Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات


شیخ سعدی فرماتے ہیںکہ ایک دفعہ بزرگوں کے ایک گروہ کے ساتھ میں کشتی میں بیٹھا تھا ہمارے پیچھے ایک چھوٹی کشتی ڈوب گئی اوران میں سوار دو بھائی ایک بھنور میں پھنس گئے میرے ساتھی بزرگوں میں سے ایک نے ملا ح سے کہا کہ جلد دونوں بھائیوں کو بچائو تجھے ہر ایک کے عوض پچاس دینار دوں گا۔ ملاح پانی میں کود پڑا اور ایک بھائی کو بھنور سے بچالینے میں کامیاب ہوگیا۔ لیکن دوسرا ہلاک ہو گیا۔ میں نے کہا کہ ان کی زندگی با قی نہ رہی تھی اس لئے تونے اس کو پکڑنے میں سستی کی اور دوسرے کے پکڑنے میں بڑی پھرتی دکھائی۔ ملاح ہنس پڑا اور کہا کہ جو کچھ تو نے کہا ہے درست ہے لیکن ایک دوسرا سبب بھی ہے میں نے کہا کہ وہ کیا' کہنے لگا کہ اس کو بچانے کی خواہش میرے دل میں زیادہ تھی کیونکہ ایک دفعہ میں جنگل میں سخت تھک گیا تھا اس نے مجھے اپنے اونٹ پر بٹھایا جبکہ دوسرے کے ہاتھ سے میں نے لڑکپن میں ایک کوڑا کھایا تھا میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص نیک کام کرتا ہے وہ اس کی اپنی ذات کے لئے فائدہ مند ہے اورجو شخص برا کام کرتا ہے اس کی برائی بھی اسی پر ہے۔ آ ج اگر ہم کسی سے برا سلوک کریںگے تویہ بات ذہن میں رہے کہ کل کو ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ اس کا بدلہ ہم سے لیا جاسکتا ہے۔
سیدنا عمر کے خادم اسلم بیان کرتے ہیں: ایک دفعہ سیدنا عمر فاروق نے اپنے ایک غلام کو ایک سرکاری چراگاہ کا نگران مقرر کیا اور اسے کام سے متعلق ہدایات دیتے ہوئے فرمایا: ''مسلمانوں سے نرم رویہ اختیار کرنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت جلد قبول ہوتی ہے۔ اونٹوں اور بکریوں والوں کو اس چراگاہ میں آنے سے نہ روکنا۔ عبدالرحمن بن عوف اور عثمان بن عفان کے جانوروں کو بھی اس سرکاری چراگاہ میں چرنے دینا کیونکہ اگر ان دونوں کے جانور ہلاک ہوگئے تو یہ لوگ کھیتی باڑی اور کھجور کے باغات کی طرف رجوع کریں گے اور لڑائی کے لئے نہیں نکل سکیں گے جبکہ ہمیں جہادی معرکوں میں ان جیسے بہادر لوگوں کی سخت ضرورت رہتی ہے۔ اونٹوں اور بکریوں کے ریوڑ بھوک کے باعث ہلاک ہوگئے تو ان کے مالکان اپنے بچوں سمیت میرے پاس آجائیں گے اور کہیں گے کہ امیر المؤمنین! ہماری حاجت پوری فرمائیے! ایسی صورت میں کیا میں انہیں خالی ہاتھ واپس بھیج سکتا ہوں؟ آج ان چراگاہوں کے لئے پانی اور گھاس کی فراہمی حکومت کے لئے آسان ہے لیکن جب ان کے جانور نہ رہیں گے اور یہ محتاج ہو جائیں گے تو پھر انہیں بیت المال سے سونا اور چاندی امداد کے طور پر دینا پڑے گا۔ اگر کسی کو کم امداد ملی تو یہ لوگ خیال کریں گے کہ میں ان پر ظلم کر رہا ہوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ان چراگاہوں پر خرچ کرکے لوگوں کو جہاد کے لئے تیار کرتا ہوں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں ان کے شہروں کی قیمتی زمین کو کبھی چراگاہ کے طور پر استعمال نہ کرتا''۔
(تاریخ الاسلام للذہبی عھد الخلفاء الراشدین)

اداریہ