زائد فیس وصول کرنے پر باز پرس ہونی چاہئے

زائد فیس وصول کرنے پر باز پرس ہونی چاہئے

ایم ٹی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی جانب سے چھ سو روپے کی بجائے ایک ہزار سے گیارہ سو روپے تک فیس وصول کرنے کا نوٹس لے کر فیسوں میں کمی کا حکمنامہ کافی نہیں تھا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو سرکاری ہسپتالوں میں بیٹھ کر نجی کلینکوں جتنی فیس لینے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کرنی چاہئے تھی۔ ایم ٹی ہسپتالوں میں سرکاری چھت تلے اور دیگر سہولیات و عملے کے ساتھ ڈاکٹروں کو پریکٹس کی اجازت کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف کی فراہمی تھی جبکہ خود ڈاکٹروں کے لئے اپنی ڈیوٹی کی جگہ سے ہلے بغیر پریکٹس کی سہولت کی فراہمی تھی لیکن اس کا بھی غلط اور ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔ بہر حال وزیر اعلیٰ نے روزنامہ مشرق کی نشاندہی پر جو قدم اٹھایا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس عمل کی نگرانی کی جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ صوبائی حکومت نے ڈاکٹروں اور مریضوں دونوں کی سہولت کے لئے جو اقدامات اٹھائے ہیں اس کا کوئی فریق ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اگر محولہ عناصر کے خلاف حکومت کو مصلحتاً کارروائی مطلوب نہیں تو کم از کم تحریری تنبیہہ ضرور کی جائے اور ان ہسپتالوں کے چیف ایگزیگٹوز اور متعلقہ منتظمین سے باز پرس کی جائے کہ ان کے زیر انتظام ہسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ روا رکھی گئی نا انصافی کے باوجود انہوں نے اس کا نوٹس کیوں نہ لیا۔

اداریہ