Daily Mashriq


دہشت گردوں کی مذموم کارروائی

دہشت گردوں کی مذموم کارروائی

حیات آباد میں ایڈیشنل آئی جی اشرف نور کی شہادت کے واقعے کے عین آٹھ دن بعد تقریباً اسی وقت ہی محکمہ زراعت توسیع کے دفاتر اور طلباء کے ہاسٹلز و رہائشی کالونی میں دہشت گردوں کی گھس کر کارروائی ان دعوئوں کی نفی ہے جو ہماری پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی کے عہدے کے اعلیٰ افسر کی شہادت کے بعد اور نیکٹا کی جانب سے افغانستان سے دہشت گردوں کی آمد کی واضح اطلاع اور ممکنہ تعداد کے بتانے کے باوجود بھی صوبائی دارالحکومت میں سیکورٹی کے انتظامات اتنے قابل اعتماد نہ تھے کہ ریکی کرتے دہشت گردوں کو بھاری اسلحہ لے کر اور پوری تیاری کے ساتھ شارع عام پر ایک سرکاری احاطے میں گھسنے میں مشکلات پیش آتیں۔ دہشت گردوں کی جانب سے ہر بار تبدیل شدہ طریقہ کار اختیار کیا جانا فطری امر تھا۔ بارہ ربیع الاول کے مبارک دن عام تعطیل اور کچھ سرد موسم کے باعث صبح کے وقت سڑکوں پر رش اتنی نہ تھی کہ پولیس کو مشکوک افراد پر نظر رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا۔ ہمارے تئیں پولیس اس مقصد کے لئے تیار ہی نہ تھی۔ حیات آباد میں ایڈیشنل آئی جی کی شہادت کے بعد پولیس کی طرف سے کوئی ایسی مستعدی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا اور نہ تو سڑکوں پر پولیس کی تعداد اور چیکنگ میں اضافہ دیکھا گیا اور نہ ہی پولیس نے قبل ازیں کی طرح حیات آباد میں کسی سرچ آپریشن یا مضافات میں تلاشی کی کارروائیوں یا چھاپوں کی کوئی ایسی واضح کارروائیاں کیں جس کو پولیس کے سرگرم ہونے سے تعبیر کیا جاسکے۔ اس ساری صورتحال میں شہر میں سیکورٹی کی صورتحال کو روز مرہ کی طرح ہی رکھنا ہمارے تئیں وہ نرم صورتحال تھی جس کے باعث دہشت گردوں کو تحریک مل گئی ہوگی۔ جہاں تک فوری ایکشن اور دہشت گردوں کو کم سے کم مدت میں محدود کرکے جہنم واصل کرنے کی بات ہے خود سینئر حکام اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ چار سے پانچ منٹ کے اندر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیاگیا تھا۔ ہمیں اس دعوے کی حقیقت اور عدم حقیقت سے کوئی سروکار نہیں البتہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اتنی مدت میں کارروائی شروع کرنا اسی وقت ہی ممکن دکھائی دیتا ہے جب فورسز تیار حالت میں عمارت کے ارد گرد کہیں موجود ہوں۔ ہمارے تئیں اچھی انٹیلی جنس اور بروقت کارروائی اس طرح کی کارروائی ہی کو کہا جانا چاہئے کہ دہشت گردوں کو راستے میں کسی جگہ گھیر کر ہدف تک پہنچنے سے پہلے روکا جائے خواہ اس میں شہادتوں کی تعداد زیادہ ہی کیوں نہ ہو اور وقت جتنا بھی لگے یہاں اس طرح کی کوئی صورتحال نہ تھی بلکہ چار پانچ وحشی بندوق برداروں کے لئے دہشت گردی کے چار سے پانچ منٹ ملنا کم وقت نہیں ہوتا۔ اتنی ہی مدت اپنی جان بچانے کے لئے اوٹ لینے والوں یا بھاگ نکلنے و الوں کے لیئے بھی کافی ہوتا ہے۔ اس کے بعد مورچہ بندی اور فورسز سے مقابلہ ہوتا ہے۔ اگر ہم کچھ سال پہلے دسمبر ہی کے مہینے کے ایک بدترین خونریز واقعے کا حوالہ دیں تو اس میں مقابلہ شروع ہونے کی مدت آدھے گھنٹے سے زائد رہی۔ بہر حال مختلف واقعات میں مختلف نوعیت کی حکمت عملی اور مقابلہ شروع کرنے کے لئے ضروری تیاری پر زیادہ اعتراضات اور کارروائی بارے قیاس آرائی مناسب نہیں لیکن من حیث المجموع صورتحال پر محتاط انداز میں بھی تبصرہ کیا جائے تو صوبائی دارالحکومت میں ایک ہفتے کے اندر دو بہت بڑے واقعات سے شہریوں کے تحفظ کے ضمن میں تشویشناک صورتحال کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ان عناصر کا ٹی ٹی پی سوات سے تعلق اور افغانستان سے ان کا رابطہ کا انتظام تحفظ میں ناکامی سے تعلق نہیں بنتا البتہ اس سے ان عناصر کے مقاصد اور سازش کا عقدہ ضرور کھل جاتا ہے جو ایک طرح سے اب معمول بن چکا ہے اور محولہ قسم کی صورتحال بھی کوئی انوکھی بات یا انکشاف کے زمرے میں نہیں آتی۔ دشمن معلوم ہے، ان کی آمد کی جگہوں اور مقامات کا بھی علم ہے، نیکٹا نے اطلاع بھی بروقت دی، صوبائی دارلحکومت میں ایک اعلیٰ ترین عہدے کے پولیس افسر بھی عین گزشتہ جمعہ کے روز شہید کئے جا چکے ربیع الاول کے باعث شہر میں سیکورٹی کے بھی سخت ہونے کا دعویٰ تھا مگر واقعہ پھر بھی رونما ہوا۔ ہمیں اس سوال کاجواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر ایسا کیوں کر ممکن ہوسکا؟ اس طرح کے واقعات کا اعلیٰ امریکی عہدیداروں کے دورہ پاکستان روانگی یا آمد کے موقع پر ہونے کا تجربہ بھی بار بار سامنے آچکا ہے۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی اتفاق سامنے آیا ہے اور وقوعہ کو روکانہ جاسکا۔ بہت سارے سوالات ہیں جس کے باعث الجھائو میں اضافہ اور خلجان کا باعث بننا فطری امر ہے۔ ہمارے سیکورٹی اداروں اور پولیس کو تازہ حالات کا اب ادراک ہونا چاہئے اور شہر میں سیکورٹی کی صورتحال کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کی بجائے خصوصی توجہ اور ضروری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان حالات میں شہریوں میں عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ اور سیکورٹی اداروں پر اعتماد کی شکستگی کی جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کا تقاضا ہے کہ اس اعتماد کی بحالی کی پوری سعی کی جائے۔

متعلقہ خبریں