Daily Mashriq

مسلح افواج کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ

مسلح افواج کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ

آج کل سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر مسلح افواج اور قانون نافذکرنے والے اداروں کے خلاف جو زہر اُگلا جاتا ہے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔پراپیگنڈا بازوں کا کہنا ہے کہ رینجرز اور آرمی اہل کاروں نے تحریک لبیک یا رسول اللہۖ کے مظاہرین میں بھاری رقم تقسیم کی اور یہ مظاہرہ مسلح افواج کے ایما پر ہوا۔ مزید بر آں عاصمہ جہانگیر اور پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے شیریں مزاری کی بیٹی نے مسلح افواج کے خلاف سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر جوہرزہ سرائی کی وہ کسی سے پو شیدہ نہیں۔میرا ایک قریبی صحافی دوست جو تھانوں سے رہا ہونے والے مظاہرین میں رینجرز کی طرف سے مالی معا ونت کرنے کے دوران بنفس نفیس موجود تھا اُنکا کہنا تھا کہ مختلف تھانوں میں مظاہروں کے دوران دور دراز سے آئے ہوئے جو لوگ پکڑے گئے تھے اُن میں اکثریت ایسی تھی جن کے پاس گھر جانے کے لئے واپسی کا کرایہ نہیں تھا اور اُنہوں نے رینجرز اور بعد میں ڈی جی رینجرز سے استد عا کی کہ اُنکے گھر جانے کے لئے مالی معاونت کی جائے۔ اس پر ڈی جی ر ینجرز نے تھانوں سے رہاہونے والے مظا ہرین میں اپنے جیب سے ایک ایک ہزار روپے تقسیم کئے ۔ مظاہرین نے ڈی جی رینجرز اور آرمی اہل کاروں کی انتہائی تعریف کی۔ یہ ڈی جی کی طرف سے ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں کئی مطلق العنان فوجی آمروں نے کچھ ایسے کام کئے جن کو اچھا نہیں کہا جا سکتا مگر اسکا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہر دو ر کی فوجی قیادت ماضی کی طرح ہوگی ۔گزشتہ تین چار سال سے میں یہ بات محسوس کر رہا ہوں کہ مسلح افواج اور قانون نا فذکرنے والے اداروں و اہل کاروں کے خلاف انتہائی زہریلا اور منفی پرپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جسکا مقصد پاکستانی افواج کو عوام میں بدنام کرنا ہے ۔امریکہ ، بھارت، اسرائیل اور دوسری اسلام اور پاکستان دشمن قوتیں یہی چاہتی ہے۔کیونکہ جب مسلح افواج اور عوام کے درمیان دوریاں ہونگی تو یہ پاکستان اور اسلام دشمن قوتوں کی کامیابی ہے۔اگر عالمی سطح پر پاکستان کی مسلح فواج کی ساکھ پر نظر ڈالیں تو پاکستانی آرمی اور خا ص کر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی دنیا میں پہلے نمبر پر ہے ۔ بھارت اور امریکہ خوف اور بو کھلاہٹ کی وجہ سے پاکستانی مسلح افواج اور آئی ایس آئی کے خلاف منفی زہریلا پروپیگنڈہ کر ر ہے ہیں۔ اگر ہم مختلف ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی رینکنگ کو دیکھیں تو اس وقت دنیا میں خفیہ ایجنسیوں میں پاکستانی "آئی ایس آئی" پہلے نمبر پر، بھارت کی" را" دوسرے، اسرائیل کی" موساد" تیسرے ، امریکہ کی" سی آئی اے "چوتھے، بر طانیہ کی "ایم آئی جی" پانچویں، روس کی" جی آر یو "چھٹے، چین کی" ایم ایس ایس" ساتویں ، جرمنی کی" بی اینڈ ڈی "آٹھویں، فرانس کی" ڈی ایس جی "نویں اور آسٹریلیا کی" اسس "دسویں نمبر پر ہے۔ اگر ہم ماضی قریب کا تجزیہ کریں تو عراق، لیبیا ، شام ، افغا نستان کے ساتھ امریکہ اور اتحادیوں نے جو کچھ کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اور سعودی عرب میں امریکہ کے ایما پر جو تبدیلیاں کی گئی ہیں وہ بھی شر سے خالی نہیں ۔ اب امریکہ اور اسرائیل کی نظریں پاکستان اور ایران پر ہیں۔اب وہ کسی نہ کسی طریقے سے سعودی عرب پاکستان اور ایران کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہود و ہنود کا سب سے پہلے ہدف کسی ملک میں اس ملک کی ثقافت ختم کرنا اورمسلح افواج اور عوام کے درمیان منفی پروپیگنڈے کے ذریعے خلیج پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ اور اب ہم دیکھتے ہیں کہ بھارت، امریکہ اور اسلام دشمن قوتوں کی طرح کچھ لبرل، قومیت پسند اور قادیانی پاکستانی آرمی کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔اگر ہم ما ضی اور ماضی قریب میں دہشت گر دی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج اور قانون نا فذکرنے والے اداروں کی قُربانیوں پر نظر ڈالیں تو انہوں نے وطن عزیز کی خاطر بُہت قُر بانیاں دی ہیں۔
یہ ایک تلخ تاریخی حقیقت ہے کہ ماضی اور موجودہ دور میں پاکستانی عوام پاکستان کے نام نہاد جمہوری حکمرانوں سے اتنے تنگ آگئے تھے کہ مجبو راً عوام فوج کو درخواست کرتے کہ وہ آجائیں۔ہر دور میں سویلین حکومتوں کے ختم ہونے پر مٹھائیاں بانٹی گئیں۔اگر واقعی سیاست دان ملک کا قبلہ درست کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنا قبلہ درست کریںتو پھر اسکے بعد فوج پر اُنگلی اُٹھائیں۔ جہاں تک جمہوریت اور جمہوری نظام کی بات ہے تو یہ نظام اُس وقت تک پاکستان میں انتہائی مو ثر انداز سے نہیں چل سکتا جب تک ملک میں تعلیم ، پارٹیوں کے اندر اور پا رٹیوں سے باہر احتساب نہ ہو تو اس وقت تک جمہو ریت کا حقیقی ثمر نہیں ملے گا۔ اگر ہم موجودہ دور حکومت پر نظر ڈالیں تو جتنی خرابیاں اس میں ہوئیں وہ کسی دور میں نہیںآئیں۔ ماڈل ٹائون میں منہا ج ا لقُر آن کے ١٤، افراد کی شہادت ، گلوبٹ جیسیگنیز بُک کے کردار ، تحریک لبیک پر پولیس تشدد، عدالتی فیصلوں اوراعلیٰ عدلیہ کے پانچ ججوں کے فیصلے کو نہ ماننا ، منی لانڈرنگ ،پاکستانی اقتصادیات کا بیڑا غرق کرنا ، جس کا اظہار صدر مامون حسین بھی کر چکے ہیں۔ کیا یہ سب اس دورمیں نہیں ہوا۔ اسمبلی کے ممبران قادیانیوں، امریکہ اور بھارت کو خوش کرنے کے لئے ناموس رسالتۖ کے قانون میں ترمیم کرنے کی کوشش نہ کرتے تو کسی مذہبی سیاسی پا رٹی والے نہ دھرنا دیتے اور نہ احتجاج کرتے ۔

اداریہ