Daily Mashriq

اشیائے خورد ونوش اور ریاست مدینہ

اشیائے خورد ونوش اور ریاست مدینہ

موجودہ اور سابقہ حکومتوں میں کبھی بھی اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں توازن نہیں رہا۔ اس کی وجہ ایک یہ ہے کہ حکومتی ارکان اور بیوروکریٹس کی کبھی اس میں دلچسپی نہیں رہی، سوال یہ ہے کہ یہ لوگ اس میں دلچسپی کیوں نہیں لیتے۔ یہ لوگ اس حد تک صاحب حیثیت ہوتے ہیں کہ یہ اپنے گھر کی گروسری خود نہیں خریدتے اور نہ ہی ان کی بیگمات لیتی ہیں کیونکہ ان کو بیوٹی پارلر اور ڈریس ڈیزائنر کے ہاں سے فرصت نہیں ہوتی۔ تو پھر ان کے لیے سبزی گوشت کون لیتا ہے؟ یہ ذمے داری ان کے خانساماں کی ہوتی ہے شام کو حساب کتاب کرلیا جاتا ہے۔ گوشت تیرہ سو روپے کلو ہو یا ٹماٹر تین سو روپے کلو ہو، ان کو پروا نہیں ہوتی۔ مگر ہوتی ہے مڈل کلاس کے لوگوں کو انہیں اپنی سفید پوشی کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے اور زندہ بھی رہنا ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر اس بربادی کا ذمے دار کون ہے۔ کیا ہم حکومتوں کو اس کا ذمے دار ٹھیرائیں یا ان لوگوں کو جو حکومتیں چلاتے ہیں۔ آپ بھی یہیں رہتے ہیں اور راقم یہیں ہوتا ہے کبھی آپ نے سنا ہے کہ محکمہ زراعت اور محکمہ مال (روینیو ڈیپارٹمنٹ)کے افسران ان چھوٹے کاشت کاروں کے پاس گئے ہوں جو سبزیاں کاشت کرتے ہیں ان کے مسائل سنے ہوں کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ فلاں تحصیل کا اے سی ہفتہ وار کاشت کاروں کے مسائل سنتا ہو، ایسا کچھ بھی نہیں ہے ہم میں سے بہت سے لوگوں کو یہ علم ہی نہیں ہے کہ سبزیوں کے بیج کہاں سے آتے ہیں۔ ہمارے کاشت کار تقریبا امپورٹڈ بیج پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ ہم نے بیج کو محفوظ کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی۔ ہمارے ایگری کلچر کے تحقیقی اداروں کے افسران بنگلوں اور سرکاری گاڑیوں کی ساخت پر تحقیق کرتے رہے۔ خدا ان سے پوچھے گا تحقیق کے نام پر ایک کھلواڑ کیا گیا۔ دنیا کو یہ بتاتے ہوئے شرم آتی ہے کہ ہم ایک زرعی ملک ہیں۔ سینے پہ ہاتھ مار کر کیمسٹری کے ماہرین اپنا گریڈ جتاتے ہیں دوسری طرف ہم ابھی تک زرعی اسپرے بنانے سے قاصر ہیں۔ غریب کسان آج بھی یہ سب کچھ امپورٹ کر رہا ہے۔ یہ افسران شکر کریں سیاستدانوں کا کہ جنہوں نے ان غریب مزدوروں اور کسانوں کی سیاسی بصیرت کو دفنا دیا ورنہ ان غریبوں کا ہاتھ ہوتا اور افسران کا گریبان۔ تہجد وقت اٹھ کر کھیت کھلیانوں کو پانی دینا اور پھر اسی کسان کو صحیح معاوضہ نہ ملے تو پھر بگاڑ کی طرف معاملات چلتے ہیں۔ یہی کسان مزدور گائوں دیہاتوں سے نکل کر شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ مرد گارڈ بن جاتا ہے تو اس کی عورت کسی بنگلے میں ماسی۔ اب سبزیوں کی چنائی ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔ نفری نہ ہونے کی وجہ سے بھی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔

ابھی بھی وقت ہے حکومت اور بیوروکریسی مل کر بیٹھے۔ ہنگامی بنیاد پر فصلوں کا کوٹا مختص کیا جائے۔ گائوں دیہات کے قریبی علاقوں میں ہاسنگ سوسائیٹیوں پر پابندی عائد کی جائے۔ کسانوں کو بغیر ٹیکس بیج فراہم کیے جائیں اس کیساتھ ساتھ حکومت خود Costing کرے کہ غریب کسان کو کتنا بیج دینا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں مضارع کو کچھ نہ ملے اور وڈیرے سب کچھ لے جائیں۔ اس کے علاوہ دو نمبر طریقے سے پی ایچ ڈی کرنے والے زرعی ماہرین کو بے نقاب کیا جائے۔ کسانوں کے علاوہ ایک اور طبقہ بھی ہے جو سبزیوں کی قیمتوں میں اتار چڑھا کا باعث بنتا ہے۔ وہ ہیں سبزی منڈی کے آڑتھی بھلے کاشت کار کو کچھ بچے یا نہ بچے آڑتھی اپنا کمیشن پکا کرلیتے ہیں۔ اور پھر انتہائی مہنگے داموں ریٹیلر کو دیتے ہیں۔ یوں کاشت کار کے ہاتھوں پانچ روپے کلو ٹماٹر جمہوریت کا سفر طے کرتے ہوئے دو سو روپے پر جاپہنچتا ہے۔ آج تک کسی حکومت نے منڈیوں کی مانیٹرنگ کا طریقہ کار نہیں اپنایا۔ گا ئوں میں بیٹھے اللہ دتا کے پاس کراچی اسٹاک ایکسچینج کا ریٹ تو آجاتا ہے پر اسے یہ نہیں پتا ہوتا کہ قریبی منڈی میں مٹر کا کیا ریٹ ہے۔

دنیا کا یہ اصول ہے کہ منڈی سے دوکان تک اجناس سستے طریقے سے پہنچائی جائیں۔ ہمارے ہاں ہزاروں روپے ضائع کرکے چند من سبزی لوڈر گاڑیوں میں لائی جاتی ہے۔ جس بیوروکریٹ نے کراچی سبزی منڈی اسپیشل ریل کے راستے ڈیزائن کردئیے یہ بیچارہ بھی اس امید پر ہوگا کہ سائنس کا اگلا نوبل انعام اسے ملے گا۔ بڑے شہر کے اضلاع تک فروٹ اور سبزیاں ریل میں لانے سے لاگت اور کم ہوجاتی ہے۔ اگر پہلے کسی نے ایسا نہیں سوچا تو اب سوچ لیں ریاست مدینہ کی خاطر۔

متعلقہ خبریں