Daily Mashriq

انفرادی سوچ یا ہندو مائنڈ؟

انفرادی سوچ یا ہندو مائنڈ؟

بھارت کے ایک ٹی وی ٹاک شو میں فوج کے سابق جنرل ایس پی سنہا نے کشمیر میں فوج کی طرف سے خواتین کی عصمت دری کی حمایت کی۔ ایس پی سنہا چیخ چیخ کر درندگی کی حمایت کرتے رہے جبکہ پروگرام کی میزبان اور دیگر شرکاء بھی جنرل کے اس روئیے پر احتجاج کئے بنا نہ رہ سکے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھارتی جنرل کی اس ویڈیو کو ٹویٹر پر اس تبصرے کیساتھ اپ لوڈ کیا ہے کہ بھارتی جنرل کا مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے حوالے سے بیان شرمناک ہے۔ جس طرح بھارتی فوج کو چھوٹ دی گئی ہے اس سے خواتین سے ہونیوالے سلوک کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایس پی سنہا بی جے پی کا سرگرم رکن بتایا جاتا ہے۔ بھارتی فوج کے جنرل اور بی جے پی کے رکن کے طور پر یہ بیان ایک شخص کے ذاتی خیالات نہیں بلکہ ایک مائنڈ سیٹ کے عکاس ہیں۔ اس وقت بھارت فوج میں اسی ذہنیت کا غلبہ ہے اور اب یہی ذہنیت حکومتی سسٹم پر بھی غالب آگئی ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی نوے کی دہائی کے اوائل میں ہی اپنائی تھی۔ اس سلسلے میں کنن پوش پورہ کا واقعہ رونما ہوا تھا جس میں بھارت کے وحشی فوجیوں نے ایک گاؤں میں بارہ سال کی بچی سے اسی سالہ خاتون تک کی عصمت دری کی تھی۔ یہ واقعہ بھارت کی جمہوریت اور سیکولرازم کے ماتھے پر کلنک کا ایسا ٹیکہ تھا جسے تین عشروں بعد بھی دھویا نہ جا سکا۔ یہ واقعہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کا موضوع بنا تھا، اس کے بعد بھی بھارتی فوج نے خواتین پر مظالم کا سلسلہ جاری رکھا۔ اب بھارتی فوج کا ایک ریٹائرڈ جنرل اس درندگی کا کھلے عام دفاع کر رہا ہے تو اس میں اچنبھا نہیں ہونا چاہئے۔ بھارتی حکومت اور فوج مسلمانوں کی بدترین دشمنی کا شکا رہے، برطانیہ کے معروف سیاسی راہنما جارج گیلوے دو روز قبل اسلام آباد میں ایک عالمی کشمیر سیمینار میں کہہ رہے تھے کہ بھارت میں نسلی جنون اور بالادستی میں مذہبی عنصر بھی شامل ہوگیا ہے اور یہ بات بھارت کو تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے ہٹلر خالص نازی نسل پرستی میں مبتلا تھا، اس کی قوم پرستی اور نسل پرستی میں مذہب کا عنصر شامل نہیں تھا۔ اس کے برعکس مودی کی نسل پرستی فی الحقیقت ہندوازم اور بالادستی کا نام ہے۔ بھارتی قونصلر نے امریکہ میں مقیم کشمیری پنڈتوں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بہت کھل کر ان عزائم کو یوں بیان کیا ہے۔ ''اگر اسرائیل کشمیر میں یہودیوں کی نئی بستیاں آباد کر سکتا ہے تو بھارت کشمیر میں ایسا کیوں نہیں کر سکتا۔ ہم کشمیری پنڈتوں کو اسرائیلی طرز پر وادی میں بسانے کا ایک منصوبہ رکھتے ہیں مگر حکومت کو اس مقصد کی تکمیل کیلئے کچھ وقت دینا ہوگا، جب کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہوگی تو پناہ گزینوں کی واپسی شروع ہوجائے گی اور پنڈت اپنی زندگی میں واپس آنے کے قابل ہوں گے۔ ہم اس کا ماڈل دنیا میں رکھتے ہیں۔ بیرونی دنیا میں بسنے والے کشمیری پنڈتوں کو اگر اپنا کلچر چھن جانے کا خوف ہے تو بھی انہیں یہودیوں کی مثال سامنے رکھنا ہوگی جو دوہزار سال تک اپنے وطن سے باہر رہے مگر اپنے کلچر کو بچائے رکھا یہاں تک کہ وہ وقت آن پہنچا جب انہیں اپنی سرزمین واپس مل گئی۔ اسلئے اپنی سرزمین سے باہر رہتے ہوئے اپنا کلچر بچانے کا طریقہ یہودیوں سے ہی سیکھنا چاہئے۔ ہمیں کشمیری کلچر کو زندہ رکھنا ہے جو ہندو کلچر ہے، انڈین کلچر ہے''دنیا کے اہم ملک میں بھارت کے ایک اہم سفارتکار کے یہ خیالات شیوسینا کے کسی نعرہ باز کی دیوانے کی بڑ اور نعرہ مستانہ نہیں کہلا سکتے۔ یہ ریاست کے اندر پلنے والے ہندو ذہن کا ایکسرے ہے۔ کشمیر میں بھارتی عزائم اور ارادوں کو طویل المیعاد قرار دینے والوں کی کمی نہیں رہی مگر ایک خوش فہم حلقہ ہمیشہ اس سوچ میں خوش رہا کہ بھارت کشمیر کی کشمیریت اور کشمیریوں کی سیاسی اور تہذیبی شناخت کا محافظ ہے اور بن کر رہے گا۔ یہی خوش فہم عناصر یہ سمجھتے تھے کہ مذہب کی بنیاد پر قائم ہونے والے پاکستان کی نسبت سیکولر ہندو جمہوریہ بھارت کیساتھ رہنے سے کشمیر کا مخصوص اور منفر د کلچر زیادہ محفوظ ومامون رہ سکتا ہے۔ یہ محض خام خیالی ثابت ہوئی اور بھارت نے کشمیر پر قبضے کے بعد ہی اس کی الگ شناخت اور شناخت کی علامتوں کو مٹا ڈالنے کی حکمت عملی اپنالی تھی۔ بھارت کشمیر کو ''اکھنڈ بھارت'' اور مہابھارت کا حصہ سمجھتا تھا۔ اس حتمی منزل تک پہنچنے کیلئے حکمت ومصلحت کے تحت کبھی سبک رفتاری سے اور کبھی خراماں انداز میں سفر جاری رکھا گیا۔ اب بھارت نے ان تمام قوانین اور مواعید کو دریائے جہلم میں بہا کر کشمیر کی ''ہندووائزیشن'' کی راہ کی آخری رکاوٹوں کو بھی غرقاب کر دیا گیا۔ دفعہ370 اور آرٹیکل35A کا خاتمہ ان رکاوٹوں کا کریا کرم ثابت ہوا۔ اب بھارت اپنے تئیں یہ سمجھتا ہے کہ کشمیر کو سلطان زین العابدین اور سلطان شہاب الدین کے مسلم سلاطین کی دور سے کاٹ کر کشپ رشی اور ہندو مت کے کشمیر سے جوڑنے کیلئے عملی اقدامات کا وقت آگیا ہے۔ اس کیلئے آبادی کا تناسب تبدیل کرنا سب سے آسان طریقہ ہے اس لمحہ کے آنے سے قبل پاکستان، آزادکشمیر، بیرونی دنیا میں بسنے والے کشمیری وپاکستانی عوام کو اپنی موثر اور ٹھوس جوابی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ بصورت دیگر وقت ہماری آنے والی نسلوں کیلئے ایک اور ''سقوطِ غرناطہ'' کی منظرنگاری کرنے پر مجبور ہوگا جس میں نصاب اور تاریخ میں فقط یہ پڑھایا جائے گا کہ کشمیر نام کی ایک مسلم اکثریتی ریاست کی آبادی، شناخت، ثقافت اور تہذیب کو اپنوں کی بے عملی نے کس طرح وقت کے پیٹ کا ایندھن بنا دیا تھا؟۔

متعلقہ خبریں