Daily Mashriq

وسیع تر مشاورت کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت

وسیع تر مشاورت کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت

آرمی ایکٹ میں ترمیم کیلئے حکومت کی جانب سے تین وزراء پر مشتمل کمیٹی کا قیام اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت ورابطے سنجیدہ طرزعمل ہے۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا حکومت کو اچھا سا ڈرافٹ لانے اور حزب اختلاف کو دھمکیاں دینے کی بجائے حزب اختلاف سے مشاورت کا مشورہ موزوں اور قابل عمل ہے۔ وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹینکالوجی فواد چوہدری نے خلاف توقع حزب اختلاف کو ساتھ لیکر چلنے اور اداروں کے درمیان مکالمہ کے ذریعے نئی ڈیل کا مشورہ دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گو کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم وتبدیلی کے حوالے سے بیشتر سیاسی جماعتوں کا رویہ غیرموافقانہ ہونے کی توقع نہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنما کا عندیہ بھی واضح ہے۔ حکومت کے بعض اراکین بھی معاملے کو احسن طریقے سے نبھانے کے حق میں ہیں لیکن وزیراعظم کی طرف سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد جس قسم کا اظہارخیال سامنے آرہا ہے اس سے تنازعات جنم لینے کی فضا ہموار ہورہی ہے جو حکومت کے مفاد میں نہیں۔ قانونی ماہرین کی اس حوالے سے ایوان میں دوتہائی اکثریت کی حمایت اور سادہ اکثریت سے بقدرضرورت ترمیم کی گنجائش کی آراء ہونے سے قطع نظر دیکھا جائے تو حکومت کو ایوان چلانے اور معاملات کو آگے بڑھانے کیلئے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے علاوہ بھی حمایت درکار ہے۔ الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ممبران کی تقرری کے ذریعے اس اہم آئینی ادارے کو فعال رکھنے کیلئے تو حزب اختلاف کا اتفاق لازم وملزوم ہے جب تک ملک میں سیاسی اتحکام اور اداروں کے عزت ووقار، تحفظ اور ان کی فعالیت کے تقاضوں کو مکمل نہیں کیا جاتا۔ اچھی حکمرانی اور بیوروکریسی کو کام کرنے کی فضا کی فراہمی ممکن نہیں بے یقینی کی کیفیت کسی بھی ادارے اور سرکاری مشینری کو کم فعال رکھنے کا باعث ہونا فطری امر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خواہ وہ آرمی ایکٹ میں ترامیم ہوں، الیکشن کمیشن میں تقرریاں ہوں یا کوئی اور قانون سازی جمہوریت میں حزب اختلاف کا کردار ہر مرحلے پر اہم ہوتا ہے۔ بہتر ہوگا کہ حکومت اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں سے بھی رابطہ کرے اور ملک میں ایسی سیاسی فضا قائم کی جائے جس میں ضروری معاملات معطل ہونے کی نوبت نہ آئے۔

پانی کے ضیاع کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات ناگزیر ہیں

اگرچہ عندیہ دیا گیا تھا کہ سرکاری سٹیشنوں پر پانی کے ضیاع کی روک تھام کی جائے گی اور پانی کے ضیاع پر جرمانہ عائد کیا جائے گا لیکن اس کے باوجود صورتحال اب بھی یہ ہے کہ پشاور سمیت مضافاتی علاقوں میں سروس سٹیشنوںکے قیام میں تیزی سے اضافہ سے گاڑیوں کی دھلائی کے د وران روزانہ لاکھوں گیلن پانی ضائع ہو رہا ہے جبکہ سروس سٹیشنوں سے نکلنے والے پانی کی وجہ سے نکاس کے نالے بھی متاثر ہورہے ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے احکامات کی روشنی میں پشاور کے تمام سروس سٹیشنوں کو معائنہ کے بعد گائیڈ لائنز دینے کے ایک سال سے زائد گزرنے کے باوجود بھی مذکورہ رہنماء اصولوں پر عمل نہیں کیا جاسکا ہے۔ محکمہ بلدیات کو خود اس امر کا اعتراف ہے کہ مسئلہ بہت گمبھیر ہو رہا ہے کیونکہ پانی کے بے مقصد استعمال کی وجہ سے زیرزمین پانی کی سطح بتدریج گھٹ رہی ہے اور شہریوں کیلئے صاف پانی کم ہورہا ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ہمارے سرکاری اداروں کو نہ تو حکومتی ہدایات واحکامات کا پاس ہے اور نہ ہی وہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سنجیدہ ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے احکامات کو بھی ہوا میں اڑا کر توہین عدالت کے مرتکب ہونے کا بھی خیال نہیں یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس کا وزیرعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو ازخود سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔ عدالت کا کام احکامات دینا ہے اس پر عملدرآمد حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو نہ صرف سروس سٹیشنوں کے حوالے سے عدالت کے احکامات کی عدم تعمیل کا نوٹس لینا چاہئے بلکہ نہروں میں گٹرلائن نہ ڈالنے کے احکامات پر بھی عدم عملدرآمد کا نوٹس لیں۔ جہاں تک صوبائی دارالحکومت میں پانی کے ذخائر کی کمی اور پانی کی سطح نیچے جانے کا سوال ہے اس کا تقاضا صرف سروس سٹیشنوں اور پانی کا کمرشل استعمال کرنے والوں کو پابند قانون بنا کر حل نکالنے کی ہی ضرورت نہیں بلکہ پانی کے گھریلو استعمال میں کفایت لانے اور پانی کا ضیاع روکنے کیلئے واٹر کنکشنوں پر میٹر لگانے کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ پانی کا ضیاع روکنے کیلئے گھروں سے سڑکوں اور گلیوں پر پانی بہانے والے صارفین کو جرمانہ کیا جائے۔ سکولوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پانی کا کفایت سے استعمال کے حوالے سے احادیث مبارکہ کی روشنی میں بچوں میں شعور اُجاگر کیا جائے۔ پشاور کی بڑھتی آبادی اور قدرتی وسائل پر لڑنے والے اس کے اثرات کا جائزہ لیکر بروقت اقدامات نہ کئے جائیں تو اس کا خمیازہ ہماری آئندہ نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔

سگریٹ کی کھلے عام پرچون پر فروخت

کم عمر افراد کو سگریٹ کی فروخت پر پابندی کی خلاف ورزی اور سگریٹ کی پرچون فروخت کے باعث نوجوان سگریٹ بہ آسانی حاصل کر لیتے ہیں جو تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کی بجائے اُلٹا اس کی حوصلہ افزائی اور سگریٹ نوشی کی عادت کو فروغ دینے کا باعث معاملہ ہے۔ صوبے میں جعلی سگریٹ کی فروخت اور کم قیمت پر سگریٹ کی دستیابی بھی اپنی جگہ توجہ طلب معاملہ ہے، سگریٹ نوشی کا اگلا مرحلہ منشیات کی عادت کی آتی ہے، معاشرے میں منشیات کے استعمال میں اضافے کی ایک وجہ سگریٹ نوشی بھی ہے۔ روزبروز سنگین سے سنگین تر ہوتی صورتحال کا تدارک نہ کیا گیا تو یہ لعنت ہماری نوجوان نسل کو بری طرح متاثر کرے گی۔

متعلقہ خبریں