انہیں ناگوار ماضی کا بوجھ پٹخنااور اس سے دامن چھڑانا ہوگا۔اس کے بغیر وہ اپنے ماضی کی پرچھائی ہی رہیں گے۔

متعلقہ خبریں