طلبہ کا عدم اعتماد بلا وجہ نہیں

طلبہ کا عدم اعتماد بلا وجہ نہیں


پشاور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے متفقہ طور پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان خوش آئند امر ضرور ہے لیکن اس کے طلبہ کے لئے قابل قبول نہ ہونے سے اعلان کی اہمیت ختم ہو کر رہ جاتی ہے جبکہ طلبہ نے بھی احتجاج ختم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے انتظامیہ کی یقین دہانی کو ماضی میں ان سے ہونے والی وعدہ خلافی کی بنیاد پر رد کرکے عدم اعتماد کا اظہار بلا وجہ نہیں۔ اگر اساتذہ کرام اور جامعات کی اعلیٰ انتظامیہ ہی طلبہ کے ساتھ کئے گئے وعدے پور ے نہیں کریں گے تو طلبہ کا ان سے اعتماد اٹھ جانا فطری امر ضرور ہے لیکن اس کے باوجود ہم اساتذہ کرام اور یونیورسٹی انتظامیہ کے احترام میں طلبہ کو یہی مشورہ دیں گے کہ وہ تحفظات کے باوجود اساتذہ کرام کی یقین دہانی پر احتجاج کا راستہ ترک کرکے یونیورسٹی میںمعمول کا تعلیمی امن اور ماحول بحال کریں تاکہ ان کاوقت ضائع نہ ہو۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ طلبہ کے اعتماد کی بحالی کے لیئے مدت کا تعین کرکے مقررہ وقت پر طلبہ کے مطالبات پر عملدرآمد کی ٹھوس یقین دہانی کرائیں تاکہ طلبہ میں پھیلی ہوئی بے چینی کا خاتمہ ہو۔ قبل ازیں جس مطالبات کے حوالے سے وعدہ خلافی کا ارتکاب کرکے طلبہ کا اعتمادمجروح کیاگیا ہے اس کابھی ازالہ کیا جائے۔ اگر جامعات کی انتظامیہ کے قول و فعل میں تضاد سامنے آئے گا تو طلبہ اس سے کیا اثر لیں گے اس کی ایک زندہ مثال یقین دہانی پر عدم اعتماد کی صورت میں سامنے ہے جس کا کم از کم آئندہ اعادہ نہیں ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں