Daily Mashriq

ایگریکلچر انسٹی ٹیوٹ پر دہشت گردوں کا حملہ

ایگریکلچر انسٹی ٹیوٹ پر دہشت گردوں کا حملہ

ایگری کلچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ پر دہشت گردوں کا عین اس وقت حملہ جب ساری دنیا میں مسلمان نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کا جشن ولادت منا رہے تھے دہشت گردی کے خلاف جنگ ہی کی ایک کارروائی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس کے باوجود کہ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے وسیع علاقے پر ان کا کنٹرول ختم کیا جا چکا ہے آپریشن ردالفساد کی صورت میں جاری ہے۔ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی یقینا ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس کامیابی کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے جہاں تک ایک طرف دشمن کا صفایا کرنے کے لیے آپریشن رد الفساد جاری رہنا ضروری ہے وہاں دشمن کی کمین گاہوں کا خاتمہ بھی بہت ضروری ہے جو ہمسایہ افغانستان میں ہیں۔ جب تک یہ افغانستان میں دشمن کی کمین گاہیں موجود ہیں اس وقت تک پاکستان میں دہشت گردی سے مکمل نجات کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔
افغانستان کی حکومت کب اپنے ملک میں اپنی رٹ قائم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا کب تک اپنی سرزمین میں پاکستان مخالف شرپسندوں سے چشم پوشی برقرار رکھتی ہے یا کب تک اپنی سرزمین میں بھارت کو شرپسندوں کی پشت پناہی اور سرپرستی کی اجازت دیتی رہتی ہے اس کا انحصار افغانستان کے مسئلے کے حتمی حل پر ہے۔ تاہم جب تک یہ نہیں ہو جاتا پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ برقرار رہے گی۔ اس لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز اور حکام کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام بھی اس صورت حال کو حالت جنگ سمجھتے رہیں اور اپنی سیکورٹی فورسز اور حکام کی طرح مستعد اور نگران رہیں۔
گزشتہ چند دنوں سے دہشت گرد خیبر پختونخوا کو بطور خاص نشانہ پر رکھے ہوئے ہیں' دشمن کا مقصد یہ تاثر قائم کرنا ہے کہ وہ آپریشن ضرب عضب میں ہزیمت کے باوجود اور آپریشن رد الفساد کے جاری رہنے کے باوجودفعال اور متحرک ہے جس کے لیے اس کی مدد افغانستان میں بھارت کے خفیہ کار ادارے کر رہے ہیں۔ اور انہیں پاکستان میں اِکا دُکا سہولت کاروں کی معاونت بھی حاصل ہے۔ دشمن پاکستان کے عوام کو خوف زدہ رکھنے کے لیے ایسے اہداف پر حملہ ہوتا ہے جن سے اسے تشہیر مل سکے اور ایسے حملے کرتا ہے جن سے اس کی سفاکیت کی دھاک جم سکے۔ حملہ آور دہشت گرد مسلمان ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں لیکن ایگری کلچر انسٹی ٹیوٹ پراس بہیمانہ کارروائی کے لیے انہوں نے اس دن کا انتخاب کیا جب ساری دنیا کے مسلمان ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت عقیدت و احترام سے منا رہے تھے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ دہشت گرد کا کوئی دین ہوتا ہے نہ وطن ' نہ قبیلہ نہ خاندان' وہ صرف انسانیت کا دشمن دہشت گرد ہوتا ہے۔ اس لیے جہاں ایک طرف حالت جنگ میں ہونے کے حوالے سے عمومی مستعدی ضروری ہے۔ ایگری کلچر انسٹی ٹیوٹ پر حملہ کے واقعے کو دیکھا جائے تو نگرانی میں تساہل واضح طور پر نظر آتا ہے۔
یہ حملہ ایسے علاقے میں ہوا جہاں اہم دفاتر اور عمارتیں ہیں اور اس کے نزدیک ہی حیات آباد کا پوش علاقہ ہے ۔ چند ہی روز پہلے اس علاقے میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس پر حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں وہ اور تین اہلکار شہید ہو ئے۔ اس علاقے میں دہشت گردوں کی رسائی نگرانی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اور نہایت افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایگری کلچر انسٹی ٹیوٹ کا چوکیدار محض گیٹ کیپر تھا اس کو بندوق نہیں دی گئی تھی۔ اس سے پہلے صوبے میں آرمی پبلک سکول اور باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گرد حملے ہو چکے تھے۔ ایگری کلچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں بھی طالب علموں کا ہاسٹل ہے۔ اس ہاسٹل کی حفاظت کے لیے گیٹ پر محض ایک غیر مسلح چوکیدار تھا، یہ بڑی لاپرواہی ہے۔
اس کی ذمہ داری انسٹی ٹیوٹ کی انتظامیہ کی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس سے اس تساہل کی بھی نشاندہی ہوتی ہے جو حالت جنگ کے حوالے سے نظر آتا ہے۔ خیبرپختونخوا پولیس کی مستعدی قابلِ تحسین ہے۔ جو واردات کے دوران ہی موقع پر پہنچی اور اس نے پاک فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے کارروائی کی۔ خاص طور پر ایس ایس پی سجاد خان کی فرض شناسی اور شجاعت کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ جو گھر کے لباس ہی میں اسلحہ لے کر اپنی فورس کی رہنمائی کے لیے انسٹی ٹیوٹ پہنچ گئے۔ فورسز کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں چاروں دہشت گرد اس سے پہلے کہ وہ بڑی تباہی پھیلا سکتے ہلاک کر دیے گئے۔ بڑی تباہی پھیلانے کے عزائم ان سے برآمد ہونے والے اسلحہ اور گولہ بارود سے ظاہر ہیں۔
لیکن انسٹی ٹیوٹ کے چھ عزیز طالب علم اور مزید تین شہری شہید ہو گئے۔ او رتیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے' چالیس سے پچاس گھرانے اس حملے سے متاثر ہوئے۔ اس لیے فوج اورپولیس ایسی مستعدی سویلین انتظامیہ اور عوام میں بھی ہونی چاہیے۔ یہ بات بار بار دہرائے جانے کے لائق ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان میں امن افغانستان میں امن و استحکام سے مشروط ہے۔ افغانستان کا مسئلہ جب حل ہو گا تب ہو گا۔ اس دوران یہ ضروری ہونا چاہیے کہ پاکستان کی سرزمین سے افغان باشندوں کو خواہ وہ رجسٹرڈ ہوں یا خواہ غیر رجسٹرڈ اپنے وطن واپس بھیجا جائے۔ اور جلد واپس بھیجا جائے۔ جب تک یہ پاکستان میں موجود دہشت گرداوران کے سہولت کاران میں غائب ہو سکتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو اس بارے میں واضح اور اٹل موقف اختیار کرنا چاہیے۔

اداریہ