Daily Mashriq

غلامی

غلامی

کہتے ہیں انسان کسی حال میں بھی خوش نہیں رہتا ! سردی کے موسم میں اسے سردی کی شدت تنگ کرتی ہے اور گرمیوں میں گرمی کی حدت سے نالاں رہتا ہے۔ جب دیکھو اس کے ہونٹوں پر فریاد ہی رہتی ہے گلے شکوے سے اپنی زبان کو ہر وقت آلودہ رکھتا ہے۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ شاید اس لیے کہ انسان کمزور ہے اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اس ماحول کو اپنانے کی سعی کرتا ہے لیکن جب اپنے چاروں طرف پھیلی ہوئی بے انصافیاں دیکھتا ہے تو مایوسیاں اسے گھیر لیتی ہیں۔ اسے اپنا آپ زنجیروں میں جکڑا ہوا محسوس ہوتا ہے وہ ان زنجیروں کو توڑنے کی ہزار کوشش کرتاہے مگر کامیابی نہیں ملتی کیونکہ اس کے آس پاس جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون رائج ہے اس کی ساری سوچ سارے فلسفے طاقت کے سامنے سرتسلیم خم کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ اپنے حالات بدلنے کی ہزار کوشش کرتا ہے لیکن اس کے چاروں طرف رینگتے خوفناک بچھو اسے دم مارنے نہیں دیتے ! وہ دیکھتا ہے کہ اس کے اردگرد سازشوں کے جال بنے جارہے ہیں وہ ان جالوں کے تانے بانے کو سمجھنے کے باوجود اسے کھول نہیں سکتا۔ جال کی ریشمی ڈوریوں نے اسے اس طرح اپنے حصار میںجکڑ رکھا ہے کہ ان کے شکنجے سے نکلنا اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہے!انسان کمزور ہے اس کی شخصیت میں موجود عیب ہی اسے کمزور بناتے ہیں اس کے خلاف جال بننے والا اس کی کمزوریوں سے واقف ہے وہ اس کے کمزور حصوں کو نشانہ بناتا ہے ۔ وہ اپنے اردگرد بڑی بے بسی کے ساتھ دیکھتا ہے بہت سے حالات و واقعات کا مشاہدہ کرتا ہے۔ بہت سی باتیں اس کی سمجھ میں آبھی جاتی ہیں لیکن طاقت کا خوف اسے زبان بند رکھنے پر مجبور کرتا ہے ۔یہ غلامی نہیں تو اور کیا ہے؟ حضرت انسان کی تاریخ اپنے اندر کتنے نشیب و فراز لیے ہوئے ہے اس تاریخ کو دیکھتے ہوئے ذہن مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے ۔ بہت پہلے خلیل جبران کا ایک مضمون نظر سے گزرا تھا۔ اس نے آدم کے بیٹوں کی تاریخ کو انسان ہی کی زبان سے بڑی وضاحت سے بیان کردیا ہے:''انسان زندگی کا غلام ہے اور یہ غلامی اس کے دنوں کو ذلت و خواری کے پردے میںلپیٹ دیتی ہے اور اس کی راتوں کو اشک و خون کے سیلاب میں غرق کردیتی ہے۔ میری پیدائش اولین کو سات ہزار برس ہوئے لیکن آج تک میں نے تسلیم پیشہ غلاموں اور طوق و سلاسل میں جکڑے ہوئے قیدیوں کے سوا کسی کو نہیں دیکھا۔ میں نے دنیا کے مشرق و مغرب کا سفر کیا، زندگی کی تاریکی اور روشنی کے گرد چکر لگائے، قوموں اور نسلوں کو گروہ در گروہ غاروں سے نکل کر محلوں میں جاتے دیکھا، لیکن ہنوز دبی ہوئی گردنوں، زنجیروں میں جکڑی ہوئی کلائیوں اور بتوں کے سامنے جھکے ہوئے گھٹنوں کے سوا اور مجھے کچھ نظر نہ آیا۔ میں شاہی محلوں مدرسوں اور عبادت گاہوں میں گیا۔ قربان گاہوں اور مندروں کے سامنے کھڑا ہوا اور دیکھا۔مزدور تاجر کا غلام ہے اور تاجر سپاہی کا، سپاہی سپہ سالار کا غلام ہے اور سپہ سالار بادشاہ کا(آج بادشاہ سپہ سالار کا غلام ہے)۔ میں امیروں اور طاقت وروں کی حویلیوں میں داخل ہوا، غریبوں اور کمزوروں کی جھونپڑیوں میں گیا ہاتھی دانت کی تصویریں اور طلائی سازوسامان سے سجے ہوئے کمروں میں بیٹھا، یاس و نومیدی کی پرچھائیوں اور موت کے سانسوں میں مکدر کوٹھڑیوں میںٹھہرا اور دیکھا بچے دودھ کے ساتھ غلامی کا زہر پی رہے ہیں۔لڑکے ا ، ب، ت کے ساتھ انکسار اور خاکساری کا سبق سیکھ رہے ہیں۔ لڑکیاں عاجزی اور وفا شعاری کے راستہ پر لگے ہوئے لباس پہن رہی ہیں اور عورتیں اطاعت و فرمانبرداری کے بستروں پر سو رہی ہیں۔ غلامی کی جتنی قسمیں اور صورتیں میں نے دیکھی ہیں بہت عجیب ہیں۔رنگ برنگی غلامی۔۔جو اشیا کو ان کی واقعی قیمت ادا کیے بغیر خریدتی اور انہیں ان ناموں سے پکارتی ہے جو ان کے اصلی ناموں سے مختلف۔۔۔ بلکہ ان کی ضد ہیں چنانچہ وہ مکاری کو عقل مندی،بکواس کو معرفت، کمزوری کو نرم دلی اور بزدلی کو انکار وبے نیازی سے تعبیر کرتی ہے۔خمیدہ غلامی۔۔ جو کمزوروں کی زبان کو خوف و دہشت کے زیر اثر جنبش دیتی ہے چنانچہ وہ ایسی باتیں کہتے ہیںجنہیں وہ نہیں سمجھتے ان چیزوں کا اظہار کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں اور بیچارگی کے ہاتھوں میں کپڑے کے اس تھان کی مثال ہوجاتے ہیں جسے جب چاہو لپیٹ لو اور جب چاہو کھول دو۔ کبڑی غلامی۔۔جو ایک قوم کو دوسری قوم کے قوانین کی طرف لے جاتی ہے۔جب میں تھک کر ایک جگہ بیٹھ گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک نازک سایہ سورج پر نگاہیں جمائے تنہا چلا جارہا ہے میں نے اس سے پوچھا: تو کون ہے؟ اور تیرا نام کیا ہے؟ اس نے جواب دیا''آزادی''! میں نے پھر سوال کیا : اور تیرے بیٹے کہاں ہیں؟''ایک سولی پر چڑھادیا گیا، اور دوسرا دیوانہ ہو کر مرگیا ، اور تیسرا ابھی پیدا نہیں ہوا''یہ کہہ کر وہ پیچھے مڑا اور میری نگاہوں سے روپوش ہوگیا۔

اداریہ