Daily Mashriq

طلبہ نعرے اور یونین کی بحالی کا معاملہ

طلبہ نعرے اور یونین کی بحالی کا معاملہ

وزیراعظم عمران خان نے جامعات میں طلبہ یونین کی بحالی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹیاں مستقبل کے لیڈرز کو پروان چڑھاتی ہیں اور طلبہ یونینز مستقبل کے لیڈرز بنانے میں اہم ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان یونیورسٹیز میں طلبہ یونینز پُرتشدد بن چکی ہیں، طلبہ یونینز کی بحالی کیلئے جامع ضابطہ اخلاق مرتب کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ضابطہ اخلاق کیلئے بین الاقوامی جامعات کے تجربے سے استفادہ کریں گے۔ یاد رہے کہ طلبہ یونین کی بحالی کیلئے ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ نے29نومبر کو احتجاج کیا تھا، دیگر شہروں کی طرح لاہور میں بھی ناصر باغ مال روڈ پر مختلف طلبہ تنظیموں کے زیراہتمام ریلی نکالی گئی تھی جس میں طالبات نے بھی شرکت کی تھی۔ اسلام آباد، کراچی سمیت دیگر شہروں میں طلبہ نے یونین کی بحالی کیلئے مظاہرے کئے تھے۔ اگرچہ طالبعلموں کی جانب سے ایک ملفوف قسم کا مظاہرہ کیا گیا اور وہ ایک خاص طرزعمل کا مظاہرہ کر رہے تھے اور انقلابی اشعار گا رہے تھے اس ماحول میں طلبہ یونین کی بحالی کے بھی مطالبات ہورہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ طلبہ کی جانب سے اس طرح کا مظاہرہ اور طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبات کیساتھ ساتھ نوجوان ملک میں مختلف پابندیوں اور رویوں کیخلاف بھی اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ایک جانب سے طلبہ جن مطالبات کو لیکر سامنے آئے ہیں ان میں مختلف قسم کی آزادیوں کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ معاشرے میں پابندیاں اور گھٹن اتنی بڑھ گئی ہے کہ نوجوان ایک ایسے انقلاب کی ضرورت محسوس کررہے ہیں جس میں ان کو کم ازکم آئین میں دی گئی آزادیاں تو میسر آئیں، ان کو محض ایک خاص قسم کے رنگ کی وجہ سے کسی سابقہ انقلاب سے جوڑنے یا پھر ان کو دباؤ میں لانے کا رویہ اسلئے مناسب نہیں کہ پہلے بول کہ لب آزادی ہیں تیر ے ہی کا طریقہ رائج تھا مگر اب میشنی ناطقین کا ساماں اتنا عام اور اس کے بہ آسانی استعمال ورسائی کے مواقع ہیں جن کو روکنے کی مساعی لاحاصل اور ہیچ دکھائی دیتی ہیں اور یہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کی صورت بنتی جارہی ہے۔ مخصوص رنگ سے خود کو جوڑنے والوں کے مقابلے میں طلبہ کا دوسرا مضبوط گروہ بھی سامنے آنا فطری امر ہے، ماضی میں یہ ایک دوسرے کی ضد ضرور تھے اب بھی نظریاتی طور پر ایسا ہی ہے لیکن اب آزادی واظہار کے طور طریقوں میں تبدیلی اور معاشرے میں آزادیٔ رائے کی آزادی کی وکالت وشعور میں اضافے کی بناء پر نظریات میں مقابلہ تو ہوگا تصادم کی نوبت نہیں آئے گی جس کی بناء پر ہر گروپ کو اپنی سوچ کو آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔ اگر دیکھا جائے تو بادی النظر میں ایک تسلسل کیساتھ ملک میں ایک خاص قسم کی سوچ کافی تیزی سے پروان چڑھی ہے جس کا جتنا جلد ادراک کیا جائے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ جہاں تک جامعات میں طلبہ یونینز کی بحالی کا سوال ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس پلیٹ فارم کی بحالی کے حامی ساری سیاسی جماعتیں بشمول تحریک انصاف بھی ہے اب تک طلبہ کے اس پلیٹ فارم کے منفی استعمال اور پُرتشدد بنانے، تعلیمی ماحول کو کسی حد تک خراب کرنے کے ذمہ دار طلبہ تنظیمیں ضرور رہی ہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو ان تنظیموں کا باقاعدہ سٹرکچر نہ ہونے کے باوجود بھی وجود باقی ہے۔ حال ہی میں زرعی یونیورسٹی پشاور میں طلبہ تنظیموں میں تصادم کے زخمی ابھی تک صحت یاب نہیں ہوئے ہیں، ان تمام حجتوں سے قطع نظر ہم سمجھتے ہیں کہ طلبہ تنظیموں کی بحالی ضرور ہونی چاہئے ان کیلئے ضابطہ اخلاق ضرور مرتب ہونا چاہئے البتہ سیاسی جماعتیں ان کو اپنی ذیلی تنظیموں کا بازوئے شمشیرزن قسم کا استعمال نہ کریں اور نہ طلبہ تنظیموں کو اپنی جماعت کی آئندہ قیادت اور تربیت یافتہ وتجربہ کار کارکنوں کی نرسری کے طور پر پالیں۔ ہر سیاسی جماعت اپنی ذیلی تنظیم کے طالب علموں کیلئے سٹڈی سرکل تقریری مقابلے اور ماڈل اسمبلیوں کا بندوبست کریں جہاں ان کی صلاحیتوں کو جلا ملے اور وہ اچھے طالب علم برداشت وحوصلہ رکھنے والے کارکن اور اچھے شہری بن کر تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوں اور معاشرے میں اپنا مقام حاصل کریں۔

متعلقہ خبریں